SHAWORDS
A

Aleem Afsar

Aleem Afsar

Aleem Afsar

poet
3Shayari
6Ghazal

Popular Shayari

3 total

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

کرنا پڑا تھا جس کے لئے یہ سفر مجھے وہ موج شوق چھوڑ گئی ریت پر مجھے آداب بزم کے سوا کچھ اور تو نہ تھا محفل میں اس نے پان دیے خاص کر مجھے لوٹا ہوں پھر وہ جسم کی ویرانیاں لئے حسرت سے دیکھتے ہیں یہ دیوار و در مجھے بازار کا تو ہوش ہے لیکن نہیں یہ یاد کل رات کون چھوڑ گیا میرے گھر مجھے آنکھوں کا نور سینے میں محفوظ کر لیا اس شہر میں جو ہونا پڑا بے بصر مجھے اس کے سوا یہ راز بھلا کون جانتا وہ سب کو گالیوں سے نوازے مگر مجھے

karnaa paDaa thaa jis ke liye ye safar mujhe

غزل · Ghazal

ہاتھوں سے میرے چھین کر دل کا مآل لے گئی جانے کہاں کہاں مجھے گردش حال لے گئی کام نہ کوئی آ سکا لیکن یہ آنکھ کی نمی سلسلۂ غبار سے مجھ کو نکال لے گئی موج ہوس کے دوش پر کوہ سیاہ تک گیا مجھ کو ہوائے شوق پھر تا بہ زوال لے گئی انگلیاں توڑے کوئی کر لے زبان سنگ کی دیکھیے سبقت شرف صوت بلال لے گئی تیز ہوا اڑا چلے جس طرح برگ زرد کو اس کی ہنسی بھی اپنے ساتھ میرا سوال لے گئی سامنے بحر بیکراں قیدی یک جزیرہ میں پھر بھی میں اس سے جا ملا موج خیال لے گئی

haathon se mere chhin kar dil kaa maaal le gai

غزل · Ghazal

بن کر لہو یقین نہ آئے تو دیکھ لیں ٹپکی ہیں پائے خواب سے صحرا کی وسعتیں پوچھے کبھی جو آبلہ پائی کی داستاں دریا سے کہہ بھی دیتے پہ صحرا سے کیا کہیں چلنا ہے ساتھ ساتھ رہ زیست میں تو آؤ نا آشنائیوں کی قبائیں اتار دیں جس کو چھپا کے دل میں سمندر نے رکھ لیا بادل کے منہ سے آؤ وہی داستاں سنیں پاؤں میں کتنے تاروں کے کانٹے چبھو لیے اس ایک آرزو میں کہ سورج سے جا ملیں چہروں پہ چن کے پھیلے تھے قوس قزح کے رنگ آؤ خرید لائیں کہیں سے وہ ساعتیں بادل نے آ کے روک دیا ورنہ ایک دن اک آگ پینے والی تھی جنگل کی الجھنیں

ban kar lahu yaqin na aae to dekh lein

غزل · Ghazal

بن کے ساحل کی نگاہوں میں تماشا ہم لوگ نقش پا ڈھونڈ رہے ہیں سر دریا ہم لوگ سائے چھوٹے تو پگھلنے لگے پھر دھوپ میں جسم کاش ہوتے نہ کبھی خود سے شناسا ہم لوگ ہم کو نفرت ہے اندھیروں سے مگر کیا کیجے کہ اجالوں سے بھی رکھتے نہیں رشتہ ہم لوگ کچھ نظر آتا نہیں جن میں دھندلکوں کے سوا کرتے رہتے ہیں انہیں خوابوں کے در وا ہم لوگ ذہن پر بار ہے آنکھوں کا مقدر ہے تھکن خواب اگر دیکھتے بھی ہیں تو ادھورا ہم لوگ اپنی ہی آنکھوں سے گرتے ہوئے دیکھا جس کو ڈھونڈھتے کیوں اسی دیوار کا سایا ہم لوگ

ban ke saahil ki nigaahon mein tamaashaa ham log

غزل · Ghazal

نہ پوچھ ربط ہے کیا اس کی داستاں سے مجھے بچھڑ گیا کہ بچھڑنا تھا کارواں سے مجھے مرے بدن میں کوئی بھر دے برف کے ٹکڑے کہ آنچ آتی ہے راتوں کو کہکشاں سے مجھے کرایہ دار بدلنا تو اس کا شیوہ تھا نکال کر وہ بہت خوش ہوا مکاں سے مجھے صدائیں جسم کی دیوار پار کرتی ہیں کوئی پکار رہا ہے مگر کہاں سے مجھے کھڑا کھڑا یوں ہی سر پر کہیں نہ آن گرے لگا ہی رہتا ہے یہ در بھی آسماں سے مجھے اب اس کی باری ہے تو اس سے کیسے منہ موڑوں کبھی تو اس نے بھی چاہا تھا جسم و جاں سے مجھے مرے ارادوں کو وہ مجھ سے پوچھ کر افسرؔ دو چار کر گیا اک اور امتحاں سے مجھے

na puchh rabt hai kyaa us ki daastaan se mujhe

غزل · Ghazal

چلے تھے بھر کے ریت جب سفر کی جسم و جاں میں ہم تو ساحلوں کا عکس دیکھتے تھے بادباں میں ہم طیور تھے جو گھونسلوں میں پیکروں کے اڑ گئے اکیلے رہ گئے ہیں اپنے خواب کے مکاں میں ہم ہماری جستجو بھی اب تو ہو گئی ہے گرد گرد کہ نقش پا کو ڈھونڈتے ہیں رہ کے ہر نشاں میں ہم اشاریت تھی بے زباں تھا لفظ لفظ داستاں سناتے کس طرح کہ گم تھے خود ہی داستاں میں ہم برس رہی ہے آسماں سے مثل سنگ تیرگی کھڑے ہیں کب سے تیری آرزو کے سائباں میں ہم زمیں کا درد بے بدن بھی ہو کے اپنے دل میں تھا تبھی تو کھنچ کے آ گئے تھے ورنہ آسماں میں ہم نفس نفس ہے زندگی کا کاروبار منتشر دیوالیہ ہوئے کہ جب سے آئے اس جہاں میں ہم

chale the bhar ke ret jab safar ki jism-o-jaan mein ham

Similar Poets