kyon puchhte ho mujh se miri daastaan-e-gham
pinhaan hai meraa haal tumhaari nazar se kyaa
Akmal Jalandhari
Akmal Jalandhari
Akmal Jalandhari
Popular Shayari
1 totalGhazalغزل
یہ اور بات ہے جلوؤں کی تاب لا نہ سکی تری نظر کے مقابل نظر ہوئی تو ہے کہے کہے نہ کہے اس کو انقلاب کوئی خدا کی خلق ادھر سے ادھر ہوئی تو ہے خوشی خوشی نہ سہی سوگوار رہ کے سہی جہاں میں عمر ہماری بسر ہوئی تو ہے ارادتاً نہ سہی تو بہ اتفاق سہی مگر ادھر بھی کسی کی نظر ہوئی تو ہے
ye aur baat hai jalvon ki taab laa na saki
40 views
جمال یار کو پردے کی احتیاج نہیں یہ خود حجاب رخ بے نقاب ہوتا ہے اب اور اس کے مقابل کی جستجو ہے فضول کہ خود نظارہ نظر کا جواب ہوتا ہے بغیر عشق و محبت کے آدمی کا دل وہ آئنہ ہے جو بے آب و تاب ہوتا ہے کہیں نگاہ کرم بھول کر نہیں ہوتی کہیں کرم پہ کرم بے حساب ہوتا ہے وہ بے نقاب تو ہونے کے واسطے ہو جائے مگر نظام دو عالم خراب ہوتا ہے
jamaal-e-yaar ko parde ki ehtiyaaj nahin
سمجھ سکتے ہوں اہل دل تو یہ راز نہاں سمجھیں بجز نقص نظر پردہ نہ کوئی درمیاں سمجھیں ہماری بندگی آزاد ہے قید تعین سے وہیں ہے وہ خدا وند دو عالم ہم جہاں سمجھیں نہاں ہوتے ہوئے بھی تم عیاں ہو ذرے ذرے سے بتاؤ تو کہاں تم کو نہ سمجھیں ہم کہاں سمجھیں ابھی تک دست گلچیں میں ہے گلشن کی نگہبانی جب اپنا باغباں دیکھیں تو اپنا گلستاں سمجھیں چمن کے رہنے والوں میں کچھ ایسے بھی تو ہیں اکملؔ جو اپنے گلستاں کو بھی نہ اپنا گلستاں سمجھیں
samajh sakte hon ahl-e-dil to ye raaz-e-nihaan samjhein
زباں خاموش ہوتی ہے نظر سے کام ہوتا ہے اسی ماحول کا شاید محبت نام ہوتا ہے فنا کے بعد پروانے کی میت بھی نہیں اٹھتی گنہ گار محبت کا یہی انجام ہوتا ہے یہ کیا انصاف ہے یارب کرے کوئی بھرے کوئی نگاہوں کی خطا ہوتی ہے دل بدنام ہوتا ہے تصور اور نظارے میں ہے بس امتیاز اتنا وہ منظر خاص ہوتا ہے یہ منظر عام ہوتا ہے
zabaan khaamosh hoti hai nazar se kaam hotaa hai





