SHAWORDS
Zafar Naseemi

Zafar Naseemi

Zafar Naseemi

Zafar Naseemi

poet
1Shayari
6Ghazal

Popular Shayari

1 total

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

نہ چھیڑ نام و نسب اور نسل و رنگ کی بات کہ چل نکلتی ہے اکثر یہیں سے جنگ کی بات تمہارے شہر میں کس کس کو آئنہ دکھلائیں ہزار طرح کے چہرے ہزار رنگ کی بات ہر ایک بات پہ طعنہ ہر ایک بات پہ طنز کبھی تو یار کیا کر کسی سے ڈھنگ کی بات میں اس کے وعدۂ فردا پہ کیا یقیں کرتا ہنسی میں ٹال گیا ایک شوخ و شنگ کی بات اٹھا ہے سنگ ملامت بہ نام شیشۂ دل قرار پائی ہے شیشے کے ساتھ سنگ کی بات عجیب حال ہے یاروں کی بے حسی کا ظفرؔ سکوت مرگ کا عالم رباب و چنگ کی بات

na chheD naam-o-nasab aur nasl-o-rang ki baat

غزل · Ghazal

شجر بولتے ہیں حجر بولتے ہیں سفر میں مرے ہم سفر بولتے ہیں میں تنہا بھی رہتا ہوں محو تکلم مرے گھر کے دیوار و در بولتے ہیں زباں کو اجازت نہ ہو بولنے کی تو بے ساختہ بال و پر بولتے ہیں اگر مسئلے انجمن میں نہ سلجھیں تو میداں میں تیر و تبر بولتے ہیں خدا اس طرف ہے خدائی ادھر ہے ثنا خوان مشرق کدھر بولتے ہیں ہنر مند کرتے نہیں خود ستائی چھپے ہیں جو ان میں ہنر بولتے ہیں شہیدوں کے جسموں سے کیا پوچھتے ہو رکھے طشت میں ان کے سر بولتے ہیں

shajar bolte hain hajar bolte hain

غزل · Ghazal

عجیب لطف محبت کی داستان میں ہے وفا کا تذکرہ دنیا کی ہر زبان میں ہے نہ وہ زمیں پہ کہیں ہے نہ آسمان میں ہے پرندہ اس لیے محفوظ ہے اڑان میں ہے نشاط سایہ نے معذور کر دیا اس کو وہ کیسے دھوپ میں نکلے جو سائبان میں ہے نصیب دیکھیے مالک تو ہو گیا بے گھر کرایہ دار ابھی تک اسی مکان میں ہے خلوص و مہر و وفا کی نہیں کوئی قیمت وہ مال بکتا نہیں جو مری دوکان میں ہے فلاں کی بات فلاں نے سنی فلاں سے کہی بس اتنی بات پہ ہنگامہ خاندان میں ہے ظفرؔ بتا تو سہی کیوں ہے اتنی بے خبری دماغ کون سے دل کون سے جہان میں ہے

ajiib lutf mohabbat ki daastaan mein hai

غزل · Ghazal

روایت تھی یہ سمجھوتا نہیں تھا میں سب کا تھا کوئی میرا نہیں تھا ہمیشہ اس لئے نا خوش رہا میں جو اچھا تھا بہت اچھا نہیں تھا مرے حصے میں آیا صبر کا پھل مگر افسوس وہ میٹھا نہیں تھا کہانی زندگی کی مختصر تھی الف لیلیٰ کا افسانہ نہیں تھا اسی آنسو پہ تھی امید قائم جو اس کی آنکھ سے چھلکا نہیں تھا توازن کھو چکی برسوں سے دنیا جہاں فرعون تھا موسیٰ نہیں تھا سزا غیروں کے جرموں کی ملے گی میں وہ کاٹوں گا جو بویا نہیں تھا سر رہ لوٹتے ہیں چین رہزن یہاں ایسا کبھی ہوتا نہیں تھا دلوں کے رشتے کیسے ٹوٹ جاتے یہ دو ملکوں کا بٹوارا نہیں تھا مساوات حرم اللہ اکبر وہاں کوئی بڑا چھوٹا نہیں تھا خدایا بخش دے میری خطائیں میں اکثر ہوش میں رہتا نہیں تھا

rivaayat thi ye samjhautaa nahin thaa

غزل · Ghazal

رسوائی کے خیال سے ڈر تو نہیں گئے وہ راستہ بدل کے گزر تو نہیں گئے ترک تعلقات سے تم کو بھی کیا ملا ہم بھی غم فراق سے مر تو نہیں گئے ہم پہ ترس نہ کھا ہمیں لاچار دیکھ کر ہم ٹوٹ بھر گئے ہیں بکھر تو نہیں گئے دریا کے پار اتر کے جلائی ہیں کشتیاں ناکام لوٹ کے کبھی گھر تو نہیں گئے دور خزاں میں سبزہ و شبنم کہاں ظفرؔ پلکوں پہ آ کے اشک ٹھہر تو نہیں گئے

rusvaai ke khayaal se Dar to nahin gae

غزل · Ghazal

عشق میں برباد ہونے پر پشیمانی تو ہے پھر بھی میری قدر و قیمت اس نے پہچانی تو ہے سانس لینا بھی جہاں مشکل ہے اس ماحول میں مجھ کو زندہ دیکھ کر لوگوں کو حیرانی تو ہے غم گساری میری عادت بن گئی ہے کیا کروں دوسروں کا غم اٹھانے میں پریشانی تو ہے ہاتھ ان سے بھی ملانے کے لیے تیار ہوں دشمنوں سے دوستی کی بات نادانی تو ہے کون سی ایسی دعا ہے جو نہ ہوگی اب قبول آنکھ سے آنسو رواں سجدے میں پیشانی تو ہے شوق ہے پر پیچ راہوں سے گزرنے کا ظفرؔ ورنہ سیدھا راستہ چلنے میں آسانی تو ہے

ishq mein barbaad hone par pashemaani to hai

Similar Poets