achchhi surat bhi kyaa buri shai hai
jis ne Daali buri nazar Daali
Alamgir Khan Kaif
Alamgir Khan Kaif
Alamgir Khan Kaif
Popular Shayari
1 totalGhazalغزل
تمام دن مجھے کیف شراب رہتا ہے بلند چار پہر آفتاب رہتا ہے کھلا یہ وعدۂ فردا اے حشر سے ہم کو کہیں بھی حسن میان نقاب رہتا ہے ترے گلے کو کہوں کس طرح بہشت اے حور یہاں تو جان پہ ہر دم عذاب رہتا ہے وہ عاشقوں کو برابر کہاں سمجھتے ہیں کسی پہ لطف کسی پر عتاب رہتا ہے تری تلاش میں جو کوئی سریع السیر کب ایک جا صفت ماہتاب رہتا ہے غرور بدر کو کیا ہو کمال پر اپنے جہاں میں کس کا ہمیشہ شباب رہتا ہے مری طرف سے وہ کروٹ بدل سکے سوتے میں وصال میں بھی مجھے اضطراب رہتا ہے غش آتے ہیں مجھے پیہم فراق ساقی میں عوض شراب کے خم میں گلاب رہتا ہے زمانۂ وصل تو فرقت بھی کوئی دم کی ہے ہر ایک شے کو یہاں انقلاب رہتا ہے تمہاری عارض رنگیں کو جب سے دیکھا ہے چمن میں زرد گل آفتاب رہتا ہے وہ بحر حسن ہے جیسے کنارہ کش ہم سے دم اپنی آنکھوں میں شکل حباب رہتا ہے مرا شباب کا پیری میں بھول جاتا ہے سحر کو یاد بھلا کب یہ خواب رہتا ہے ہوش جس کے ہی دیر و حرم میں لوگوں کو ہمارے دل میں وہ خانہ خراب رہتا ہے وصال میں ہو مزہ کیوں نہ بادہ خواری کا ہمیں لحاظ نہ ان کو حجاب رہتا ہے یہ دور بادہ ہے امسال بزم عالم میں کہ دست کیفؔ میں جام شراب رہتا ہے
tamaam din mujhe kaif-e-sharaab rahtaa hai
ملتا نہیں کسی کو تو او خانماں خراب پھرتا ہے جستجو میں تری اک جہاں خراب کیوں کر نہ دل سیاہ کرے عشق زلف یار ہوتا ہے رفتہ رفتہ دھویں سے مکاں خراب دام و قفس میں جا کے پھنسا ہوں میں پیشتر سو بار ہو چکا ہے مرا آشیاں خراب خود رفتہ کر دیا ہے یہ جوش بہار نے پھرتے ہیں بوئے گل کی طرح باغباں خراب بوسے کے چاٹ پر نہ زیادہ لگائیے کرتے ہیں آپ کس لئے میری زباں خراب لے چل جوں خدا کے لئے اور سمت کو ناقص یہاں زمیں ہے یہاں آسماں خراب وحشت میں کھیل ہے مجھے زنجیر توڑنا حداد سے کہو نہ کرے بیڑیاں خراب میں بوسہ مانگتا ہوں وہ دیتے ہیں گالیاں یاں بھی زباں خراب ہے واں بھی زباں خراب حرص و ہوا سے ہے دل غمگیں بھرا ہوا لے جاؤں پیش یار میں کیا ارمغاں خراب دشنام اگر یوں ہی مجھے دے گا تو رات دن بگڑے گا کیا مرا تری ہو کے زباں خراب ملتا ہے کب وہ یوسف گم گشتہ دیکھیے پھرتا ہوں مثل گرد رہ کارواں خراب دریا کے آگے اصل نہیں مشت خاک کی کیا ہو غبار جسم سے روح رواں خراب نکلے گا خط ضرور تری روئے صاف پر اک دن بہار باغ کرے گا خزاں خراب گھبرا کے کہہ نہ یار سے اے دل غم فراق قصے کا لطف کیا ہے اگر ہو بیاں خراب اے کیفؔ اس کے واسطے عالم تباہ ہے یوسف کی جستجو میں ہے یہ کارواں خراب
