SHAWORDS
Z

Zubair Shifai

Zubair Shifai

Zubair Shifai

poet
1Shayari
5Ghazal

Popular Shayari

1 total

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

tilsmaati fazaa takht-e-sulaimaan par liye jaanaa

طلسماتی فضا تخت سلیماں پر لئے جانا مرے گھر میں اترتی شام کا منظر لئے جانا وہ اسباب شکست و فتح خود ہی جان جائے گا علم جب ہاتھ سے چھوٹے تو میرا سر لئے جانا گرج کے ساتھ بجلی بھی چمکتی ہے پہاڑوں میں مسافر ہے کہ طوفانی ہوا کو گھر لئے جانا کھلے جاتے ہیں جیسے دل کے سارے بند دروازے اب ان قدموں کی آہٹ کیا سماعت پر لئے جانا وہاں سنتے نہیں ہیں دیکھتے ہیں زخم پیشانی اگر جانا تو آئینہ پس جوہر لئے جانا گلی کی خاک مٹھی میں لئے ہیں چاہنے والے زبیرؔ اس کیمیا کو تم بھی چٹکی بھر لئے جانا

غزل · Ghazal

raat ke pichhle pahar ik sansanaahaT si hui

رات کے پچھلے پہر اک سنسناہٹ سی ہوئی اور پھر ایک اور پھر ایک اور آہٹ سی ہوئی دفعتاً زنجیر کھنکی یک بیک پٹ کھل گئے شمع کی لو میں اچانک تھرتھراہٹ سی ہوئی خستۂ دیوار و در یک بارگی ہلنے لگے طاق تھی ویران لیکن جگمگاہٹ سی ہوئی ایک پیکر سا دھوئیں کے بیچ لہرانے لگا نیم وا ہونٹوں پہ رقصاں مسکراہٹ سی ہوئی پھر بھیانک رات پھر پر ہول سناٹا زبیرؔ پھر کھنڈر میں شہپروں کی پھڑپھڑاہٹ سی ہوئی

غزل · Ghazal

jabin se naakhun-e-paa tak dikhaai kyuun nahin detaa

جبیں سے ناخن پا تک دکھائی کیوں نہیں دیتا وہ آئینہ ہے تو اپنی صفائی کیوں نہیں دیتا دکھائی دے رہے ہیں سامنے والوں کے ہلتے لب مگر وہ کہہ رہے ہیں کیا سنائی کیوں نہیں دیتا سمندر بھی تری آنکھوں میں صحرا کی طرح گم ہے یہاں وہ تنگئ جا کی دہائی کیوں نہیں دیتا جب اس نے توڑ دی زنجیر دیواریں گرا دی ہیں اسیری کے تصور سے رہائی کیوں نہیں دیتا وہ خود سے بخش دیتا ہے جہان آب و گل مجھ کو طلب کے باوجود آخر گدائی کیوں نہیں دیتا اب آنکھوں سے نہیں ہاتھوں سے چھونا چاہتا ہوں مجھے وہ وصل آمیزہ جدائی کیوں نہیں دیتا زبیرؔ اک بار انگلی بھی نہیں چھونے کو ملتی ہے وہ اپنے ہشت پہلو میں رسائی کیوں نہیں دیتا

غزل · Ghazal

tez ho jaaein havaaein to bagulaa ho jaaun

تیز ہو جائیں ہوائیں تو بگولا ہو جاؤں گھومتے گھومتے ہم رقبۂ صحرا ہو جاؤں خود کلامی مری عادت نہیں مجبوری ہے یوں نہ مصروف رہوں میں تو اکیلا ہو جاؤں دوسرا پاؤں اٹھانے کی ضرورت نہ پڑے اور میں فاتح ناہید و ثریا ہو جاؤں بند آنکھوں سے نہ کر مشق تصور دن رات کہ ہمیشہ کے لئے جان میں تیرا ہو جاؤں یہ تری گل بدنی یہ تری کم پیرہنی سیر چشمی سے کہیں اور نہ پیاسا ہو جاؤں اک سرا ہے مگر آتا نہیں ہاتھوں میں زبیرؔ جس بہانے سے میں بیگانۂ دنیا ہو جاؤں

غزل · Ghazal

qamar-gazida nazar se haala kahaan se aayaa

قمر گزیدہ نظر سے ہالہ کہاں سے آیا چراغ بجھنے کے بعد اجالا کہاں سے آیا ندی میں وہ اور چاند ہیں ایک ساتھ روشن زمین پر آسمان والا کہاں سے آیا یہ غنچہ غنچہ سیاہ بھونرے کی بوسہ خواہی سواد گلشن میں ہم نوالا کہاں سے آیا فضا کی آلودگی تھی پہلے ہی نیم قاتل یہ دل میں ایک اور داغ کالا کہاں سے آیا قریب تر دوستوں سے ہونے کی آرزو میں ابھی ابھی پشت پر یہ بھالا کہاں سے آیا میں خواب میں بھی تری گلی سے نہیں گزرتا یہ دونوں تلووں میں سرخ چھالا کہاں سے آیا کہاں گیا سکہ سکہ قارون کا خزانہ زبیرؔ ہاتھوں میں یہ پیالہ کہاں سے آیا

Similar Poets