jo vaalid kaa buDhaape mein sahaaraa ban nahin saktaa
jo sach puchho to ho lakht-e-jigar achchhaa nahin lagtaa
Anwar Feroz
Anwar Feroz
Anwar Feroz
Popular Shayari
3 totallog to yunhi kahaa karte hain
log kahte hain to kahne diije
ye dil kaa karb labon tak kabhi na aaegaa
mire liye ye khamoshi kaa irtiqaa hi sahi
Ghazalغزل
ہم پہ تعزیر یہ رہنے دیجے آج حق بات بھی کہنے دیجے لوگ تو یونہی کہا کرتے ہیں لوگ کہتے ہیں تو کہنے دیجے سچا خورشید ابھر آئے گا جھوٹ کے چاند کو گہنے دیجے یہی منزل کا نشاں بھی دے گا خون رستوں پہ نہ بہنے دیجے کل نیا محل اٹھا لیجئے گا آج دیوار کو ڈھنے دیجے
ham pe taazir ye rahne diije
شکستہ پا ہی سہی دور کی صدا ہی سہی بکھر گیا جو ہوا سے وہ نقش پا ہی سہی یہ حکم ہے کہ گئے موسموں کو یاد کروں نئی رتوں کا تجسس مجھے ملا ہی سہی زمیں کے بعد ابھی آسماں کے دکھ بھی سہوں مرے لیے یہ سزا ہے بڑی عطا ہی سہی چراغ کہہ کے مرا نور مجھ سے چھین لیا چراغ پھر بھی رہوں گا بجھا ہوا ہی سہی سجا لیے ہیں مصائب کے نیر آنکھوں میں سکوں کی نیند نہیں ہے تو رتجگا ہی سہی اے دھڑکنوں کو نیا نور بخشنے والے میں نور سے ہی تہی تو مری خطا ہی سہی حقیقتوں کے بدن پر کوئی لبادہ نہیں اگر یہ سچ کی سزا ہے تو پھر سزا ہی سہی یہ دل کا کرب لبوں تک کبھی نہ آئے گا مرے لیے یہ خموشی کا ارتقا ہی سہی جہاں کے درد کو انوارؔ نے سمیٹ لیا میں اک خوشی کی تمنا میں مر مٹا ہی سہی
shikasta-paa hi sahi duur ki sadaa hi sahi
جہاں خود غرضیاں ہوں وہ نگر اچھا نہیں لگتا کہ جس میں بھائی لڑتے ہوں وہ گھر اچھا نہیں لگتا وہ دستار انا پہنے قبیلے کا ستارہ ہے امیر شہر کو لیکن وہ سر اچھا نہیں لگتا جو والد کا بڑھاپے میں سہارا بن نہیں سکتا جو سچ پوچھو تو ہو لخت جگر اچھا نہیں لگتا مجھے تو پیار ہے ان سے جو کام آتے ہیں اوروں کے فقط دولت کمانے کا ہنر اچھا نہیں لگتا چمن کو روندنے والے کو رہبر کس طرح مانوں وہ خود اچھا بنے مجھ کو مگر اچھا نہیں لگتا مجھے تو پیار والی اپنی کٹیا اچھی لگتی ہے جو ایواں نفرتیں دے اس کا در اچھا نہیں لگتا جو بچے بھول کر رنگینیوں میں غرق ہو جائے خدا شاہد ہے مجھ کو وہ پدر اچھا نہیں لگتا ہدف ہو سامنے انوارؔ تو چلتے ہی رہتے ہیں سرابوں کا ہم کو سفر اچھا نہیں لگتا
jahaan khud-gharziyaan hon vo nagar achchhaa nahin lagtaa