miltaa nahin kisi ko tu o khaanumaan-kharaab
بت پرستی پہ جو اپنا دل ناشاد آیا سنگریزوں میں نظر حسن خداداد آیا میری در تک جو کبھی وہ ستم ایجاد کیا پاؤں چوکھٹ پہ نہ رکھے تھے کہ گھر یاد آیا عرش سے آ کے فرشتوں نے سنبھالا مجھ کو گرتے گرتے جو ترا نام مجھے یاد آیا آئینہ طاق سے اترا ہی خدا خیر کرے ناز و انداز سکھانے انہیں استاد آیا بعد مرنے کے لحد میں جو لگا ہونے عذاب یاد کیا کیا نہ مجھے وہ ستم ایجاد آیا تو اماں دہر میں الفت سے ہوا میں پیدا عشق ہم راہ مرے صورت ہم زاد آیا دل میں گو لاکھ تھے شکوے مگر ان کے آگے ایسے کھوئے گئے کچھ بھی نہ ہمیں یاد آیا بے ستوں پر جو کبھی جاؤں میں وہ عاشق ہوں نقش شیریں سے صدا آئی کہ فرہاد آیا اس قدر خوف اسیری ہے مرے گلشن میں اپنے سائے کو سمجھتا ہوں کہ صیاد آیا میری وحشت سے نہ ان کو کہیں سودا ہو جائے پوچھتے پھرتے ہیں اک ایک سے فصاد آیا قمریوں کے لیے سولی سے سوا سرو ہوا سیر گلشن کو جو وہ غیرت شمشاد آیا اوڑھ کر سرخ دوپٹہ مجھے مارا اس نے بن کے مریخ مری قتل کو جلاد آیا ارغواں زار چمن کھیت بنا کشتوں کا آج گلزار میں ایسا کوئی جلاد آیا اور تو کون مصیبت میں خبر لیتا ہے جب کلیجہ بھی نہ منہ کو دم فریاد آیا میری وحشت نے مرے گھر کو بنایا بازار کبھی فصاد سدہارا کبھی حداد آیا کیفؔ کا حال عجب تھا غم تنہائی سے بچ گئے جان جو اس دم وہ پری زاد آیا
but-parasti pe jo apnaa dil-e-naashaad aayaa
عشق جب باریاب ہوتا ہے خانۂ دل خراب ہوتا ہے صاف ان سے جواب ہوتا ہے روز قاصد خراب ہوتا ہے جسم خاکی کو چھوڑتی ہے روح یہ گھروندا خراب ہوتا ہے جو ہی مخلوق شان خالق ہے ایک کا بھی جواب ہوتا ہے نامہ بر کہتے ہیں نہ لکھو خط مفت کاغذ خراب ہوتا ہے دیکھ لینا یہ گنبد گردوں کوئی دن میں خراب ہوتا ہے پیجیے پیجیے شراب کہیں دل سوزاں کباب ہوتا ہے ہم سے مرتے ہوؤں کو اے قاتل ذبح کرنا ثواب ہوتا ہے اے قیامت نہ کر زیادہ شور عاشقوں سے حساب ہوتا ہے دیکھ کر طفل اشک کو بولے ایسا لڑکا خراب ہوتا ہے ہجر میں آ کے میرے آنکھوں میں کیا پریشان خواب ہوتا ہے رحم اے گریۂ شب فرقت خون چشم پر آب ہوتا ہے فاتحہ پڑھ کے رونا تربت پر یار ہم پر عذاب ہوتا ہے ان کے رخ کے حضور خجلت سے آئینہ آب آب ہوتا ہے دیکھ کر آہوان چشم صنم زہرۂ شیر آب ہوتا ہے حشر میں کیوں ہجوم ہے اتنا کیا کوئی بے نقاب ہوتا ہے کیفؔ توبہ کرو محبت سے نام الفت خراب ہوتا ہے
