SHAWORDS
Achyutam Yadav

Achyutam Yadav

Achyutam Yadav

Achyutam Yadav

poet
2Shayari
8Ghazal

Popular Shayari

2 total

Ghazalغزل

See all 8
غزل · Ghazal

بہہ گیا اس کا بھی لہو شاید تھک گیا ہے مرا عدو شاید روٹھ کر آج اپنے دلبر سے لوٹ آیا وہ اپنے کو شاید چاہتا تھا تجھے تباہ کروں ہو گیا دل پذیر تو شاید رب نے شب میں فلک کے کپڑوں پر تاروں سے کر دیا رفو شاید میرے دل کو مری ذہانت سے کرنی ہے کوئی آرزو شاید مجھ کو غمگین کرتی جاتی ہے آج خلوت کی جستجو شاید

bah gayaa us kaa bhi lahu shaayad

41 views

غزل · Ghazal

جوانی زیست کا ہی ایک حصہ ہے پر اس نے میرا بچپن مجھ سے چھینا ہے بجائے خودکشی کے دیکھ کر شیشہ وہ جی بھر کے اگر رو لے تو اچھا ہے پکڑ کر ایک انگلی ان کناروں کی ندی نے دھیرے دھیرے چلنا سیکھا ہے اترتے ہی زمیں پہ رات نے دیکھا تھکا ہارا سا دن مٹی پہ لیٹا ہے خود اپنے بچہ کو ہی گود میں لے کے مجھے اک اچھا بیٹا بننا آیا ہے مری آنکھیں مجھے سمجھیں نہ سمجھیں پر مرے آنسو کا ہر قطرہ سمجھتا ہے ذرا سی بات پر دل دکھتا ہے ابترؔ یہ کوئی کہہ دے تو دل اور دکھتا ہے

javaani ziist kaa hi ek hissa hai

41 views

غزل · Ghazal

دوستی ہو گئی ہے خلوت سے چاہتا تھا یہی میں مدت سے ہے کہاں وقت اک قلی کو جو بچوں کو دیکھ پائے فرصت سے تنگ دستی کی دین ہے کہ وہ شخص گل چراتا ہے میری تربت سے کوئی سمجھا نہیں شجر کے دکھ چھاؤں سب نے خریدی دولت سے مشکلیں زینہ چڑھتی ہیں جب بھی حوصلے کود جاتے ہیں چھت سے تم بنے ہو مرے لیے ابترؔ یہ صدا آ رہی ہے جنت سے

dosti ho gai hai khalvat se

41 views

غزل · Ghazal

یا تو رک جاؤ کہ شاید مرا یار آ جائے گھونپ دو ورنہ یہ خنجر کہ قرار آ جائے کیا خبر تیرے تبسم کی کشادہ رت میں میرے ناشاد لبوں پر بھی بہار آ جائے کیا یہ تکلیف ہی ہم راہ رہے گی میری کاش پیروں تلے اس کے کوئی خار آ جائے زیب و زینت نہ کر اتنی کہ کہیں لے کے فغاں کل کو در پر ترے پھولوں کی قطار آ جائے اس لئے کی ہے محبت کی زمیں تر اس نے خشک ہوں جیسے ہی آنسو تو درار آ جائے

yaa to ruk jaao ki shaayad miraa yaar aa jaae

41 views

غزل · Ghazal

کبھی میں چلوں کبھی تو چلے کبھی بے مزہ یہ سفر نہ ہو کسے منزلوں کی تلاش ہے ہمیں چلتے رہنے کا ڈر نہ ہو کہاں شب ہے اور کہاں سحر کہاں دھوپ اور کہاں چاندنی میں ترے گمان میں ہی رہوں مجھے ان سبھی کی خبر نہ ہو یہ جو آنسوؤں کا لفافہ ہے کئی درد اس میں پلے بڑھے کبھی جھانک لے مری آنکھ میں تجھے اعتبار اگر نہ ہو نہ عیاں ہوئیں مری خامیاں نہ عیاں ہوئیں تری خامیاں کوئی کرنا چاہے بھی گر عیاں تو صدا میں اس کی اثر نہ ہو

kabhi main chalun kabhi tu chale kabhi be-maza ye safar na ho

41 views

غزل · Ghazal

بے نفس اور بے صدا چہرہ ایسا ہی لگتا ہے مرا چہرہ میرا اک چہرہ دیکھا ہے تم نے پر نہیں دیکھا دوسرا چہرہ اس کی پیشانی پہ لکھی تھی بھوک ماں نے بیٹے کا جب پڑھا چہرہ ایسا چہرہ تو مجھ پے جچتا ہے کیوں ہے بے کیف آپ کا چہرہ اک دیا لے کے آیا پلکوں پر خاک سا وہ بجھا بجھا چہرہ ان غموں نے تو پھینکا تھا تیزاب غزلوں نے دے دیا نیا چہرہ

be-nafas aur be-sadaa chehra

41 views

Similar Poets