SHAWORDS
Akhtar Nazmi

Akhtar Nazmi

Akhtar Nazmi

Akhtar Nazmi

poet
4Sher
4Shayari
8Ghazal

Sherشعر

Popular Sher & Shayari

8 total

Ghazalغزل

See all 8
غزل · Ghazal

tark-e-vafaa ki baat kahein kyaa

ترک وفا کی بات کہیں کیا دل میں ہو تو لب تک آئے دل بیچارہ سیدھا سادا خود روٹھے خود مان بھی جائے چلتے رہیے منزل منزل اس آنچل کے سائے سائے دور نہیں تھا شہر تمنا آپ ہی میرے ساتھ نہ آئے آج کا دن بھی یاد رہے گا آج وہ مجھ کو یاد نہ آئے

غزل · Ghazal

koi jaise dariyaa pe pyaasaa nahin

کوئی جیسے دریا پہ پیاسا نہیں کتابیں تو ہیں پڑھنے والا نہیں بظاہر بہت تیز ہے روشنی مگر میرے گھر میں اجالا نہیں مجھے یہ خیال آج کیوں آ گیا کبھی اپنے بارے میں سوچا نہیں سب اک دوسرے سے جڑے ہیں مگر کسی کو کسی پر بھروسا نہیں نگاہوں پہ ہیں ایسی پابندیاں کہ اپنی طرف دیکھ سکتا نہیں بہت بھیڑ ہے لیکن اس بھیڑ میں کوئی مجھ کو چھو کر گزرتا نہیں صدا دیجئے دستکیں دیجئے وہ دروازہ اندر سے کھلتا نہیں اسے میری شہرت سمجھ لیجئے کسی نے مرا نام پوچھا نہیں سمندر کو نظمیؔ برا کیوں کہو تمہارا سفینہ تو ڈوبا نہیں

غزل · Ghazal

jo bhi mil jaataa hai ghar-baar ko de detaa huun

جو بھی مل جاتا ہے گھر بار کو دے دیتا ہوں یا کسی اور طلب گار کو دے دیتا ہوں دھوپ کو دیتا ہوں تن اپنا جھلسنے کے لئے اور سایہ کسی دیوار کو دے دیتا ہوں جو دعا اپنے لئے مانگنی ہوتی ہے مجھے وہ دعا بھی کسی غم خوار کو دے دیتا ہوں مطمئن اب بھی اگر کوئی نہیں ہے نہ سہی حق تو میں پہلے ہی حق دار کو دے دیتا ہوں جب بھی لکھتا ہوں میں افسانا یہی ہوتا ہے اپنا سب کچھ کسی کردار کو دے دیتا ہوں خود کو کر دیتا ہوں کاغذ کے حوالے اکثر اپنا چہرہ کبھی اخبار کو دے دیتا ہوں میری دوکان کی چیزیں نہیں بکتی نظمیؔ اتنی تفصیل خریدار کو دے دیتا ہوں

غزل · Ghazal

silsila zakhm zakhm jaari hai

سلسلہ زخم زخم جاری ہے یہ زمیں دور تک ہماری ہے اس زمیں سے عجب تعلق ہے ذرے ذرے سے رشتہ داری ہے میں بہت کم کسی سے ملتا ہوں جس سے یاری ہے اس سے یاری ہے ناؤ کاغذ کی چھوڑ دی میں نے اب سمندر کی ذمہ داری ہے بیچ ڈالا ہے دن کا ہر لمحہ رات تھوڑی بہت ہماری ہے ریت کے گھر تو بہہ گئے لیکن بارشوں کا خلوص جاری ہے کوئی نظمیؔ گزار کر دیکھے میں نے جو زندگی گزاری ہے

غزل · Ghazal

khayaal usi ki taraf baar baar jaataa hai

خیال اسی کی طرف بار بار جاتا ہے مرے سفر کی تھکن کون اتار جاتا ہے یہ اس کا اپنا طریقہ ہے دان کرنے کا وہ جس سے شرط لگاتا ہے ہار جاتا ہے یہ کھیل میری سمجھ میں کبھی نہیں آیا میں جیت جاتا ہوں بازی وہ مار جاتا ہے میں اپنی نیند دواؤں سے قرض لیتا ہوں یہ قرض خواب میں کوئی اتار جاتا ہے نشہ بھی ہوتا ہے ہلکا سا زہر میں شامل وہ جب بھی ملتا ہے اک ڈنک مار جاتا ہے میں سب کے واسطے کرتا ہوں کچھ نہ کچھ نظمیؔ جہاں جہاں بھی مرا اختیار جاتا ہے

غزل · Ghazal

ab nahin lauT ke aane vaalaa

اب نہیں لوٹ کے آنے والا گھر کھلا چھوڑ کے جانے والا ہو گئیں کچھ ادھر ایسی باتیں رک گیا روز کا آنے والا عکس آنکھوں سے چرا لیتا ہے ایک تصویر بنانے والا لاکھ ہونٹوں پہ ہنسی ہو لیکن خوش نہیں خوش نظر آنے والا زد میں طوفان کی آیا کیسے پیاس ساحل پہ بجھانے والا رہ گیا ہے مرا سایہ بن کر مجھ کو خاطر میں نہ لانے والا بن گیا ہم سفر آخر نظمیؔ راستہ کاٹ کے جانے والا

Similar Poets