kyuun na apni khubi-e-qismat pe itraati havaa
phuul jaise ik badan ko chhu kar aai thi havaa
Abid Munavari
Abid Munavari
Abid Munavari
Popular Shayari
1 totalGhazalغزل
مقدر میں ساحل کہاں ہے میاں مری ناؤ بے بادباں ہے میاں جو برق تپاں سے منور رہے وہی آشیاں آشیاں ہے میاں کہاں جائیے مے کدہ چھوڑ کر یہی ایک جائے اماں ہے میاں ابد تک مکمل نہ ہو پائے گی شب غم کی یہ داستاں ہے میاں کہاں پاؤں رکھوں پریشان ہوں زمیں صورت آسماں ہے میاں مقدس سہی کاروبار وفا مگر اس میں نقصان جاں ہے میاں عجب پھیکی پھیکی سی ہے چاندنی اداس آج کیوں چندرماں ہے میاں جہاں دل کے بدلے میں ملتا ہے دل وہ دنیا نہ جانے کہاں ہے میاں نہیں مجھ سے عابدؔ وہ کچھ خاص دور فقط زندگی درمیاں ہے میاں
muqaddar mein saahil kahaan hai miyaan
41 views
شعبدہ یہ مری نظر کا ہے درد دنیائے رنگ و بو کا ہے آپ ہوں ہم ہوں رقص ساغر ہو دل میں مدت سے یہ تمنا ہے غم کا مفہوم کیا بتائیں ہم غم کا مفہوم کون سمجھا ہے گو مخالف ہے گردش دوراں پھر بھی گردش میں جام صہبا ہے اب کہاں ہیں خلوص کے بندے ہر کوئی دوست مال و زر کا ہے ہم نہ آتے تمہاری محفل میں کیا کریں سب قصور دل کا ہے یہ ہے اعجاز پارسائی کا لب عابد پہ ذکر صہبا ہے میرے حسن سلوک کی عابد ہر کوئی مجھ کو داد دیتا ہے
sho'bda ye miri nazar kaa hai
41 views
آرزو جب جواں نہیں ہوتی زندگی نغمہ خواں نہیں ہوتی کس طرح حال دل بیاں کرتے عاشقوں کی زباں نہیں ہوتی آپ جب مہرباں نہیں ہوتے موت بھی مہرباں نہیں ہوتی دل کی بازی لگانے والوں کو فکر سود و زیاں نہیں ہوتی رنج سہہ کر بھی رات دن عابدؔ ہم سے آہ و فغاں نہیں ہوتی
aarzu jab javaan nahin hoti
41 views
ہر دوست کو آزما رہا ہوں دانستہ فریب کھا رہا ہوں جادہ نہ کوئی نشان منزل کس سمت قدم بڑھا رہا ہوں وہ اور نگاہ لطف مجھ پر کس وہم میں مبتلا رہا ہوں کیا یوں پلٹ آئے گا وہ بچپن کیوں ریت کے گھر بنا رہا ہوں اک ذرۂ خاک ہوں میں لیکن سورج سے نظر ملا رہا ہوں عابدؔ یہ ہے بے حسوں کی محفل حال اپنا کہاں سنا رہا ہوں
har dost ko aazmaa rahaa huun
41 views
واعظو یہ شراب خانہ ہے ہم فقیروں کا آستانہ ہے عشق میں جان دینے والوں نے موت کو بھی حیات جانا ہے رات کو خواب میں یہ دیکھا تھا خلد میں بھی شراب خانہ ہے روٹھنا زندگی سے اے عابدؔ موت کا حوصلہ بڑھانا ہے
vaaizo ye sharaab-khaana hai
41 views
جب آسمان پر مہ و اختر پلٹ کر آئے ہم رخ پہ دن کی دھوپ لیے گھر پلٹ کر آئے نظارہ جن کا باعث رحم نگاہ تھا آنکھوں کے سامنے وہی منظر پلٹ کر آئے ہر گھر سلگ رہا تھا عجب سرد آگ میں جب عرصہ گاہ جنگ سے لشکر پلٹ کر آئے صد رشک التفات تھا جب اس کا جور بھی جی کیوں نہ چاہے پھر وہ ستم گر پلٹ کر آئے جو بات گفتنی تھی وہی ان کہی رہی بے رس جو تذکرے تھے زباں پر پلٹ کر آئے دنیا سے ہو گئے نہ ہوں آزردہ دل کہیں پھر اس زمین پر نہ پیمبر پلٹ کر آئے یہ بات اگر ہے سچ کہ پلٹتا نہیں ہے وقت لمحات غم مرے لیے کیوں کر پلٹ کر آئے کہتے ہیں اس نے دیکھی تھی کل ایک جل پری ہر لب پہ ہے دعا کہ شناور پلٹ کر آئے اے عابدؔ آسماں پہ نہ کچھ بھی اثر ہوا مجھ پر ہی میری آہ کے پتھر پلٹ کر آئے
jab aasmaan par mah-o-akhtar palaT kar aae
41 views





