vo jab dekhte hain kabhi meri jaanib
to main jaanib-e-aasmaan dekhtaa huun

Shifa Gwaliari
Shifa Gwaliari
Shifa Gwaliari
Popular Shayari
1 totalGhazalغزل
وہ پہلے سوچ لیں کھلتی ہوئی کلی کیا ہے جو سوچتے ہیں کہ ترکیب زندگی کیا ہے کدھر ہے غیرت غم کچھ مجھے سہارا دے وہ مجھ سے پوچھ رہے ہیں تری خوشی کیا ہے وفا کا راز نہ سمجھا سکا کوئی اب تک کہ اس کی کیا ہے حقیقت یہ واقعی کیا ہے یہی تو ہوتی ہے سارے رخوں کا آئینہ کوئی سمجھ کے تو دیکھے کہ بے رخی کیا ہے دم اخیر ہے کس کا خیال جلوہ فروز یہ میری موت کی حد میں حیات سی کیا ہے دراز عمر ہو اے جینے والے تیری مگر جو صرف اپنے لئے ہو وہ زندگی کیا ہے نہ جانے کیا ہو کہ میری ہی روشنی میں شفا خودی یہ سوچ رہی ہے کہ بے خودی کیا ہے
vo pahle soch lein khilti hui kali kyaa hai
خوشی کے بھی غم میں نشاں دیکھتا ہوں اندھیرے میں پرچھائیاں دیکھتا ہوں وہیں ان کو میں بے تکاں دیکھتا ہوں بغیر آنکھ اٹھائے جہاں دیکھتا ہوں نگاہ تجسس سے ہوتا ہوں نادم میں جب خود میں ان کو نہاں دیکھتا ہوں ادب کر مذاق نظارہ ادب کر نظر کو بھی کیوں درمیاں دیکھتا ہوں جبیں کی طرف آستاں بڑھ رہا ہے یہ میں آج خود کو کہاں دیکھتا ہوں وہ جب دیکھتے ہیں کبھی میری جانب تو میں جانب آسماں دیکھتا ہوں جو اپنی جگہ خود قفس بن گئے ہیں کچھ ایسے بھی میں آشیاں دیکھتا ہوں بہت رہبر و رہنما آئے لیکن جہاں تھا وہیں کارواں دیکھتا ہوں نتیجہ بھی جس کا شفاؔ امتحاں ہے عجب آج کا امتحاں دیکھتا ہوں
khushi ke bhi gham mein nishaan dekhtaa huun
یہ کیا کہا کہ جمال ان کا بے حجاب نہ تھا یہ ماہتاب نہیں تھا یہ آفتاب نہ تھا نہ ہے وہ دور جو مجروح انقلاب نہ تھا تمہارے حسن مرے عشق کا جواب نہ تھا جہان غم میں تصور بھی کامیاب نہ تھا شفاؔ ہماری قیامت میں آفتاب نہ تھا یہ تھا حجاب فریب اس کا یا فریب حجاب کہ بے حجاب تھا وہ اور بے حجاب نہ تھا وہ برہمی سے سہی مجھ کو دیکھ تو لیتے خراب تھا مگر اتنا تو میں خراب نہ تھا خطا معاف ہو وہ دن بھی یاد ہیں کہ نہیں ہمیں حجاب تھا اور آپ کو حجاب نہ تھا دل شفق سے لب گل سے چشم شبنم سے کہاں کہاں سے فروزاں ترا شباب نہ تھا شفاؔ وہ روتا نہ کیونکر گلوں کے ہنسنے پر جو غم نصیب کہ غم میں بھی کامیاب نہ تھا
ye kyaa kahaa ki jamaal un kaa be-hijaab na thaa
گلشن بہ دوش نظریں لب پر حسیں ترانہ ہر اک ادا ہے ان کی الفت کا اک فسانہ دیوانہ ساز گیسو انداز والہانہ ایمان لوٹتا ہے یہ رنگ کافرانہ مہکے ہوئے لبوں پر بہکا سا یہ تبسم پھولوں سے ڈھل رہا ہو جیسے شراب خانہ اب تک نگاہ میں ہے پہلی نگاہ ان کی ہنستی رہی محبت لٹتا رہا زمانہ تاروں کی بزم ہو وہ یا ہو گلوں کی محفل ہر ایک انجمن ہے ان کا ہی جلوہ خانہ ان کی نظر پناہیں خود دل میں لے رہی ہے بجلی کے سائے میں ہے اب میرا آشیانہ کیا ہو بیاں کسی سے تفسیر حسن و الفت شعلوں کی اک کہانی شبنم کا اک فسانہ دنیائے رنگ و بو میں یہ انقلاب رنگیں پھولوں کی ہیں جبینیں کانٹوں کا آستانہ مجھ کو شفاؔ مٹانا آساں نہیں ہے کوئی دیکھوں ذرا مقابل آئے مرے زمانہ
gulshan-ba-dosh nazrein lab par hasin taraana





