
Zulfiqar Zaki
Zulfiqar Zaki
Zulfiqar Zaki
Ghazalغزل
کتنوں نے جان وار دی ہرنی سی چال پر کتنے ہی لوگ مر مٹے اس خوش خصال پر مجھ کو خبر ملی ہے کہ پریوں کے دیس میں ہوتے ہیں روز تبصرے اس کے جمال پر میں بھی سوال پوچھ کے خاموش ہو گیا اس نے بھی چپ ہی سادھ لی میرے سوال پر بھنورا کسی گلاب کو چھوتا ہے جس طرح رکھتا ہوں اپنے ہونٹ یوں دلبر کے گال پر کس کے ذرا سے ذکر پہ سانسیں مہک اٹھیں چہرے کے رنگ کھل اٹھے کس کے خیال پر پڑھتے ہیں لوگ آج بھی الفت کی داستاں لکھتے ہیں لوگ آج بھی ہجر و وصال پر چھانی ہیں اس نے جا بجا صحرا کی پستیاں پہنچا ہے عشق پھر کہیں اوج کمال پر ہارا ہوں اس دلیری سے لڑتا ہوا ذکیؔ دشمن بھی پر ملال ہے میرے زوال پر
kitnon ne jaan vaar di hirni si chaal par
اب تک اسی خیال میں الجھا ہوا ہوں میں اپنے بدل گئے ہیں کہ بدلا ہوا ہوں میں دیوار و در کو دیکھ کے لگتا ہے دلبرا تیری گلی سے پہلے بھی گزرا ہوا ہوں میں بکھرے ہوئے سے بال ہیں دامن ہے تار تار پوری طرح سے ہجر میں سنورا ہوا ہوں میں شاید کہ ایک روز وہ آ کر سمیٹ لے مدت سے کوئے یار میں بکھرا ہوا ہوں میں بادہ کشی کے بعد تو آیا ہوں ہوش میں دنیا سمجھ رہی ہے کہ بہکا ہوا ہوں میں یارب یہ زندگانی میں کیسا جمود ہے ٹھہرا ہوا ہے وقت یا ٹھہرا ہوا ہوں میں آیا ہوں اپنے شہر تو لگتا ہے یوں ذکیؔ جیسے کہ ایک دشت میں بھٹکا ہوا ہوں میں
ab tak isi khayaal mein uljhaa huaa huun main
مرے سونے اجڑے دیار میں کبھی دو گھڑی ہی قیام کر ہو جو دل تو اس میں سکون لے ترا جی کرے تو خرام کر میں تمام عمر گزار دوں جسے سوچتے جسے چاہتے تو جو کر سکے مرے ہم نوا تو وہ ایک پل مرے نام کر مجھے اپنے دل کا وہ راز دے جو خوشی سے مجھ کو نواز دے وہ جو مجھ میں روح سی پھونک دے کسی روز ایسا کلام کر مری دھڑکنوں کا یہ سلسلہ ترے پیار سے ہے رواں دواں تو جو چاہے اس کو دوام دے جو نہیں تو اس کو تمام کر سر شام مجھ سے تو مل وہاں جہاں عجلتوں کا نہ ہو نشاں کہیں دور تک یوں ہی ساتھ چل مرا ہاتھ ہاتھ میں تھام کر تری چاہتوں کا فقیر ہوں مجھے قربتوں کی نیاز دے ذرا پاس آ کے تو مل مجھے یوں ہی دور سے نہ سلام کر کوئی کام کرنا ہے گر ذکیؔ تو یہ کام کر مرے دوستا کہیں نفرتوں کو نہ جا ملے تو محبتوں کو یوں عام کر
mire suune ujDe dayaar mein kabhi do ghaDi hi qayaam kar
گھڑی کی سوئیاں ٹک ٹک سنا رہی ہیں مجھے گزرتے وقت سے شاید ڈرا رہی ہیں مجھے ترے بیان کو لفظوں کی کیا ضرورت ہے کہ یہ خموشیاں سب کچھ بتا رہی ہیں مجھے تو کیا ہوا جو ترا پیار مل نہیں پایا تری یہ نفرتیں بھی راس آ رہی ہیں مجھے ہوا کی شوخیاں بتلا رہی ہیں تیرا پتہ حسین تتلیاں رستہ دکھا رہی ہیں مجھے شب فراق مرے ہم نوا تری یادیں غموں کی تال پہ ہر دم نچا رہی ہیں مجھے کوئی تو ہو جو مجھے روک لے صدا دے کر مری یہ حسرتیں ہر جا گھما رہی ہیں مجھے ذکیؔ یہ راہ کے پتھر بھی میرے رہبر ہیں کہ ان کی ٹھوکریں چلنا سکھا رہی ہیں مجھے
ghaDi ki suiyaan Tik-Tik sunaa rahi hain mujhe
مرے رقیب سے ہنس کر کلام کرتے ہوئے گزر گیا ہے وہ مجھ کو سلام کرتے ہوئے عجب کہ ڈوبنے والا تو مطمئن ہے مگر ڈرا ہوا ہے سمندر یہ کام کرتے ہوئے وہ جس کے سامنے سستے میں رکھ دیا خود کو الجھ پڑا ہے وہ گاہک بھی دام کرتے ہوئے مرے وجود پہ قابض ہوا وہ پل بھر میں نظر کی تیغ سے دل کو غلام کرتے ہوئے بچے کچھے سے یہ پل بھی گزر ہی جائیں گے کسی کی یاد میں ساحل پہ شام کرتے ہوئے قسم خدا کی یہ گریہ نہ دیکھ پاؤں گا خوشی سے جائیے رشتہ تمام کرتے ہوئے ذکیؔ یہ پیار ہی پہچان بن گیا میری میں خاص ہو گیا الفت کو عام کرتے ہوئے
mire raqib se hans kar kalaam karte hue
ذرا سی دیر کو آتا ہے لوٹ جاتا ہے ملن کی آس جگاتا ہے لوٹ جاتا ہے مریض عشق کو دے کر وہ پیار کا نسخہ خلش کو اور بڑھاتا ہے لوٹ جاتا ہے وہ ایک بار بھی سنتا نہیں مری عرضی بس اپنی بات سناتا ہے لوٹ جاتا ہے جھگڑ کے نیند میں اکثر وہ بے سبب مجھ کو درون خواب رلاتا ہے لوٹ جاتا ہے وہ عشق بن کے اترتا ہے میرے آنگن میں وفا کے دیپ جلاتا ہے لوٹ جاتا ہے دم فراق وہ لیتا ہے پیار کی قسمیں سنہرے خواب دکھاتا ہے لوٹ جاتا ہے ذکیؔ یہ کون ہے جو روز میری تربت پر یوں آ کے اشک بہاتا ہے لوٹ جاتا ہے
zaraa si der ko aataa hai lauT jaataa hai





