SHAWORDS

اس نے ہاتھ میں پکڑے ہوئے کاغذ کے ٹکڑے کو مٹھی میں سختی سے دبایا اور اس — Nadiya Ambar Lodhi

"اس نے ہاتھ میں پکڑے ہوئے کاغذ کے ٹکڑے کو مٹھی میں سختی سے دبایا اور اسے چھپانے کے لیے کوئی جگہ تلاش کرنے لگی - برسوں کی دبی ہوئی چنگاری کو ہوا دینے کا اب کیا فائدہ - اس نے دل میں سوچا - اس خط کو کہاں چھپاؤں ؟ اس نے چاروں طرف نظر دوڑائی - سائیڈ ٹیل کی ڈرا - نہیں یہ تو ہر کسی کی رسائی میں ہے - کپڑوں کی الماری -نہیں وہاں سے تو بہو بیگم کے ہتھے چڑھ سکتا ہے - کہاں رکھوں ؟ کیا کروں! پھر وہ اسٹینڈ کے سہارے چلتی ہوئی واش روم میں گئی -خط اور لفافے کے چھوٹے جھوٹے ٹکڑے کر کے اس نے فلش میں بہادیے - پھر اس نے وضو کیا اور واپس نماز والی کرسی پر آ بیٹھی - وہ نماز پڑ ھنے لگی - نماز ختم ہوئی تو دعا کے لیے اٹھے ہاتھو ں سے اپنے والد کے لیے مغفرت اور جنت مانگنے لگی - اس کے آنسو گرنے لگے اور وہ رونے لگی - اتنے میں بہو کی آواز سنائی دی اس نے جلدی سے آنسو صاف کیے - بہو کھانا لائی تھی - بہو نے ٹرے اس کے سامنے رکھی اور وہ خاموشی سے کھانا کھانے لگی - بہو نے بغور ساس کے چہرے کی طرف دیکھا ساس اسے بہت نڈھال نظر آئی - ممی جی آپ ٹھیک تو ہیں - بہو بولی جی بیٹا “ میں ٹھیک ہوں “-اس نے جواب دیا - بہو خاموشی سے ٹرے اٹھا کر چل دی - وہ بستر پر آکر لیٹ گئی - اسے اپنا پچپن یاد آنے لگا - اپنا لڑکپن اور پھر شادی پھر بڑ ھاپا- جوانی - مری جوانی - کہاں گئی - اس نے خود سے سوال کیا - کیا میں کبھی جوان نہیں تھی - وہ شادمانی کے دن مری زندگی کا حصہ نہیں تھے کیا - اس نے دماغ پر زور دیا لیکن اسے کچھ یاد نہ آسکا کوئی مدھر بھری یاد ذہن کے دروازے پر دستک نہ دے سکی - شاید بڑھاپے سے میری یادداشت چلی گئی ہے - سوچتے سوچتے اس کی آنکھ لگ گئی - معدوم چہرے خواب میں واضح ہونے لگے - ڈیڈ ۔ڈیڈ ۔ڈیڈ ۔ڈیڈ وہ دیوانہ وار باپ کو پکار رہی تھی لیکن باپ اس کی آواز سن نہیں رہا تھا پھر اسے اپنی ماں دکھائی دی - مما ۔مما۔ مما ۔مما اس نے ماں کو پکارا ماں نے بھی سنی ان سنی کردی - اسے اپنی بڑی بہن دکھائی دی آپی ۔ آپی ۔ آپی ۔ آپی وہ پکارنے لگی -بہن کے کان پر بھی جوں تک نہ رینگی- پھر اسے چھوٹے دونوں بھائی نظر آئے - اس نے بھائیوں کے نام لے کر بہت آوازیں دیں -وہ سب تیز تیز چلتے گئے وہ ان کے پیچھے دوڑتی پکارتی چلتی گئی - بھاگتے بھاگتے وہ گر گئی اور اس کے گھٹنے چھل گئے - ہائے کے آواز اس کے منہ سے نکلی دونوں ہاتھوں سے گھٹنے پکڑے وہ زمین پر گری ہوئی تھی کہ اس کی آنکھ کھل گئی - اسے اپنے ہاتھوں تلے گھٹنوں کی ہڈیاں محسوس ہوئی تو اسے یاد آیا میں تو بوڑھی ہوں اوہ وہ تو خواب دیکھ رہی تھی بند دروازوں کی اذیت پھر تازہ ہوگئی -پہلے فون پر رابطے بند ہوئے پھر دروازے بند ہوتے چلے گئے اور پھر