lafz likhnaa hai to phir kaaghaz ki niyyat se na Dar
is qadar izhaar ki be-maanaviyyat se na Dar

Akhtar Shaikh
Akhtar Shaikh
Akhtar Shaikh
Popular Shayari
2 totalpaDosi piTte hain jab dariche aur darvaaze
main Thumri chheD detaa huun taraanaa chhoD detaa huun
Ghazalغزل
بدن کو چاک انا کو بریدہ کیا کرنا لہو سے رزق بھلا اب کشید کیا کرنا یہ بے حسی تو مرے گھر کا سانحہ ٹھہری گواہ اس میں کوئی چشم دید کیا کرنا شریک حبس ہوا ہو تو معرکہ کیسا فصیل شہر پھر اس میں شہید کیا کرنا یہ آئنہ تو کبھی منعکس نہیں ہوگا لباس خلق بدل کر مزید کیا کرنا
badan ko chaak anaa ko burida kyaa karnaa
40 views
ارادوں کا بدن کوئی بھی پایندہ نہیں رکھتا مرا اسم مکبر ہی مجھے زندہ نہیں رکھتا اب اس کی حاکمیت چند پہروں تک سمٹ آئی وہ ایسے حال میں بھی فکر آئندہ نہیں رکھتا چلا آتا ہوں میں الزام سے پہلے کٹہرے میں عدالت میں انا کی خود کو شرمندہ نہیں رکھتا سبھی لہجوں نے درس عافیت تو یاد رکھا ہے مساوی سوچ لیکن کوئی باشندہ نہیں رکھتا میں ایسے سرپھرے لوگوں میں بستا ہوں جہاں اخترؔ قبیلہ ختم ہو جائے نمائندہ نہیں رکھتا
iraadon kaa badan koi bhi paainda nahin rakhtaa
40 views
ادا نہ ہوں جب سخن زباں سے حریر جیسے نکالنا اس کمان سے لفظ تیر جیسے عجیب رت ہے اناج مانگے ہے اب ہوا بھی ہر ایک در پہ یہ دستکیں دے فقیر جیسے سبھی کے ہاتھوں میں ماس جلنے کی بو رچی ہے جھلس رہی ہو خلوص کی ہر لکیر جیسے میں اپنے عالم میں تیرے عالم سے پوچھتا ہوں وہاں بھی بستے ہیں لوگ کیا مجھ اسیر جیسے اسے بھی اب حرز جاں بنانا پڑے گا اخترؔ کہ ہو گیا ہے حریف روشن ضمیر جیسے
adaa na hon jab sukhan zabaan se harir jaise
40 views
شعور غم کی تنہائی سے جل تھل ہو چکی ہے میں کوئی زندگی تھا جو معطل ہو چکی ہے کوئی امداد کا پہلو نکل آنے سے پہلے جو مشکل تھی ہمارے سامنے حل ہو چکی ہے سحر کا جسم کیوں تکتے نہیں ہیں بستی والے شب افتاد تو آنکھوں سے اوجھل ہو چکی ہے نہ اب دکھلاؤ ان سے ملتا جلتا کوئی چہرہ مرے اندر کی دنیا کب کی پاگل ہو چکی ہے ہوئی نزدیک منزل تو نہیں چلنے کا یارا بدن کمزور ہے یا کھال بوجھل ہو چکی ہے ہمارے سر سے ابر عافیت گزرے تو جانیں ہوا رفتار میں کتنی مسلسل ہو چکی ہے فصیلیں سامراجی طوق پہنے رو رہی ہیں کہانی شاہزادوں کی مکمل ہو چکی ہے
shuur-e-gham ki tanhaai se jal-thal ho chuki hai
1 views
بے حسی کی دھول میں بے حس اٹے رہ جائیں گے لوگ اپنے اپنے فرقوں میں بٹے رہ جائیں گے ڈھانپ لے گی جبر کی دھرتی پرندوں کے بدن اور بال و پر فضاؤں میں کٹے رہ جائیں گے لوگ اتر آئیں گے غربت سے محاذ آرائی پر شہر میں ہر سمت ظالم مرہٹے رہ جائیں گے جنگلوں کی سمت بہہ جائے گا جسموں کا ہجوم شہر کی ویرانیوں میں سر کٹے رہ جائیں گے خواہشیں اڑ جائیں گی تازہ ہوا کے ساتھ ساتھ بستروں پر سلوٹوں کے جمگھٹے رہ جائیں گے آندھیاں ملبہ بنا کے چھوڑ جائیں گی انہیں حوصلے اپنے مکانوں کے ڈٹے رہ جائیں گے گفتگو ذہنوں میں کچھ تحلیل سی ہو جائے گی خود بخود مفہوم ہونٹوں پر رٹے رہ جائیں گے منزلیں اخترؔ پلٹ کر دیکھتی رہ جائیں گی ہم طلب کی راہ میں پیچھے ہٹے رہ جائیں گے
be-hisi ki dhuul mein behis aTe rah jaaeinge
پہاڑ سے کوئی راہ اترے تو میں بھی دیکھوں بلندیوں سے نگاہ اترے تو میں بھی دیکھوں گناہ کردہ بدن ہے اس کا تو تم بھی دیکھو صلیب سے بے گناہ اترے تو میں بھی دیکھوں سہے ہیں بستی نے موسموں کے عذاب کیا کیا چھتوں سے آب و گیاہ اترے تو میں بھی دیکھوں یہاں کسے راس آئی ہے رسم خود نمائی سروں سے ذوق کلاہ اترے تو میں بھی دیکھوں کہاں کہاں جسم دھوپ سے ہو گئے ہیں جل تھل نگر میں شام سیاہ اترے تو میں بھی دیکھوں
pahaaD se koi raah utre to main bhi dekhun





