"kahne ke liye ham bhi zaban rakhte hain lekin ye zarf hamara hai ki ham kuchh nahin kahte"

Siddiq Fatahpuri
Siddiq Fatahpuri
Siddiq Fatahpuri
Sherشعر
Popular Sher & Shayari
2 totalkahne ke liye ham bhi zabaan rakhte hain lekin
ye zarf hamaaraa hai ki ham kuchh nahin kahte
Ghazalغزل
aankh ho to buraa bhalaa dekhe
آنکھ ہو تو برا بھلا دیکھے بے بصر آئنے میں کیا دیکھے زندگی کی حسین راہوں میں کربلا ہم نے جا بجا دیکھے اندھا ساون کا ہو تو چاروں طرف کوئی رت ہو ہرا بھرا دیکھے اس کو آئے گا معجزہ ہی نظر عقل سے جو بھی ماورا دیکھے خوشبوؤں کی بہار سے عاری پھول کاغذ کے خوش نما دیکھے بے عمل کو ہمیشہ دنیا نے خواب ہی دیکھتے سدا دیکھے بھولتا ہی نہیں وفا پیکر بارہا ہم اسے بھلا دیکھے منزلیں ڈھونڈھتی رہیں جن کو ہم نے ایسے بھی رہنما دیکھے ایک ہی چہرہ ہے مگر صدیقؔ رنگ ہائے جدا جدا دیکھے
tund-khu havaa bhi kab kaam kar saki tanhaa
تند خو ہوا بھی کب کام کر سکی تنہا آندھیوں میں روشن ہے شمع زندگی تنہا ساتھ ساتھ چلتے ہیں غم رہ مسرت میں راس کس کو آیا ہے لمحۂ خوشی تنہا اور تیز ہوتا ہے وحشتوں کے عالم میں کیا ہوا بجھائے گی رقص شعلگی تنہا صبح کے مسافر کو کون روک سکتا ہے راستہ بناتا ہے سیل روشنی تنہا رہ گئے سبھی پیچھے زعم خود نمائی میں کام آ گیا اپنا جذب بے خودی تنہا جس جگہ فرشتوں کے بھی قدم نہیں پہنچے لے گیا مجھے میرا ذوق آگہی تنہا بلبلوں کے نغمے تھے چار سو جہاں صدیقؔ خیمہ زن گلستاں میں اب ہے خامشی تنہا
dil bahut be-qaraar hotaa hai
دل بہت بے قرار ہوتا ہے جب ترا انتظار ہوتا ہے بانسری کی صدا پہ مت جانا اس کا سینہ فگار ہوتا ہے یہ سیاسی مچان ہے کہ جہاں خود شکاری شکار ہوتا ہے روز ہوتی کہاں ہے چشم کرم حادثہ ایک بار ہوتا ہے ان کی یادوں کے پھول کھلتے ہیں موسم خوش گوار ہوتا ہے کیوں سفر میں ہے دھوپ کا احساس جب شجر سایہ دار ہوتا ہے لب پہ ہوتا ہے اختیار مگر دل پہ کب اختیار ہوتا ہے جس کا پرسان حال کوئی نہیں اس کا پروردگار ہوتا ہے تذکرہ بزم غیر میں صدیقؔ آج بھی بار بار ہوتا ہے
ahd-e-nau taarikh-e-laa-mahdud ki baatein karein
عہد نو تاریخ لا محدود کی باتیں کریں آؤ بیٹھیں لمحۂ موجود کی باتیں کریں ڈھونڈ کر لائیں کہیں سے ہم بھی انداز ایاز قصر سلطاں میں دل محمود کی باتیں کریں آگ ٹھنڈی کس طرح ہو کس طرح آئے بہار گلشن ہستی میں ہم بہبود کی باتیں کریں آتش نمرود صحن گل بنا تھا اور ہم صحن گل میں آتش نمرود کی باتیں کریں نفرتوں کی آگ شہر دل کو خاکستر کرے اس سے پہلے ساعت مسعود کی باتیں کریں کیسے منزل پر پہنچ سکتے ہیں بھٹکے قافلے راہزن جب منزل مقصود کی باتیں کریں بارگاہ رب میں ہو مقبول ہر حرف دعا صدق دل سے ہم اگر معبود کی باتیں کریں وجد میں آئیں پرندے اب بھی آہن موم ہو ہم بھی گر آواز میں داؤد کی باتیں کریں سجدہ ریزی میں وہی آئے مزہ صدیقؔ پھر جب صمیم قلب سے مسجود کی باتیں کریں
tilism-e-zaat se baahar nikaliye
طلسم ذات سے باہر نکلیے نظر کے گھات سے باہر نکلیے اجالے جانے کب سے منتظر ہیں اندھیری رات سے باہر نکلیے تصور سے فقط ہوتا نہیں کچھ ہوائی بات سے باہر نکلیے ہیں انساں کے لئے یہ سم قاتل بری عادات سے باہر نکلیے ندی نالے سبھی امڈے ہوئے ہیں بھری برسات سے باہر نکلیے کہیں گم ہو نہ جائیں آپ اس میں ہجوم ذات سے باہر نکلیے عذاب جاں ہے ناکردہ گناہی ان الزامات سے باہر نکلیے اصول زندگی بدلا ہوا ہے حسیں لمحات سے باہر نکلیے بدل جائیں گے روز و شب بھی صدیقؔ حصار ذات سے باہر نکلیے