راستے بھی نظروں سے اوجھل ہوگئے - ایک ایک کرکے سب دروازے بند ہوتے چلے گئے اور وہ دستک دیتی رہ گئی لیکن سارے در دیواریں بن گئے تھے - اب تو اُس کے قدموں میں ہمت ہی نہیں رہی تھی بمشکل اپنا بوجھ اٹھا کر اسٹینڈ کے سہارے سے چلتی تھی - ایک خط سے سارے زخم کھل گئے - کیا کروں گی میں ان کڑوڑوں روپے کا - اس نے سوچا لباس خریدلوں -مگر بوڑھے وجود پر ہر لباس بدنما ہی لگے گا مہنگی گاڑی خرید لوں -اب چلانے کی ہمت کہاں - اسے بچپن یاد آنے لگا جب وہ اپنے پاکٹ منی سے اپنے چھوٹے بھائیوں کے لیے کھلونے خرید ا کرتی تھی - کب وہ بڑے ہوئے اور اس کے حصے کی ماں باپ کی شفقت کھا گئے اسے پتا ہی نہ چلا - پھر وہ اس کے باپ کا کاروبار کھا گئے - والدین کے گھر کے دروازے اس پر بند ہوگئے وہ تو اس کے حصے کا سورج بھی کھا گئے - بھائی جن سے اسے بہت پیار تھا - “دعا کرو اللہ میاں بھائی دے اللہ بچوں کی دعائیں سنتا ہے “ اس کی نانی کی آواز اس کے کانوں میں گونجی - جن کے لیے دعائیں کیں انہوں نے اسے والدین کی دعاؤں سے ہی نکال دیا - “باری باری ساری جائیدادیں تمہارے بہن بھائیوں کے نام لکھی جارہی ہیں- جاؤ جاکر اپنا حصہ مانگ کر لاؤ”۔اس کے شوہر کی آواز گونجی - تمہارے بہن بھائی ساری جائیداد لے جائیں گے - حصہ لینے کا شوق لیے اس کا شوہر قبر میں چلا گیا - ارب پتی باپ کی بیٹی تھی اور ساری زندگی عسرت میں گزر گئی - چھوٹی چھوٹی ضروریات ، معمولی خواہشات سب غربت کی بھینٹ چڑھ گئے - اس کے بہن بھائی والد کی جائیداد کی بدولت عیش و عشرت کی زندگی بسر کرتے رہے - اس نے حصہ مانگنے سے انکار کردیا تو اس کے شوہر نے خود حصہ مانگ لیا - اوراس طرح حصہ دینے والوں نے اُس پر سب دروازے بند کردیے - اسے خط کا متن یاد آنے لگا - “ڈیڈ ہم میں نہیں رہے انہوں نے اپنی زیادہ تر جائیداد اپنی زندگی میں ہی بانٹ دی تھی بقیہ کے لیے عدالت میں کیس دائر کیا ہے آپا تم اپنے شناختی کارڈ کی کاپی اور پاور آف اٹارنی سائن کر کے بھیج دو “"
Urdu

اس نے ہاتھ میں پکڑے ہوئے کاغذ کے ٹکڑے کو مٹھی میں سختی سے دبایا اور اسے چھپانے کے لیے کوئی جگہ تلاش کرنے لگی - برسوں کی دبی ہوئی چنگاری کو ہوا دینے کا اب کیا فائدہ - اس نے دل میں سوچا - اس خط کو کہاں چھپاؤں ؟ اس نے چاروں طرف نظر دوڑائی - سائیڈ ٹیل کی ڈرا - نہیں یہ تو ہر کسی کی رسائی میں ہے - کپڑوں کی الماری -نہیں وہاں سے تو بہو بیگم کے ہتھے چڑھ سکتا ہے - کہاں رکھوں ؟ کیا کروں! پھر وہ اسٹینڈ کے سہارے چلتی ہوئی واش روم میں گئی -خط اور لفافے کے چھوٹے جھوٹے ٹکڑے کر کے اس نے فلش میں بہادیے - پھر اس نے وضو کیا اور واپس نماز والی کرسی پر آ بیٹھی - وہ نماز پڑ ھنے لگی - نماز ختم ہوئی تو دعا کے لیے اٹھے ہاتھو ں سے اپنے والد کے لیے مغفرت اور جنت مانگنے لگی - اس کے آنسو گرنے لگے اور وہ رونے لگی - اتنے میں بہو کی آواز سنائی دی اس نے جلدی سے آنسو صاف کیے - بہو کھانا لائی تھی - بہو نے ٹرے اس کے سامنے رکھی اور وہ خاموشی سے کھانا کھانے لگی - بہو نے بغور ساس کے چہرے کی طرف دیکھا ساس اسے بہت نڈھال نظر آئی - ممی جی آپ ٹھیک تو ہیں - بہو بولی جی بیٹا “ میں ٹھیک ہوں “-اس نے جواب دیا - بہو خاموشی سے ٹرے اٹھا کر چل دی - وہ بستر پر آکر لیٹ گئی - اسے اپنا پچپن یاد آنے لگا - اپنا لڑکپن اور پھر شادی پھر بڑ ھاپا- جوانی - مری جوانی - کہاں گئی - اس نے خود سے سوال کیا - کیا میں کبھی جوان نہیں تھی - وہ شادمانی کے دن مری زندگی کا حصہ نہیں تھے کیا - اس نے دماغ پر زور دیا لیکن اسے کچھ یاد نہ آسکا کوئی مدھر بھری یاد ذہن کے دروازے پر دستک نہ دے سکی - شاید بڑھاپے سے میری یادداشت چلی گئی ہے - سوچتے سوچتے اس کی آنکھ لگ گئی - معدوم چہرے خواب میں واضح ہونے لگے - ڈیڈ ۔ڈیڈ ۔ڈیڈ ۔ڈیڈ وہ دیوانہ وار باپ کو پکار رہی تھی لیکن باپ اس کی آواز سن نہیں رہا تھا پھر اسے اپنی ماں دکھائی دی - مما ۔مما۔ مما ۔مما اس نے ماں کو پکارا ماں نے بھی سنی ان سنی کردی - اسے اپنی بڑی بہن دکھائی دی آپی ۔ آپی ۔ آپی ۔ آپی وہ پکارنے لگی -بہن کے کان پر بھی جوں تک نہ رینگی- پھر اسے چھوٹے دونوں بھائی نظر آئے - اس نے بھائیوں کے نام لے کر بہت آوازیں دیں -وہ سب تیز تیز چلتے گئے وہ ان کے پیچھے دوڑتی پکارتی چلتی گئی - بھاگتے بھاگتے وہ گر گئی اور اس کے گھٹنے چھل گئے - ہائے کے آواز اس کے منہ سے نکلی دونوں ہاتھوں سے گھٹنے پکڑے وہ زمین پر گری ہوئی تھی کہ اس کی آنکھ کھل گئی - اسے اپنے ہاتھوں تلے گھٹنوں کی ہڈیاں محسوس ہوئی تو اسے یاد آیا میں تو بوڑھی ہوں اوہ وہ تو خواب دیکھ رہی تھی بند دروازوں کی اذیت پھر تازہ ہوگئی -پہلے فون پر رابطے بند ہوئے پھر دروازے بند ہوتے چلے گئے اور پھر راستے بھی نظروں سے اوجھل ہوگئے - ایک ایک کرکے سب دروازے بند ہوتے چلے گئے اور وہ دستک دیتی رہ گئی لیکن سارے در دیواریں بن گئے تھے - اب تو اُس کے قدموں میں ہمت ہی نہیں رہی تھی بمشکل اپنا بوجھ اٹھا کر اسٹینڈ کے سہارے سے چلتی تھی - ایک خط سے سارے زخم کھل گئے - کیا کروں گی میں ان کڑوڑوں روپے کا - اس نے سوچا لباس خریدلوں -مگر بوڑھے وجود پر ہر لباس بدنما ہی لگے گا مہنگی گاڑی خرید لوں -اب چلانے کی ہمت کہاں - اسے بچپن یاد آنے لگا جب وہ اپنے پاکٹ منی سے اپنے چھوٹے بھائیوں کے لیے کھلونے خرید ا کرتی تھی - کب وہ بڑے ہوئے اور اس کے حصے کی ماں باپ کی شفقت کھا گئے اسے پتا ہی نہ چلا - پھر وہ اس کے باپ کا کاروبار کھا گئے - والدین کے گھر کے دروازے اس پر بند ہوگئے وہ تو اس کے حصے کا سورج بھی کھا گئے - بھائی جن سے اسے بہت پیار تھا - “دعا کرو اللہ میاں بھائی دے اللہ بچوں کی دعائیں سنتا ہے “ اس کی نانی کی آواز اس کے کانوں میں گونجی - جن کے لیے دعائیں کیں انہوں نے اسے والدین کی دعاؤں سے ہی نکال دیا - “باری باری ساری جائیدادیں تمہارے بہن بھائیوں کے نام لکھی جارہی ہیں- جاؤ جاکر اپنا حصہ مانگ کر لاؤ”۔