SHAWORDS
S

Shahzad Faiz

Shahzad Faiz

Shahzad Faiz

poet
1Shayari
4Ghazal

Popular Shayari

1 total

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

اب نہ ہولی ہے نہ دوالی ہے گویا تہذیب مٹنے والی ہے زندگی فرش پہ پڑی تھی اور میں نے آغوش میں اٹھا لی ہے سب مروت کے کھیت بنجر ہیں سارے گاؤں میں خشک سالی ہے خواہشوں سے بھرا ہوا ہے دل یہ الگ بات جیب خالی ہے اب تو سگریٹ بھی پی رہے ہو تم تم نے حالت یہ کیا بنا لی ہے سارے مجبور دینے والے ہیں کوئی جابر ہوا سوالی ہے مڑ کے آتے نہیں ہو گاؤں میں اپنی دنیا کہاں بسا لی ہے پھر سے جھرنا رواں ہے آنکھوں سے کوہ رخسار پر بحالی ہے فیضؔ اہل زبان کے نزدیک ایک بے وزن شعر گالی ہے

ab na holi hai na divaali hai

غزل · Ghazal

ہے کشادہ زمیں نکل جائیں خود کو ڈھونڈیں کہیں نکل جائیں یا تو سینے سے دل نکل جائے یا تو دل سے حسیں نکل جائیں اک گزارش ہے مہربانوں سے چھوڑ دیں آستیں نکل جائیں ہاں دوانوں کے آستانے سے سب ذہین و فطیں نکل جائیں یا تو دل دھو کے آئیں کعبے میں یا تو سب زائریں نکل جائیں ہم مری جان آپ کے دل سے اتنا آساں نہیں نکل جائیں بوڑھے والد سے نوجواں بیٹا کہہ رہا تھا کہیں نکل جائیں تیری آنکھوں کے فیضؔ موتی ہیں ہم کہ آنسو نہیں نکل جائیں

hai kushaada zamin nikal jaaein

غزل · Ghazal

آشیانے کی خیر ہو مولا ہر ٹھکانے کی خیر ہو مولا کالی آندھی کی پھر سے آمد ہے شامیانے کی خیر ہو مولا بستی والوں کے ہاتھ پتھر ہیں اک دوانے کی خیر ہو مولا خوں پسینہ لگا ہے فصلوں پر دانے دانے کی خیر ہو مولا اس زمانے کا اللہ حافظ ہے اس زمانے کی خیر ہو مولا آج کل وہ لگا ہے کوشش میں دور جانے کی خیر ہو مولا چکی چلتی رہے محبت کی کارخانے کی خیر ہو مولا

aashiyaane ki khair ho maulaa

غزل · Ghazal

قسم لے لو میاں کچھ بھی نہیں ہے ہمارے درمیاں کچھ بھی نہیں ہے میں پھرتا ہوں جسے سر پر اٹھائے اگر ہے آسماں کچھ بھی نہیں ہے مرے پھل پھول پتے جھڑ گئے ہیں تری خاطر خزاں کچھ بھی نہیں ہے میں پیاسا تھل ہوں اک نزدیک میرے ندی نالے کنواں کچھ بھی نہیں ہے تمھارے بعد پودے پیڑ جگنو پرندے تتلیاں کچھ بھی نہیں ہے یقیں تجھ کو اگر اسٹامپ پر ہے تو کیا میری زباں کچھ بھی نہیں ہے مقابل عشق کے میں آ گیا تھا مرا نام و نشاں کچھ بھی نہیں ہے تمھارے بن کہاں پازیب جھمکے انگوٹھی چوڑیاں کچھ بھی نہیں ہے ترے دم سے ہے گھر جنت وگرنہ یہ عالی شاں مکاں کچھ بھی نہیں ہے محبت میں وفاداری ارے واہ چلے جاؤ یہاں کچھ بھی نہیں ہے کہاں قلمیں دواتیں اور املا کہاں اب تختیاں کچھ بھی نہیں ہے بھلا کس کام کی آنکھیں ہماری اگر آب رواں کچھ بھی نہیں ہے میں وہ بچہ ہوں جس کی دسترس میں کھلونے ٹافیاں کچھ بھی نہیں ہے ہوا اذن سفر جب چل پڑیں گے ہمارا فیضؔ یاں کچھ بھی نہیں ہے

qasam le lo miyaan kuchh bhi nahin hai

Similar Poets