"dekhe na faqiri ko koi shak se hamari divar men dar banta hai dastak se hamari"

Aqeel Shah
Aqeel Shah
Aqeel Shah
Sherشعر
Popular Sher & Shayari
4 total"zaval-e-umr men ka'be ki aarzu kaisi 'aqil' raat ga.e kya kisi ke ghar jaana"
dekhe na faqiri ko koi shak se hamaari
divaar mein dar bantaa hai dastak se hamaari
zavaal-e-umr mein kaa'be ki aarzu kaisi
'aqil' raat gae kyaa kisi ke ghar jaanaa
Ghazalغزل
usi ko dost rakhaa dusraa banaayaa nahin
اسی کو دوست رکھا دوسرا بنایا نہیں کئی بناتے ہیں میں نے خدا بنایا نہیں یہ بستی رات کا کس طرح سامنا کرے گی یہاں کسی نے بھی دن میں دیا بنایا نہیں پتا کرو کہ یہ نقاش کس قبیل کا ہے پرندہ جب بھی بنایا رہا بنایا نہیں یہ لوگ ظلم کما کر شب ایسے سوتے ہیں خدا نے جیسے کہ روز جزا بنایا نہیں لہو بھی جلتا ہے جھڑتی ہے خاک بھی میری کہ شعر اترتا ہے لیکن بنا بنایا نہیں وہ مہرباں ہے مگر بھولتا نہیں مجھ کو وہ ایک کام جو اس نے مرا بنایا نہیں اداس دیکھا نہیں جاتا کوئی مجھ سے عقیلؔ کسی کو اس لیے حال آشنا بنایا نہیں
nahin ki dasht ko hijrat ziyaada mushkil hai
نہیں کہ دشت کو ہجرت زیادہ مشکل ہے گھروں میں اس سے بھی وحشت زیادہ مشکل ہے نتیجہ اخذ کیا پے بہ پے شکستوں سے کہ دشمنی سے محبت زیادہ مشکل ہے اگرچہ تخت نشینی بھی کوئی سہل نہیں مگر دلوں پہ حکومت زیادہ مشکل ہے حیات کاٹنے والوں کو یہ نہیں معلوم کہ اس سے اگلی مسافت زیادہ مشکل ہے عقیلؔ ڈالے تھے ہتھیار سب سے آخر میں ہمارے ساتھ رعایت زیادہ مشکل ہے
galiyon mein lahu-rezi kaa kuchh hal nikal aae
گلیوں میں لہو ریزی کا کچھ حل نکل آئے لوگ اس لیے خود جانب مقتل نکل آئے میں کاسہ بدستوں کے قبیلے کا ہوں لیکن خوش قسمتی سے ہاتھ مرے شل نکل آئے رونے سے مجھے خلق خدا روک رہی تھی پھر میری طرف داری میں بادل نکل آئے اک سطح محبت پہ کھڑا سوچ رہا ہوں ایسا نہ ہو یہ جھیل بھی دلدل نکل آئے افسوس کہ اب بھی ہیں ترے دام میں کچھ کچھ ہم سمجھے تھے اس بار مکمل نکل آئے آباد رہے شہر خموشاں کسے معلوم مجھ ایسا مسافر یہاں کس پل نکل آئے
tiraa karam ki main jab maat tak pahunch jaataa
ترا کرم کہ میں جب مات تک پہنچ جاتا تو کوئی ہاتھ مرے ہاتھ تک پہنچ جاتا میں اس کی بزم میں چپ چاپ ہی رہا کرتا مگر وہ پھر بھی مری بات تک پہنچ جاتا میں بھاؤ تاؤ اگر کرتا تو وہ خواب فروش قیاس ہے مری اوقات تک پہنچ جاتا اگر نہ ملتا مجھے شام ماہ آوارہ یقین مانو میں گھر رات تک پہنچ جاتا میں اپنے بھائی کو پردیس کیوں بلاتا عقیلؔ وہ اس طرح مرے حالات تک پہنچ جاتا
ek hi dasht thaa vo bhi na khangaalaa main ne
ایک ہی دشت تھا وہ بھی نہ کھنگالا میں نے دل پہ لینا نہیں تھا پاؤں کا چھالا میں نے گھر کے ڈھ جانے میں غفلت مری شامل تھی مگر سارا ملبہ در و دیوار پہ ڈالا میں نے کاش میں اپنے عزا داروں کو بتلا سکتا کیسا دکھ تھا وہ جسے موت سے ٹالا میں نے آخر کار غلامی سے بغاوت کر دی اور زنجیر کو شمشیر میں ڈھالا میں نے یوں تو ہر شخص یہاں آنکھ لیے پھرتا ہے پر نہیں دیکھا کوئی دیکھنے والا میں نے اور پھر اک روز ہمیشہ کے لیے کھو گیا میں یعنی اک روز اسے ڈھونڈ نکالا میں نے
baDi choron ko aasaani hai mujh mein
بڑی چوروں کو آسانی ہے مجھ میں کسی اندھے کی نگرانی ہے مجھ میں مری آنکھوں سے باہر جھانکتا ہے نہ جانے کون زندانی ہے مجھ میں دل افسردہ نے وہ گل کھلائے جہاں تک دیکھوں ویرانی ہے مجھ میں بہت بے چین رہتی ہے مری روح اسے کوئی پریشانی ہے مجھ میں کھلا یہ راز چشم تر سے مجھ پر سمندر سے فزوں پانی ہے مجھ میں خدا کو آزماؤں لمحہ لمحہ بڑی کافر مسلمانی ہے مجھ میں