'ishq jab baaryaab hotaa hai
دل میں جمال یار کی تنویر دیکھیے اس آئنے میں صورت تصویر دیکھیے رسوا تمام خلق میں ہوں یا ذلیل ہوں کیا دن دکھائے نالۂ شبگیر دیکھیے بندہ کہاں جناب کہاں یہ مکاں کہاں مقسوم دیکھیے مری تقدیر دیکھیے اب کے جو ہول دل ہو تو یہ کیجئے علاج سینے پہ رکھ کے یار کے تصویر دیکھیے دروازہ کھولیے مجھے گھر میں بلائیے کب سے ہلا رہا ہوں میں زنجیر دیکھیے ہے قصر تن میں رعشۂ پیری سے زلزلہ گرتی ہے کوئی دم میں یہ تعمیر دیکھیے کوچے میں آپ کے مرے مٹی خراب ہے برباد ہو رہی ہے یہ اکسیر دیکھیے جلاد سے کہو کہ نہ پوچھے وصیتیں ہوتی ہے میرے قتل میں تاخیر دیکھیے محشر میں بھی ہوا نہ مرا ان کا فیصلہ طول کلام و وسعت تقریر دیکھیے دل آپ کا تو کیا ہے ابھی عرش تک ہلے منظور ہو تو آہ کی تاثیر دیکھیے بیمار ہو کے بوسۂ عناب لب لیا مجھ کو نہ دیکھیے مری تدبیر دیکھیے جب بوسہ مانگتا ہوں میں کرتے ہو حجتیں اتنے سے منہ پہ اور یہ تقریر دیکھیے پیری میں ہم کو عشق مژہ کا خیال ہے ہوتی ہے یہ کمان ہدف تیر دیکھیے منظور امتحان ہے بخشش کا آپ کے کرتا ہوں کس امید پہ تقصیر دیکھیے
dil mein jamaal-e-yaar ki tanvir dekhiye
کھوئے نہ کس طرح سے ترا اعتبار جھوٹ اک سچ اگر زبان پہ ہے تو ہزار چھوٹ کرتا ہے آدمی کو بہت بے وقار جھوٹ چھڑوا دے مجھ سے اے مرے پروردگار جھوٹ حق حق نہ کس طرح سے کہوں ان سے حال دل سچ کا تو اعتبار نہیں درکنار جھوٹ چھپتا ہے اوس صنم سے کہیں عشق ساختہ عیسیٰ سے کوئی خاک بتائے بخار جھوٹ میں نقش پائے غیر کو پہچانتا ہوں خوب کھاؤ نہ میرے سر کی قسم اے نگار جھوٹ دل کی تڑپ سے رات کو بجلی بھی مات تھی کہتا نہیں ہے یار ترا بے قرار جھوٹ کیوں کر یقیں ہو تیرے دہان و کمر کا یار ثابت کیا ہے میں نے ترا لاکھ بار جھوٹ چھوڑوں گا میں رکاب نہ ہو کر غبار بھی اس میں سمجھ ذرا بھی نہ او شہسوار جھوٹ کیا فائدہ اگر ہو کوئی بے چھری حلال کرتے ہو کیوں بہانۂ سید و شکار جھوٹ حق حق رہے زبان پہ منصور کی طرح بولے نہ دار پر بھی ترا جاں نثار جھوٹ عاشق کو روتے دیکھ کے وعدہ وفا کیا چھوڑ آتی آج جا کے وہ دریا کے پار جھوٹ اللہ جانتا ہے جو بندے بتوں کے ہیں بولیں نہ مر کے بھی وہ میان مزار جھوٹ سچ مچ کیا جو وعدۂ وصل آج یار نے منہ سے نکل گیا مرے بے اختیار جھوٹ سچ تو یہ ہے کہ خوف جنوں سے ہوا ہو روح سن لوں جو آمد آمد فصل بہار جھوٹ لانا یقیں نہ کیفؔ کے اقوال و فعل کا گفتار اس کی جھوٹی ہے سب کاروبار جھوٹ
khoe na kis tarah se tiraa eatibaar jhuuT





