SHAWORDS
Ali Muzammil

Ali Muzammil

Ali Muzammil

Ali Muzammil

poet
1Shayari
8Ghazal

Popular Shayari

1 total

Ghazalغزل

See all 8
غزل · Ghazal

نہ ماہرو نہ کسی ماہتاب سے ہوئی تھی ہمیں تو پہلی محبت کتاب سے ہوئی تھی فریب کل ہے زمیں اور نمونہ اضداد کہ ابتدا ہی گناہ و ثواب سے ہوئی تھی بس ایک شب کی کہانی نہیں کہ بھول سکیں ہر ایک شب ہی مماثل عتاب سے ہوئی تھی وجود چشم تھا ٹھہرے سمندروں کی مثال نمود حالت دل اک حباب سے ہوئی تھی جزائے عشق حقیقی رہی طلب اپنی خطائے عشق مجازی جناب سے ہوئی تھی اسی سے تیرہ شبی میں ہے منظروں کا وجود وہ روشنی جو مشیت کے باب سے ہوئی تھی وہی تو جہد مسلسل کی ابتدا تھی علیؔ جب آشنائی قدم کی رکاب سے ہوئی تھی

na maah-ru na kisi maahtaab se hui thi

غزل · Ghazal

حسب مقصود ہو گیا ہوں میں راکھ کا دود ہو گیا ہوں میں ایک کمرے تلک بصیرت ہے کتنا محدود ہو گیا ہوں میں نام پہلے برائے نام تو تھا اب تو مفقود ہو گیا ہوں میں یوں کھنچے مفلسی میں سب رشتے جیسے مردود ہو گیا ہوں میں منفعت بانٹتا رہا کل تک آج بے سود ہو گیا ہوں میں شہر رد و قبول میں آ کر بود و نابود ہو گیا ہوں میں عمر کی نارسا مسافت میں گرد آلود ہو گیا ہوں میں حزن کی یاس کی ودیعت پر عین مسعود ہو گیا ہوں میں باب شہر سخن ہوا تھا علیؔ نطق مسدود ہو گیا ہوں میں

hasb-e-maqsud ho gayaa huun main

غزل · Ghazal

میری املاک سمجھ بے سر و سامانی کو ایک مدت سے میں لاحق ہوں پریشانی کو اب یہ معمول کے غم مجھ کو رلانے سے رہے سانحے چاہئیں اشکوں کی فراوانی کو لوٹ آئے گی جو افلاک سے فریاد مری کون بخشے گا سند میری ثنا خوانی کو پیش منظر بھی وہی تھا جو پس ذات رہا غم کی میراث ملی آنکھ کی حیرانی کو سینہ صد چاک کرو دل سے نہ اغراض کرو قید رہنے دو ابھی دشت میں زندانی کو موت بھی دیکھ کے انگشت بدنداں ہے علیؔ مرقد زیست سے لپٹی ہوئی ویرانی کو

meri imlaak samajh be-sar-o-saamaani ko

غزل · Ghazal

در شہی سے در گدائی پہ آ گیا ہوں میں نرم بستر سے چارپائی پہ آ گیا ہوں بدن کی ساری تمازتیں ماند پڑ رہی ہیں وہ بے بسی ہے کہ پارسائی پہ آ گیا ہوں نہیں ہے چہرے کا حال پڑھنے کی خو کسی میں سکوت توڑا ہے لب کشائی پہ آ گیا ہوں حصول گنج عطائے غیبی کے واسطے اب صفات ربی کی جبہ سائی پہ آ گیا ہوں اتار پھینکا مصالحت کا لباس میں نے سکوت توڑا ہے لب کشائی پہ آ گیا ہوں فتور مجھ میں نہیں ہے کوئی سبب تو ہوگا دعائیں دیتا ہوا دہائی پہ آ گیا ہوں علیؔ میں سبزے کو روندنے کی سزا کے باعث برہنہ سر سے برہنہ پائی پہ آ گیا ہوں

dar-e-shahi se dar-e-gadaai pe aa gayaa huun

غزل · Ghazal

شہر دل کنج بیابان نہیں تھا پہلے میں کبھی اتنا پریشان نہیں تھا پہلے بائیں پہلو میں جو اک سنگ پڑا ہے ساکت یہ دھڑکتا بھی تھا بے جان نہیں تھا پہلے شہریاروں سے مراسم تھے بہت ہی گہرے تیرہ بختوں سے بھی انجان نہیں تھا پہلے لفظ روٹھے ہوئے رہتے تھے قلم سے اکثر جن سے تجدید کا امکان نہیں تھا پہلے جب سفر کاٹ لیا ہے تو ملا ہے سب کچھ ساتھ میرے کوئی سامان نہیں تھا پہلے اب بھی بے نام بسر ہوتے ہیں اوقات مرے دل میں توقیر کا ارمان نہیں تھا پہلے آج چادر کے برابر ہے مرے قد کی بساط میں کسی شہر کا سلطان نہیں تھا پہلے کھائے بیٹھا ہے زمانے سے تعلق کا فریب تو علیؔ اتنا تو نادان نہیں تھا پہلے

shahr-e-dil kunj-e-bayaabaan nahin thaa pahle

غزل · Ghazal

خسارہ در خسارہ کر لیا جائے جنوں کو استعارہ کر لیا جائے یہ نقطہ بھی قرین مصلحت ہے عداوت کو گوارہ کر لیا جائے درون دل یم افسردگی ہے کوئی تنکا سہارا کر لیا جائے سخن ہائے برائے گفتنی سے غزل کو شاہپارہ کر لیا جائے سر آب رواں صحرا بچھا کر سرابوں سے کنارہ کر لیا جائے ضیا آنکھوں کی پتلی میں سمو کر اندھیرے کا نظارہ کر لیا جائے بھلا کیا کھیل ہے کار محبت جو دانستہ دوبارہ کر لیا جائے یہ دل میں ہے کہ سارے اشک پی کر بدن کو مٹی گارا کر کیا جائے بسانی ہے کوئی بستی کہ صحرا علیؔ اب استخارہ کر لیا جائے

khasaara-dar-khasaara kar liyaa jaae

Similar Poets