"baaqi hai ab bhi tark-e-tamanna ki aarzu kyunkar kahun ki koi tamanna nahin mujhe"

Aadil Aseer Dehlvi
Aadil Aseer Dehlvi
Aadil Aseer Dehlvi
Sherشعر
Popular Sher & Shayari
4 total"kaghaz tamam kilk tamam aur ham tamam par dastan-e-shauq abhi na-tamam hai"
baaqi hai ab bhi tark-e-tamannaa ki aarzu
kyunkar kahun ki koi tamannaa nahin mujhe
kaaghaz tamaam kilk tamaam aur ham tamaam
par daastaan-e-shauq abhi naa-tamaam hai
Ghazalغزل
gham hi gham hain khushi ke parde mein
غم ہی غم ہیں خوشی کے پردے میں موت ہے زندگی کے پردے میں آرزوئیں سسکتی رہتی ہیں میری تشنہ لبی کے پردے میں کار فرما ہیں حادثے لاکھوں میری دریا دلی کے پردے میں اب تمناؤں کے حسیں طائر ہیں مری بے کسی کے پردے میں کس کی خوشبو چمن چمن ہے اسیرؔ کون ہے روشنی کے پردے میں
apne hi dil ki baat se mahkaa gayaa huun main
اپنے ہی دل کی بات سے مہکا گیا ہوں میں اپنے ہی روح و جسم میں گھلتا گیا ہوں میں ایسی ہی کچھ کشش ہے جو ہوں فرش خاک پر ورنہ بلندیوں سے بھی اونچا گیا ہوں میں اے عشق راہ دوست ہے دشوار تر بہت یعنی نگاہ ناز میں آیا گیا ہوں میں ہر چہرہ آئنہ ہے نگاہوں کے سامنے ہر آئنے کے قلب میں دیکھا گیا ہوں میں مقصد ہر اک نگاہ کا میری نظر میں تھا کیا کیا فریب دوست ہیں بتلا گیا ہوں میں پھر کوئی بات میری صبا لے کے اڑ گئی خوشبو کی طرح پھولوں سے اڑتا گیا ہوں میں یا تو ترے شباب کو پہنچی نہیں نظر یا وسعت خیال سے گھبرا گیا ہوں میں ہر ابتدائی مرحلہ پیش نظر بھی تھا کیا ہے مآل عشق یہ سمجھا گیا ہوں میں اشعار میرے تیرے تصور کا جذب ہیں جیسے ترے خیال سے ملتا گیا ہوں میں
jahaan sharaab kaa main ne gilaas dekhaa hai
جہاں شراب کا میں نے گلاس دیکھا ہے غم حیات تجھے بد حواس دیکھا ہے جو انکسار ہے میرا حجاب آلودہ ترے غرور کو بھی بے لباس دیکھا ہے کسی امیر کا کیف و سرور یاد آیا کسی غریب کو جب بھی اداس دیکھا ہے ہمیں فریب دیا ہے اس آدمی نے ضرور جسے ذرا سا بھی چہرہ شناس دیکھا ہے مری حیات سے واقف نہیں قلم میرا کہ شاعری نے فقط اقتباس دیکھا ہے
vo bazm kahaan aur ye daryuza-gari
وہ بزم کہاں اور یہ دریوزہ گری لے جائے گی مجھ کو مری آشفتہ سری دیوانے نے تاویل کوئی پیش نہ کی ہونے کو تو الزام سے ہو جاتا بری اک دیو نے قصے میں ڈرایا تھا مجھے پھر رات کو سپنے میں چلی آئی پری پتھر کو بھی دیکھا تو چمک پھوٹ پڑی سیکھی ہے کہاں تو نے یہ آئینہ گری اے خلوتئ حسن کبھی پردہ اٹھا اے عشق جنوں خیز کبھی پردہ دری بے تاب ہے دنیا مرے نغموں کے لیے سنتا نہیں فریاد یہاں تو ہی مری
mere jiine ki sazaa ho jaise
میرے جینے کی سزا ہو جیسے زندگی ایک خطا ہو جیسے دل کے گلشن سے گزر جاتی ہے یاد اک باد صبا ہو جیسے یوں خیالوں میں چلے آتے ہو کوئی پابند وفا ہو جیسے یاد ہے تجھ سے بچھڑنے کا سماں شاخ سے پھول جدا ہو جیسے اپنی باتوں پہ گماں ہوتا ہے تو نے کچھ مجھ سے کہا ہو جیسے اس سے مل کر ہوا محسوس اسیرؔ وہ مرے ساتھ رہا ہو جیسے