اس کے شوہر کی آواز گونجی - تمہارے بہن بھائی ساری جائیداد لے جائیں گے - حصہ لینے کا شوق لیے اس کا شوہر قبر میں چلا گیا - ارب پتی باپ کی بیٹی تھی اور ساری زندگی عسرت میں گزر گئی - چھوٹی چھوٹی ضروریات ، معمولی خواہشات سب غربت کی بھینٹ چڑھ گئے - اس کے بہن بھائی والد کی جائیداد کی بدولت عیش و عشرت کی زندگی بسر کرتے رہے - اس نے حصہ مانگنے سے انکار کردیا تو اس کے شوہر نے خود حصہ مانگ لیا - اوراس طرح حصہ دینے والوں نے اُس پر سب دروازے بند کردیے - اسے خط کا متن یاد آنے لگا - “ڈیڈ ہم میں نہیں رہے انہوں نے اپنی زیادہ تر جائیداد اپنی زندگی میں ہی بانٹ دی تھی بقیہ کے لیے عدالت میں کیس دائر کیا ہے آپا تم اپنے شناختی کارڈ کی کاپی اور پاور آف اٹارنی سائن کر کے بھیج دو “

Hindi

اس نے ہاتھ میں پکڑے ہوئے کاغذ کے ٹکڑے کو مٹھی میں سختی سے دبایا اور اسے چھپانے کے لیے کوئی جگہ تلاش کرنے لگی - برسوں کی دبی ہوئی چنگاری کو ہوا دینے کا اب کیا فائدہ - اس نے دل میں سوچا - اس خط کو کہاں چھپاؤں ؟ اس نے چاروں طرف نظر دوڑائی - سائیڈ ٹیل کی ڈرا - نہیں یہ تو ہر کسی کی رسائی میں ہے - کپڑوں کی الماری -نہیں وہاں سے تو بہو بیگم کے ہتھے چڑھ سکتا ہے - کہاں رکھوں ؟ کیا کروں! پھر وہ اسٹینڈ کے سہارے چلتی ہوئی واش روم میں گئی -خط اور لفافے کے چھوٹے جھوٹے ٹکڑے کر کے اس نے فلش میں بہادیے - پھر اس نے وضو کیا اور واپس نماز والی کرسی پر آ بیٹھی - وہ نماز پڑ ھنے لگی - نماز ختم ہوئی تو دعا کے لیے اٹھے ہاتھو ں سے اپنے والد کے لیے مغفرت اور جنت مانگنے لگی - اس کے آنسو گرنے لگے اور وہ رونے لگی - اتنے میں بہو کی آواز سنائی دی اس نے جلدی سے آنسو صاف کیے - بہو کھانا لائی تھی - بہو نے ٹرے اس کے سامنے رکھی اور وہ خاموشی سے کھانا کھانے لگی - بہو نے بغور ساس کے چہرے کی طرف دیکھا ساس اسے بہت نڈھال نظر آئی - ممی جی آپ ٹھیک تو ہیں - بہو بولی جی بیٹا “ میں ٹھیک ہوں “-اس نے جواب دیا - بہو خاموشی سے ٹرے اٹھا کر چل دی - وہ بستر پر آکر لیٹ گئی - اسے اپنا پچپن یاد آنے لگا - اپنا لڑکپن اور پھر شادی پھر بڑ ھاپا- جوانی - مری جوانی - کہاں گئی - اس نے خود سے سوال کیا - کیا میں کبھی جوان نہیں تھی - وہ شادمانی کے دن مری زندگی کا حصہ نہیں تھے کیا - اس نے دماغ پر زور دیا لیکن اسے کچھ یاد نہ آسکا کوئی مدھر بھری یاد ذہن کے دروازے پر دستک نہ دے سکی - شاید بڑھاپے سے میری یادداشت چلی گئی ہے - سوچتے سوچتے اس کی آنکھ لگ گئی - معدوم چہرے خواب میں واضح ہونے لگے - ڈیڈ ۔ڈیڈ ۔