"jo ho saka na mira us ko bhuul ja.un main para.i aag men kyuun ungliyan jala.un main"
Anvar Mahmood Khalid
Anvar Mahmood Khalid
Anvar Mahmood Khalid
Sherشعر
jo ho saka na mira us ko bhuul ja.un main
جو ہو سکا نہ مرا اس کو بھول جاؤں میں پرائی آگ میں کیوں انگلیاں جلاؤں میں
itna sannaTa hai kuchh bolte Dar lagta hai
اتنا سناٹا ہے کچھ بولتے ڈر لگتا ہے سانس لینا بھی دل و جاں پہ گراں ہے اب کے
ik dhamake se na phaT jaa.e kahin mera vajud
اک دھماکے سے نہ پھٹ جائے کہیں میرا وجود اپنا لاوا آپ باہر پھینکتا رہتا ہوں میں
hue asiir to phir umr bhar riha na hue
ہوئے اسیر تو پھر عمر بھر رہا نہ ہوئے ہمارے گرد تعلق کا جال ایسا تھا
Popular Sher & Shayari
8 total"itna sannaTa hai kuchh bolte Dar lagta hai saans lena bhi dil o jaan pe giran hai ab ke"
"ik dhamake se na phaT jaa.e kahin mera vajud apna laava aap bahar phenkta rahta huun main"
"hue asiir to phir umr bhar riha na hue hamare gird ta'alluq ka jaal aisa tha"
jo ho sakaa na miraa us ko bhuul jaaun main
paraai aag mein kyuun ungliyaan jalaaun main
itnaa sannaaTaa hai kuchh bolte Dar lagtaa hai
saans lenaa bhi dil o jaan pe giraan hai ab ke
ik dhamaake se na phaT jaae kahin meraa vajud
apnaa laavaa aap baahar pheinktaa rahtaa huun main
hue asiir to phir umr bhar rihaa na hue
hamaare gird ta'alluq kaa jaal aisaa thaa
Ghazalغزل
shahr-dar-shahr fazaaon mein dhuaan hai ab ke
شہر در شہر فضاؤں میں دھواں ہے اب کے کس سے کہیے کہ قیامت کا سماں ہے اب کے آنکھ رکھتا ہے تو پھر دیکھ یہ سہمے چہرے کان رکھتا ہے تو سن کتنی فغاں ہے اب کے چند کلیوں کے چٹکنے کا نہیں نام بہار قافلہ کل کا چلا تھا تو کہاں ہے اب کے تھی مگر اتنی نہ تھی کور زمانے کی نظر ایک قاتل پہ مسیحا کا گماں ہے اب کے اتنا سناٹا ہے کچھ بولتے ڈر لگتا ہے سانس لینا بھی دل و جاں پہ گراں ہے اب کے ہونٹ سل جائیں تو کیا آنکھ تو روشن ہے مری چشم خوں ناب کا ہر اشک رواں ہے اب کے کھل کے کچھ کہہ نہ سکوں چپ بھی مگر رہ نہ سکوں کس قدر ضیق میں خالد مری جاں ہے اب کے
an-kahe lafzon mein matlab DhunDhtaa rahtaa huun main
ان کہے لفظوں میں مطلب ڈھونڈھتا رہتا ہوں میں کیا کہا تھا اس نے اور کیا سوچتا رہتا ہوں میں یوں ہی شاید مل سکے ہونے نہ ہونے کا سراغ اب مسلسل خود کے اندر جھانکتا رہتا ہوں میں موت کے کالے سمندر میں ابھرتے ڈوبتے برف کے تودے کی صورت ڈولتا رہتا ہوں میں ان فضاؤں میں امڈتی پھیلتی خوشبو ہے وہ ان خلاؤں میں رواں، بن کر ہوا رہتا ہوں میں جسم کی دو گز زمیں میں دفن کر دیتا ہے وہ کائناتی حد کی صورت پھیلتا رہتا ہوں میں دوستوں سے سرد مہری بھی مرے بس میں نہیں اور مروت کی تپش میں کھولتا رہتا ہوں میں اک دھماکے سے نہ پھٹ جائے کہیں میرا وجود اپنا لاوا آپ باہر پھینکتا رہتا ہوں میں چین تھا خالدؔ تو گھر کی چار دیواری میں تھا ریستورانوں میں عبث کیا ڈھونڈھتا رہتا ہوں میں
jo ho sakaa na miraa us ko bhuul jaaun main
جو ہو سکا نہ مرا اس کو بھول جاؤں میں پرائی آگ میں کیوں انگلیاں جلاؤں میں وہ اب کے جائے تو پھر لوٹ کر نہ آئے کبھی بھلائے ایسے کہ پھر یاد بھی نہ آؤں میں سکھی رہے وہ سدا اپنے گھر کے آنگن میں اس اک دعا کے لئے ہاتھ اب اٹھاؤں میں نئی رتوں کے جھمیلے ہوں اس کا زاد سفر شکست عرض تمنا پہ گنگناؤں میں اٹھائے ناز وہی جس کی وہ امانت ہے نہ روٹھے مجھ سے نہ جا کر اسے مناؤں میں وہ روتی آنکھوں کرے چاک میری تصویریں اک ایک کر کے سبھی اس کے خط جلاؤں میں اٹھا کے دیکھے وہ کھڑکی کے ریشمی پردے تو چاہنے پہ بھی اس کو نظر نہ آؤں میں ہوا کے ہاتھ بھی پیغام وہ اگر بھیجے خیال بن کے بھی اس کے نگر نہ جاؤں میں وہ حادثات کی حدت سے جب پگھلنے لگے تو چاند بن کے خنک دل میں جگمگاؤں میں
khudaa bhi meri tarah baa-kamaal aisaa thaa
خدا بھی میری طرح با کمال ایسا تھا تراشا اس کو جو میرے خیال ایسا تھا ہر ایک لمحہ یہی ڈر تھا کھو نہ جائے کہیں رہا وہ پاس مگر احتمال ایسا تھا تھا تتلیوں کے پروں سا لطیف اس کا بدن جو تاب لمس نہ رکھے جمال ایسا تھا پگھلتی چاندی تھا نصف النہار پر جب تھا بکھرتا سونا تھا سورج زوال ایسا تھا جھکائے رکھتا تھا پلکیں وہ باتیں کرتے ہوئے کہاں کا شوخ تھا خلوت میں حال ایسا تھا لبوں سے پھوٹ بہا گیت سسکیاں بن کر کہ لفظ لفظ میں اس کے ملال ایسا تھا ہوئے اسیر تو پھر عمر بھر رہا نہ ہوئے ہمارے گرد تعلق کا جال ایسا تھا





