SHAWORDS
Shiv Om Misra Anvar

Shiv Om Misra Anvar

Shiv Om Misra Anvar

Shiv Om Misra Anvar

poet
1Sher
1Shayari
5Ghazal

Sherشعر

Popular Sher & Shayari

2 total

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

chyunTi se siikh leinge hunar us ke baa'd kyaa

چیونٹی سے سیکھ لیں گے ہنر اس کے بعد کیا جاتا رہے گا ہاتھی کا ڈر اس کے بعد کیا لڑتا رہوں گا موت سے میں تیرے واسطے جینا ترے لیے ہے مگر اس کے بعد کیا آئے تھے میرے در پہ دعا مانگتے ہوئے پھلنے لگے ہیں صاحب زر اس کے بعد کیا دن رات ٹوکنے کا کوئی فائدہ نہیں کچھ دن رہے گا تم پہ اثر اس کے بعد کیا دشواریوں میں ڈھونڈ لی ہے زیست کی کلید جاتا رہے گا موت کا ڈر اس کے بعد کیا ملتے نہیں ہیں غم یوںہی خیرات میں کبھی مل جائے مفت میں جو اگر اس کے بعد کیا

غزل · Ghazal

mukhaalif hai mere havaa in dinon

مخالف ہے میرے ہوا ان دنوں کرے گی وفا کیا بھلا ان دنوں کرے کون زحمت اٹھے بار بار پکارو نہ ہم کو ذرا ان دنوں مرض عشق کا لگ گیا ہے مجھے اثر کیا کرے گی دوا ان دنوں رقم بے وفائی کرے گا ابھی لکھے ہے غزل دل جلا ان دنوں ادھر نیند تم کو مبارک ہو دوست ادھر ہے فقط رت جگا ان دنوں

غزل · Ghazal

kaan mein aa ke koi shakhs sadaa detaa hai

کان میں آ کے کوئی شخص صدا دیتا ہے خوف موہوم کی شدت کو بڑھا دیتا ہے چاندنی رات میں دیدار ترے پرتو کا میرے فرہاد کو شیریں سے ملا دیتا ہے ہجر کی رات میں وہ کیف تصور تیرا جو ارادوں میں نیا جوش جگا دیتا ہے بات کرنے کا ترے رنگ برنگا لہجہ زندگی کو مری رنگین بنا دیتا ہے میرا حالات سے لڑ جانے کا جذبہ انورؔ میرے کردار کا معیار بڑھا دیتا ہے

غزل · Ghazal

havaa kaa kibr yahaan khaak mein milaa kar ke

ہوا کا کبر یہاں خاک میں ملا کر کے چراغ عشق جلا ہے لہو جلا کر کے کیا ہے ختم تفکر کا سلسلہ میں نے ہر ایک نقش تری یاد کے مٹا کر کے یہ کس کے بوجھ نے بے حال کر دیا مجھ کو شگفتہ پھول مری قبر پر چڑھا کر کے ترے غموں کی حرارت سے تر بہ تر ہو کر شراب پی رہا ہوں تلخیاں ملا کر کے کھڑا ہے سامنے میرے خلوص کا پیکر میں خوش بہت ہوں اسے زندگی میں پا کر کے

غزل · Ghazal

adaa-e-husn se baahar nikal bhi saktaa thaa

ادائے حسن سے باہر نکل بھی سکتا تھا وہ دیکھ کر مرے آنسو پگھل بھی سکتا تھا شجر نے چھاؤں برابر رکھی مرے اوپر وگرنہ دھوپ کا سورج نگل بھی سکتا تھا اٹھائے پھرتا میں کب تک تصورات کا بوجھ ترا خیال میرے ہوش چھل بھی سکتا تھا اسے جہان کے رنگوں نے کھا لیا ورنہ میں اس کے واسطے دنیا بدل بھی سکتا تھا طنابیں رشتوں کی ٹوٹیں گی ہم کو تھا معلوم مگر یہ مرحلہ کچھ وقت ٹل بھی سکتا تھا چرائے وقت سے میں نے کئی حسیں لمحے مجھے یہ وقت کا اجگر نگل بھی سکتا تھا اسی کے ہاتھ میں تھا میرا فیصلہ ورنہ مرا حریف گواہی بدل بھی سکتا تھا سفر کا درد بھلا کوئی کب تلک جھیلے سفر حیات کا آہستہ چل بھی سکتا تھا الجھ کے رہ گئی گتھی مری کہانی کی وہ ایک لمحہ جو کچھ دیر ٹل بھی سکتا تھا طلسم ٹوٹ نہ پایا گمان کا ورنہ درخت دل میں محبت کا پھل بھی سکتا تھا بدل بھی سکتا ہے غمگیں صداؤ کا آہنگ وہ چاہتا تو مرا دل بہل بھی سکتا تھا

Similar Poets