"mere ashjar azadar hue jaate hain gaanv ke gaanv jo bazar hue jaate hain"

Ahmad Irfan
Ahmad Irfan
Ahmad Irfan
Sherشعر
Popular Sher & Shayari
2 totalmere ashjaar azaadaar hue jaate hain
gaanv ke gaanv jo baazaar hue jaate hain
Ghazalغزل
main na kahtaa thaa mire bhaai nahin ho sakti
میں نہ کہتا تھا مرے بھائی نہیں ہو سکتی آگ پانی میں شناسائی نہیں ہو سکتی تتلیاں پھول پرندے اسے لینے آئے اس سے بڑھ کر تو پذیرائی نہیں ہو سکتی میرے چہرے پہ یہ مانگی ہوئی آنکھیں نہ لگا ان میں جو ہے مری بینائی نہیں ہو سکتی اک کنواں ہے سو ہے معلوم مرے بھائیوں کو راستے میں تو کوئی کھائی نہیں ہو سکتی پینٹنگ جان مصور کے بنے ہاتھوں کی در و دیوار پہ یہ کائی نہیں ہو سکتی جگ ہنسائی مری کروا دی زمانے بھر میں تم تو کہتے تھے کہ رسوائی نہیں ہو سکتی آ گیا دستہ ابابیلوں کا احمد عرفانؔ اب ہمیں جنگ میں پسپائی نہیں ہو سکتی
mere ashjaar azaadaar hue jaate hain
میرے اشجار عزادار ہوئے جاتے ہیں گاؤں کے گاؤں جو بازار ہوئے جاتے ہیں ابھی ہجرت کا ارادہ بھی نہیں ہے میرا راستے کس لئے دشوار ہوئے جاتے ہیں جو فریقین کے مابین سلجھ سکتے تھے مسئلے سرخیٔ اخبار ہوئے جاتے ہیں صاحب عز و شرف ایک نظر ہم پر بھی تیری دنیا میں بہت خار ہوئے جاتے ہیں ایسی اشیائے زمانہ میں کشش ہے کہ سبھی دیکھ دنیا کے طلب گار ہوئے جاتے ہیں میں کنارے پہ کھڑا دیکھ رہا ہوں اور لوگ جست بھر بھر کے سبھی پار ہوئے جاتے ہیں خشک پتوں کی طرح ہم بھی تو احمدؔ عرفان ٹوٹ کر شاخ سے بے کار ہوئے جاتے ہیں
havaa kaa shor to aaj aur bhi ziyaada hai
ہوا کا شور تو آج اور بھی زیادہ ہے چراغاں آنکھ میں کر لو اگر ارادہ ہے میں رہ گزر میں کہیں پر بکھر ہی جاؤں گا یہ میری روح پہ مٹی کا اک لبادہ ہے بہت دنوں کی مسافت کے بعد مجھ پہ کھلا کہ چل رہا ہوں میں جس پر اجاڑ جادہ ہے یہ تیرا ظرف نہیں تنگ و تار گھاٹی نہیں یہ میرے دل کا ہے رستہ بھی اور کشادہ ہے اسے تو کچھ نہیں معلوم دنیا داری کا مزاج کا ترا احمدؔ بھی کتنا سادہ ہے
ab kahaan jaaungaa uTh kar main yahin rahne de
اب کہاں جاؤں گا اٹھ کر میں یہیں رہنے دے وحشت خانہ بدوشی تو کہیں رہنے دے ہو گئی شاہ کو اب مات کہ میں کہتا رہا ارے رہنے دے پیادے کو وہیں رہنے دے لے کے جا سکتا ہے تو سر سے مرا چرخ کہن پر مرے پیروں تلے میری زمیں رہنے دے ترک ہجرت کا ارادہ بھی تو کر سکتا ہے کون ٹھہرے گا یہاں دل کے مکیں رہنے دے کج کلاہی نہ مجھے تخت نشینی سے غرض سربسر خاک ہوں اور خاک نشیں رہنے دے ہم کہ درویش ہیں اور عشق سے مطلب ہے ہمیں حسن کو اپنی جگہ چیں بہ جبیں رہنے دے عشق پھر اور پری زاد سے احمد عرفانؔ دیو پتھر کا بنا دے نہ کہیں رہنے دے
zamin-e-dil mein mohabbat ki fasl boi gai
زمین دل میں محبت کی فصل بوئی گئی سو اب کی بار مصیبت کی فصل بوئی گئی چلیں تو پیروں کے چھالے بھی بول اٹھتے ہیں سفر میں جیسے مشقت کی فصل بوئی گئی گلا زمیں سے کروں کیا کہ آسمان پہ بھی مرے جنم پہ شکایت کی فصل بوئی گئی تمہارا رزق تو آنا ہے آسماں سے مگر مرے لیے تو اذیت کی فصل بوئی گئی اسی لیے تو میسر نہیں سکون مجھے مرے وجود میں وحشت کی فصل بوئی گئی عجب نہیں ہے کہ جلدی میں چھوڑ دوں دنیا ہر ایک شخص میں عجلت کی فصل بوئی گئی تمہیں خبر ہے کہ ہم ساحلی پرندے ہیں ہمارے واسطے ہجرت کی فصل بوئی گئی اگے ہوئے تھے ہر اک سمت آئنے احمدؔ بڑے یقین سے حیرت کی فصل بوئی گئی
saraa-e-dahr kaa jaltaa makaan chhoD gayaa
سرائے دہر کا جلتا مکان چھوڑ گیا مگر وہ شخص کہ اپنا نشان چھوڑ گیا سکون کے وہ سبھی پل تو لے گیا ہے مگر مرے وجود میں اپنی تھکان چھوڑ گیا بھنور کے بیچ مرے ناخدا کو کیا سوجھی کہ ناؤ چھوڑ گیا بادبان چھوڑ گیا قفس میں تھا تو پرندہ چہکتا رہتا تھا مگر فلک پہ وہ اپنی اڑان چھوڑ گیا کسی بھی شخص کے جانے کا کیا گلہ کرتا بلا کی دھوپ میں جب سائبان چھوڑ گیا





