ek tasvir mein aa baiThe hain donon pahlu
mujh se ruThaa huaa tu tujh ko manaataa huaa main

Ali Sajid
Ali Sajid
Ali Sajid
Popular Shayari
1 totalGhazalغزل
میرے بہتے اشکوں میں ذائقہ نہیں ہوگا جب تلک تلاطم میں معجزہ نہیں ہوگا سب پرند شاخوں سے جاں بچا کے اڑتے ہیں وہ جو مر گیا شاید وہ اڑا نہیں ہوگا آسمان والے خود پھر تمہیں گرا دیں گے گر تمہارے شانوں پر حوصلہ نہیں ہوگا بس گزرنے والے کا اتنا دکھ تو ہے مجھ کو اب کبھی کہیں اس سے رابطہ نہیں ہوگا اب ہماری غزلوں کو روشنی نہیں ملتی وہ ہمارے بارے میں سوچتا نہیں ہوگا روشنی ہوا جادو سب پرانے قصے ہیں ہاں تمہاری آنکھوں سے کچھ سوا نہیں ہوگا میں تری امانت ہوں تو میری امانت ہے یہ جو وقت ہے ساجدؔ یہ سدا نہیں ہوگا
mere bahte ashkon mein zaaiqa nahin hogaa
جب جب اس کو یار منانا پڑتا ہے سرخ لبادہ اوڑھ کے جانا پڑتا ہے تم میری سوچوں پر قبضہ رکھتے ہو تم سے مجھ کو عشق نبھانا پڑھتا ہے ہم جیسوں کو وحشت تب اپناتی ہے اک چوکھٹ پہ شیش جھکانا پڑتا ہے وہ جب پھول سے وجد میں جا ٹکراتی ہے پھر گلشن کو ہوش میں لانا پڑھتا ہے اس لڑکی کے ساجدؔ ساجدؔ کہنے پر اب کالج بھی وقت پہ جانا پڑتا ہے
jab jab us ko yaar manaanaa paDtaa hai
کمرے کی جب سے تیرگی بڑھتی چلی گئی زخموں سے اپنی دوستی بڑھتی چلی گئی چاروں طرف سے خود میں لگائی گئی تھی آگ چاروں طرف ہی روشنی بڑھتی چلی گئی میں جتنا تیرے جسم کو پڑھتا چلا گیا خود سے پھر اتنی آگہی بڑھتی چلی گئی ساجدؔ ہمارے گاؤں میں دریا کے باوجود کیا راز ہے جو تشنگی بڑھتی چلی گئی
kamre ki jab se tirgi baDhti chali gai
جب عکس مرا شور مچانے میں لگ گیا کمرے سے میں بھی خود کو بھگانے میں لگ گیا الماریوں سے چیخ رہے ہیں تمہارے خط پھر ہوں ہوا میں ان کو جلانے میں لگ گیا اس بار میں نے خواب میں تصویر پھاڑ دی اس بار میں بھی اس کو بھلانے میں لگ گیا اک چوٹ میرے جسم کو کھانے میں لگ گئی اک خواب میری آنکھ چبانے میں لگ گیا
jab 'aks miraa shor machaane mein lag gayaa
صبا نے کان میں آ کر کہا ملے ہی نہیں حسین لوگ ترے گاؤں میں رہے ہی نہیں ہمیں کیا علم کہ کیا شے ہے آبلہ پائی ہم اپنے کمرے سے باہر کبھی گئے ہی نہیں ہمیں بچانے پہ راضی تھا اک جہان مگر پھر ایک موڑ وہ آیا کہ ہم بچے ہی نہیں تمام شہر نے مل جل کے کر لئے تقسیم یہ حادثات مرے یار جب ٹلے ہی نہیں مجھے گرانے پہ آندھی کا زور تھا کتنا میرے لگائے ہوئے پیڑ تو گرے ہی نہیں
sabaa ne kaan mein aa kar kahaa mile hi nahin
جب مرے نزدیک سورج میں کمی پیدا ہوئی پھر اندھیروں کے شہر میں روشنی پیدا ہوئی جب صدائے کن لگا کر وہ ذرا فارغ ہوا پھر خدا کی شان میں یہ شاعری پیدا ہوئی میں نے لفظوں کو پلائی ہے تری جھوٹی شراب تب کہیں غزلوں میں اپنی چاشنی پیدا ہوئی دو مسافر پھاند بیٹھے اجنبیت کا مزار دیکھتے ہی دیکھتے پھر دوستی پیدا ہوئی میرا رشتہ کچھ نہ تھا وحشت ترے اجداد سے پھر مرے گھر کیوں یہ لیلیٰ سی پری پیدا ہوئی
jab mire nazdik suraj mein kami paidaa hui