ڈیڈ ۔ڈیڈ وہ دیوانہ وار باپ کو پکار رہی تھی لیکن باپ اس کی آواز سن نہیں رہا تھا پھر اسے اپنی ماں دکھائی دی - مما ۔مما۔ مما ۔مما اس نے ماں کو پکارا ماں نے بھی سنی ان سنی کردی - اسے اپنی بڑی بہن دکھائی دی آپی ۔ آپی ۔ آپی ۔ آپی وہ پکارنے لگی -بہن کے کان پر بھی جوں تک نہ رینگی- پھر اسے چھوٹے دونوں بھائی نظر آئے - اس نے بھائیوں کے نام لے کر بہت آوازیں دیں -وہ سب تیز تیز چلتے گئے وہ ان کے پیچھے دوڑتی پکارتی چلتی گئی - بھاگتے بھاگتے وہ گر گئی اور اس کے گھٹنے چھل گئے - ہائے کے آواز اس کے منہ سے نکلی دونوں ہاتھوں سے گھٹنے پکڑے وہ زمین پر گری ہوئی تھی کہ اس کی آنکھ کھل گئی - اسے اپنے ہاتھوں تلے گھٹنوں کی ہڈیاں محسوس ہوئی تو اسے یاد آیا میں تو بوڑھی ہوں اوہ وہ تو خواب دیکھ رہی تھی بند دروازوں کی اذیت پھر تازہ ہوگئی -پہلے فون پر رابطے بند ہوئے پھر دروازے بند ہوتے چلے گئے اور پھر راستے بھی نظروں سے اوجھل ہوگئے - ایک ایک کرکے سب دروازے بند ہوتے چلے گئے اور وہ دستک دیتی رہ گئی لیکن سارے در دیواریں بن گئے تھے - اب تو اُس کے قدموں میں ہمت ہی نہیں رہی تھی بمشکل اپنا بوجھ اٹھا کر اسٹینڈ کے سہارے سے چلتی تھی - ایک خط سے سارے زخم کھل گئے - کیا کروں گی میں ان کڑوڑوں روپے کا - اس نے سوچا لباس خریدلوں -مگر بوڑھے وجود پر ہر لباس بدنما ہی لگے گا مہنگی گاڑی خرید لوں -اب چلانے کی ہمت کہاں - اسے بچپن یاد آنے لگا جب وہ اپنے پاکٹ منی سے اپنے چھوٹے بھائیوں کے لیے کھلونے خرید ا کرتی تھی - کب وہ بڑے ہوئے اور اس کے حصے کی ماں باپ کی شفقت کھا گئے اسے پتا ہی نہ چلا - پھر وہ اس کے باپ کا کاروبار کھا گئے - والدین کے گھر کے دروازے اس پر بند ہوگئے وہ تو اس کے حصے کا سورج بھی کھا گئے - بھائی جن سے اسے بہت پیار تھا - “دعا کرو اللہ میاں بھائی دے اللہ بچوں کی دعائیں سنتا ہے “ اس کی نانی کی آواز اس کے کانوں میں گونجی - جن کے لیے دعائیں کیں انہوں نے اسے والدین کی دعاؤں سے ہی نکال دیا - “باری باری ساری جائیدادیں تمہارے بہن بھائیوں کے نام لکھی جارہی ہیں- جاؤ جاکر اپنا حصہ مانگ کر لاؤ”۔اس کے شوہر کی آواز گونجی - تمہارے بہن بھائی ساری جائیداد لے جائیں گے - حصہ لینے کا شوق لیے اس کا شوہر قبر میں چلا گیا - ارب پتی باپ کی بیٹی تھی اور ساری زندگی عسرت میں گزر گئی - چھوٹی چھوٹی ضروریات ، معمولی خواہشات سب غربت کی بھینٹ چڑھ گئے - اس کے بہن بھائی والد کی جائیداد کی بدولت عیش و عشرت کی زندگی بسر کرتے رہے - اس نے حصہ مانگنے سے انکار کردیا تو اس کے شوہر نے خود حصہ مانگ لیا - اوراس طرح حصہ دینے والوں نے اُس پر سب دروازے بند کردیے - اسے خط کا متن یاد آنے لگا - “ڈیڈ ہم میں نہیں رہے انہوں نے اپنی زیادہ تر جائیداد اپنی زندگی میں ہی بانٹ دی تھی بقیہ کے لیے عدالت میں کیس دائر کیا ہے آپا تم اپنے شناختی کارڈ کی کاپی اور پاور آف اٹارنی سائن کر کے بھیج دو “

