SHAWORDS
S

Shariq Merthi

Shariq Merthi

Shariq Merthi

poet
1Sher
1Shayari
5Ghazal

Sherشعر

Popular Sher & Shayari

2 total

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

yaad us ki hai bahut ji miraa bahlaane ko

یاد اس کی ہے بہت جی مرا بہلانے کو جس نے افسانہ بنایا مرے افسانے کو شام سے صبح ہوئی صبح سے پھر شام ہوئی دل نے جب چھیڑ دیا درد کے افسانے کو آ گئی یاد کسی کی نگہ مست مجھے ابھی ہونٹوں سے لگایا ہی تھا پیمانے کو اب نہ ساغر کی ہوس ہے نہ تمنائے بہار تیرے دامن کی ہوا مل گئی دیوانے کو لذت تشنہ لبی یاد جو آئی شارقؔ رکھ دیا میں نے اٹھا کر وہیں پیمانے کو

غزل · Ghazal

saari duniyaa jab gham-e-dauraan se ghabraa jaae hai

ساری دنیا جب غم دوراں سے گھبرا جائے ہے آپ کا دیوانہ تو اس دم بھی ہنستا جائے ہے اک گھڑی ایسی بھی آتی ہے تصور میں ترے جب خود اپنے جی سے تیرا حال پوچھا جائے ہے پوچھتے کیا ہو دل غم آشنا کے حوصلے یہ سفینہ وہ ہے جو طوفاں سے ٹکرا جائے ہے زیست کا انجام کیا ہے گردش دوراں ہے کیا ہاتھ میں ہو جام تو یہ کس سے سوچا جائے ہے بس ہی کیا ہے اپنا شارقؔ فطرت مختار پر جو دکھایا جا رہا ہے ہم کو دیکھا جائے ہے

غزل · Ghazal

main kis se jaa ke kahun apne iztiraab kaa haal

میں کس سے جا کے کہوں اپنے اضطراب کا حال یہاں کوئی بھی سکوں آشنا نہیں ملتا خلش جگر کی تڑپ دل کی سوز آنکھوں کا میں کیا بتاؤں محبت میں کیا نہیں ملتا چمن میں لالہ و گل ہوں کہ آسماں پہ نجوم کوئی بھی نقش یہاں دیر پا نہیں ملتا خود اپنی آبلہ پائی کا ہو نہ کیوں ممنون وہ راہ رو کہ جسے رہ نما نہیں ملتا

غزل · Ghazal

havaa badalte hi pahli si dilkashi na rahi

ہوا بدلتے ہی پہلی سی دل کشی نہ رہی یہ کیا ہوا کہ وہ پھولوں میں تازگی نہ رہی کسی کے درد محبت کے بخشنے کی تھی دیر پھر اس کے بعد کسی چیز کی کمی نہ رہی یہ سوچتا ہوں زمانے کا حال کیا ہوگا اگر دلوں میں محبت کی روشنی نہ رہی ترے بغیر بھی ہنسنے کو میں ہنسا ہوں مگر ہنسی کی طرح لبوں پر کبھی ہنسی نہ رہی مری نگاہ میں شارقؔ بہار ہے کچھ اور بہار گل پہ نہ جا یہ رہی رہی نہ رہی

غزل · Ghazal

ab to is bazm mein yuun nesh-zani hoti hai

اب تو اس بزم میں یوں نیش زنی ہوتی ہے پردۂ لطف میں خاطر شکنی ہوتی ہے دل کو دے جاتا ہے چپکے سے تسلی کوئی جب مری شام غریب الوطنی ہوتی ہے آدمی کے لئے آسان ہے عالم شکنی سخت دشوار مگر خود شکنی ہوتی ہے کس طرح کیجیے اب ان سے تغافل کا گلہ لب ہلاتے ہیں تو خاطر شکنی ہوتی ہے سامنے آ کے ذرا ہم سے ملاؤ نظریں کہیں پردے سے بھی ناوک فگنی ہوتی ہے جن پہ گزری ہے وہی اس کو سمجھ سکتے ہیں دل دہی سے بھی کبھی دل شکنی ہوتی ہے شام غم آتی ہے اک ایسی گھڑی بھی شارقؔ آپ خود اپنے پہ جب خندہ زنی ہوتی ہے

Similar Poets