bas itnaa yaad hai tujh se milaa thaa raste mein
phir apne aap se rahnaa paDaa judaa barson
Altaf Parwaz
Altaf Parwaz
Altaf Parwaz
Popular Shayari
1 totalGhazalغزل
سمندروں کو اٹھائے پھری گھٹا برسوں مگر میں پیاس نہ اپنی بچھا سکا برسوں بس اتنا یاد ہے تجھ سے ملا تھا رستے میں پھر اپنے آپ سے رہنا پڑا جدا برسوں میں ایک عمر بھٹکتا رہا ہوں صحرا میں کہ میری خاک اڑاتی رہی ہوا برسوں ہمی نے دامن شب کو نہ ہاتھ سے چھوڑا سحر کے گیت سناتی رہی صبا برسوں نسیم شاخ گل تر سے کیوں الجھتی ہے چمن میں پھول اگر پھر نہ کھل سکا برسوں تمہی نے راہ وفا پر قدم رکھا نہ کبھی چراغ بن کے میں ہر موڑ پر جلا برسوں کرن کرن مجھے پرواز کی نوید ہے آج رہا ہوں تیری فضاؤں میں پر کشا برسوں
samundaron ko uThaae phiri ghaTaa barson
اینٹ دیوار سے جب کوئی کھسک جاتی ہے دھوپ کچھ اور میرے سر پہ چمک جاتی ہے کتنے دروازے مجھے بند نظر آتے ہیں آنکھ جب اٹھ کے سر بام فلک جاتی ہے مجھ سے اس بات پہ ناراض ہیں ارباب خرد بات آئی ہوئی ہونٹوں پہ اٹک جاتی ہے مطمئن ہو کے کبھی سانس نہ لیں اہل چمن آگ سینوں میں ہوا پا کے بھڑک جاتی ہے جانے کیا بات ہے اب راہ وفا میں اکثر زندگی اپنے ہی سائے سے ٹھٹک جاتی ہے اک ہمیں آبلہ پائی سے گلہ مند نہیں دوستو گردش حالات بھی تھک جاتی ہے اب اندھیرا کبھی رستے میں نہیں آئے گا اب نظر حد نظر سے پرے تک جاتی ہے میرے ہاتھوں میں وہ ساغر ہے چھلکنے والا تا بہ دیوار حرم جس کی کھنک جاتی ہے آج اس پیکر رنگیں سے ملا ہوں پروازؔ جس کے دامن سے فضا ساری مہک جاتی ہے
iinT divaar se jab koi khisak jaati hai
لاکھ تیری ہی طرح کیوں نہ پرایا ہوتا تجھ سا کوئی تو مرے دھیان میں آیا ہوتا وقت کے ساتھ تو چلتا ہے زمانہ سارا وقت کے ساتھ مری طرح نبھایا ہوتا میں ترے شہر میں تنہا ہوں نہ جانے کب سے تو نہ ہوتا تری دیوار کا سایا ہوتا کھلکھلاتے ہوئے لمحوں سے لپٹنے والو روٹھنے والی رتوں کو بھی منایا ہوتا یوں تو ہر ایک شبستاں ہے منور تجھ سے کبھی میرا بھی کوئی خواب سجایا ہوتا لے گیا ساتھ اڑا کر میری نیندیں پروازؔ دھیان میں کاش نہ وہ شخص سمایا ہوتا
laakh teri hi tarah kyon na paraayaa hotaa