اس نے ہاتھ میں پکڑے ہوئے کاغذ کے ٹکڑے کو مٹھی میں سختی سے دبایا اور اسے چھپانے کے لیے کوئی جگہ تلاش کرنے لگی - برسوں کی دبی ہوئی چنگاری کو ہوا دینے کا اب کیا فائدہ - اس نے دل میں سوچا - اس خط کو کہاں چھپاؤں ؟ اس نے چاروں طرف نظر دوڑائی - سائیڈ ٹیل کی ڈرا - نہیں یہ تو ہر کسی کی رسائی میں ہے -
Nadiya Ambar Lodhi
Nadiya Ambar Lodhi
Nadiya ambar lodhi
poet19 quotes

More by Nadiya Ambar Lodhi

View all →
Quote
"شام کے ڈھلتے منظر نامے سے چند امید کے جگنو چننا کسے مرغوب نہیں ہے۔ لیکن تنہائی اس کے قدموں میں حائل تھی۔ اس کا نام سارہ تھا۔ عام پاکستانی عورتوں کی طرح اسے بھی جوان ہونے پر بیاہ دیا گیا۔ شادی اس کی ضرورت نہیں تھی بس اس کے ماں باپ کی خواہش تھی۔ مشرقی معاشرہ عورت کے لیے کامیابی کا ایک ہی معیار مقرر کرتا ہے وقت پر شادی اور نباہ۔ یعنی مسلسل سمجھوتہ ۔ اسے بھی اسی سمجھوتے کی بھینٹ چڑ ھا دیا گیا۔ وقت گزرتا گیا۔ فرد کے جذبات کی تسکین نہ بھی ہو پائے تو یہ اس دوغلے معاشرے کا مسئلہ نہیں ہے - ہر وہ عورت جو شوہر کے گھر میں رہتی ہے اس سماج میں کامیاب ترین ہے۔ دل میں جلتی آگ کا دھواں نہیں اٹھتا۔ کسی شادی شدہ عورت کے والدین کے لیے یہ تمغہ ِ فخر بھی ہے کہ ان کی بیٹی شوہر کے گھر میں آباد ہے کبھی کبھی آبادی کے پسِ پردہ بربادی ہماری آنکھیں دیکھ نہیں پاتی یا شاید ہم دیکھنا نہیں چاہتے۔ مفادات کی پٹی کے آر پار ہمیشہ اندھیرا ہوتا ہے۔ سارہ کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا۔ شوہر کے نام پر ایک بے حس انسان سے اس کا پالا پڑا ہوا تھا۔ شروع شروع میں سارہ اپنے پیار سے اس راکھ کے ڈھیر میں کسی چنگاری کی تلاش کرتے کرتے تھکتی نہ تھی۔مگر رفتہ رفتہ یہ تلاش بے دلی اور آخرِ کار بے زاری پر مُنتج ہوئی۔ گزرتا وقت اس کا ولولہ بھی ساتھ لے گیا۔ اب اس کے دل اور دماغ پر مایوسی نے بسیرا کر لیا تھا۔ خواہش کا رنگ خواب سے زیادہ گہرا ہوتا ہے البتہ یہاں خواہش اور خواب دونوں بے رنگ تھے۔ کبھی کبھی اس راکھ کے ڈھیر میں اچانک چلنے والی ہوا چنگاری بھڑکا دیتی۔ تو اس کے صبر کے بند ٹوٹنے لگتے۔ یہ اس صورت میں ہوتا جب افسردگی دل اور جان پر حاوی ہو جاتی ایسے میں سارہ کے دل میں دبی ہوئے محرومیاں ایک ایک کر کے بیدار ہو جاتیں۔ وہ بھی ایک ایسا ہی دن تھا۔ اس کے دل اور دماغ پر چھائی افسردگی بڑھتی جارہی تھی۔ وہ بہت اداس تھی۔ اسے اس وقت ایک مرد کی شدید طلب تھی اس کے سارے بدن میں میٹھا میٹھا سا درد تھا۔ لہو کی یہ طلب فطری تھی۔ خود سپردگی کی خواہش اسے اپنی طرف بلانے لگی۔ کروٹیں بدلتے بدلتے اس کی آنکھ کبھی لگ جاتی کبھی کُھل جاتی۔ گزشتہ رات بھی اسی حالت میں گزری تھی۔ اس آدھی نیند اور پوری طلب کی کشمکش میں - وہ بھرے بھرے جسم کی پر کشش عورت تھی۔ خوب صورت چہرہ اور متناسب جسم۔ اس کی کمر پتلی اور کولہے نمایاں تھے۔ پشت کے بَل لیٹتی تو کولہوں کی گولائیاں مزید ابھر آتیں۔ سائیڈ لیتی تو کمر درمیان سے گہری ہو جاتی اور کولہے مزید اونچے لگنے لگتے۔ سوتے، جاگتے، کروٹیں بدلتے، اونگھتے، خواب دیکھتے وہ اٹھ کھڑ ی ہوئی۔ مذہب سے بغاوت اس کے لہو میں دوڑنے لگی۔ بشری تقاضوں نے ایسا مجبور کیا کہ صبر و ضبط کی مُورت چٹخ کے ٹوٹ گئی۔ یہ کیسا مذہب ہے جو کسی عورت پر اس قدر پا بندی لگاتا ہے کہ وہ ایک ازدواجی وظیفے سے عاری مرد کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور ہو جائے۔ ایسا مرد جو اس کی تسکین نہیں کر سکتا۔ اس کے جوان بدن کی فطری ضروریات کی تکمیل کے لیے مذہب کے پاس کوئی حل نہیں ہے۔ اسے خود اپنے بدن سے نظر چرانی مشکل ہوگئی۔ اس نے ایک نظر اپنے بَھر پُور جسم پر ڈالی اور دوسری نگاہ اپنی مجبوریوں پر۔ ایک ٹھنڈی آہ بھری اور بستر چھوڑ دیا۔ اسے بہت سارے کام نپٹانے تھے۔ کاموں میں لگ کے وہ اس کیفیت سے وقتی طور پر نکل آئی۔ شام ہوئی تو شوہر گھر آ گیا۔ اس کی محرومیوں کا جہان شوہر نامی برقی قمقمے نے پھر روشن کر دیا۔ اس کا دل چاہا شوہر کو زور کا دھکا دے۔اور اس دھکے میں ہِجر کا سارا درد بھر دے۔یا کہیں دور بھاگ جائے، بہت دور۔ کسی کی بانہوں میں چھپ جائے۔ کسی کے سینے سے لگ جائے۔ کسی کے پیار میں ڈوب جائے۔ لیکن یہ ممکن نہیں تھا۔ بے شمار مرد اس کے ایک اشارے منتظر تھے۔ اس کے لیے دیدہ و دل فراش کیے بیٹھے تھے۔ مگر اس کے قدموں میں تو زنجیریں تھیں مذہب نام کی زنجیریں۔ سماج نام کی زنجیریں۔ انسان معاشرے کے خوف سے بہت ساری تِشنہ خواہشات کو سینے میں دبا لیتا ہے وہ آخرت کے ڈر سے گناہ کا راستہ نہیں چنتا۔ وہ ماں باپ کی محبت میں اپنی آرزوؤں کا گلا گُھونٹ دیتا ہے۔ وہ کلستے ہوئے دو بارہ بستر پر ڈھیر ہو گئی۔ سونے جاگنے، کروٹیں بدلنے، اونگھنے، خواب دیکھنے اور تڑپنے کے لیے۔"
Nadiya Ambar LodhiNadiya Ambar Lodhi
Quote
"sim-o-zar ki koi tanvir nahin chaahti main kisi shahzaadi si taqdir nahin chaahti main maktab-e-ishq se vaabasta huun kaafi hai mujhe daad-e-'ghaalib' sanad-e-'mir' nahin chaahti main faizyaabi tiri sohbat hi se milti hai mujhe kab tire ishq ki taasir nahin chaahti main qaid ab vasl ke zindaan mein tu kar le mujh ko ye tire hijr ki zanjir nahin chaahti main mujh ko itni bhi na sikhlaa tu nishaana baazi tujh pe chal jaae miraa tiir nahin chaahti main ab to aataa nahin 'amabar' vo kabhi sapne mein ab kisi khvaab ki taabir nahin chaahti main"
Nadiya Ambar LodhiNadiya Ambar Lodhi