ghuTan se bach ke kahin saans le nahin sakte
jahaan bhi jaaein ye kaalaa dhuaan to sar par hai

Arman Najmi
Arman Najmi
Arman Najmi
Popular Shayari
4 totalhuaa hai qarya-e-jaan mein ye saaneha kaisaa
mire vajud ke andar hai zalzala kaisaa
bachaa kyaa rah gayaa kaalak bhare jhulse makaanon mein
ujaaDi bastiyon ki be-nishaani kaa tamaashaa kar
'armaan' bas ek lazzat-e-izhaar ke sivaa
miltaa hai kyaa khayaal ko lafzon mein Dhaal kar
Ghazalغزل
نارسائی کی ہنسی خود ہی اڑاتے کیوں ہو ہاتھ خالی ہے تو بازار میں آتے کیوں ہو اب بھی چاہو تو جمی برف پگھل سکتی ہے اختلافات کو بنیاد بناتے کیوں ہو وہ سمجھنے پہ ہی آمادہ نہیں ہے تو اسے اپنے احساس کا آئینہ دکھاتے کیوں ہو کل ترس جاؤ گے آنکھوں کی شناسائی کو خود کو لفظوں کے لبادے میں چھپاتے کیوں ہو عافیت اب تو اسی میں ہے کہ پتھر بن جاؤ سوگ ٹوٹے ہوئے رشتوں کا مناتے کیوں ہو وہ گل تازہ کسی گھر کی ہے زینت ارمانؔ اس کی خوشبو سے خیالوں کو بساتے کیوں ہو
naa-rasaai ki hansi khud hi uDaate kyon ho
تاج زریں نہ کوئی مسند شاہی مانگوں میں تو بس اپنے ہی ہونے کی گواہی مانگوں مجھ کو سقراط کا منصب نہیں حاصل کرنا کیا میں سچ بول کے اپنی ہی تباہی مانگوں ہار جاؤں گا تو مٹی کے قدم چوموں گا گرتی دیوار سے کیا پشت پناہی مانگوں زیب دیتا ہے مرے تن پہ فقیری کا لباس کسی دربار سے کیا خلعت جاہی مانگوں میری وحشت کو یہ صحرا کی مسافت کم ہے سیر کے واسطے کچھ اور فضا ہی مانگوں تیرگی میں ابھی اتنا تو نہیں ڈوبا ہوں کہ نئے دن کے خزانے سے بھی سیاہی مانگوں
taaj-e-zarrin na koi masnad-e-shaahi maangun
نہ صرف اتنا کہ تند و تیز دھارا دیکھتا ہوں میں جو کٹتا جا رہا ہے وہ کنارا دیکھتا ہوں میں پہنچ کر سرحد عرفاں پہ آنکھیں بجھنے لگتی ہیں یہ کس بے اعتباری کا نظارہ دیکھتا ہوں میں سبھی نظریں تو ہیں بجھتے چراغوں تک جمی لیکن بساط انجمن کو پارہ پارہ دیکھتا ہوں میں بھڑک اٹھتے ہیں جب شعلے تو حیرانی نہیں ہوتی فضا کی گود میں پلتا شرارہ دیکھتا ہوں میں مناظر کب بدلتے ہیں جگہ تبدیل ہونے سے وہی ایک کھیل ہے جس کو دوبارہ دیکھتا ہوں میں وہاں سے کیوں مری سوچوں پہ تم الزام دھرتے ہو یہاں آ کر تو دیکھو کیا نظارہ دیکھتا ہوں میں
na sirf itnaa ki tund-o-tez dhaaraa dekhtaa huun main
میں لکھ کر ہو سکوں گا سرخ رو کیا قلم کیا اور قلم کی آبرو کیا نہ سوچا کاٹنے والے نے اتنا ہری ڈالی کی تھی کچھ آرزو کیا ذرا جاگے تو ہم سینہ سپر ہوں انا کو جو سلا دے وہ لہو کیا زمیں کو آب و دانہ دے کے دیکھو کھلا دیتی ہے گلزار نمو کیا عدو کو زیر کر لو فاصلوں سے لڑائی اب ہے لازم دو بہ دو کیا
main likh kar ho sakungaa surkh-ru kyaa
گرتے ابھرتے ڈوبتے دھارے سے کٹ گیا دریا سمٹ کے اپنے کنارے سے کٹ گیا موسم کے سرد و گرم اشارے سے کٹ گیا زخمی وجود وقت کے دھارے سے کٹ گیا کیا فرق اس کو جڑ سے اکھاڑا گیا جسے ٹکڑے کیا تبر نے کہ آرے سے کٹ گیا تنہائی ہم کنار ہے صحرا کی رات بھر کیسے میں اپنے چاند ستارے سے کٹ گیا چلتا ہے اپنے پاؤں پہ اب آن بان سے اچھا ہوا وہ جھوٹے سہارے سے کٹ گیا دیواریں اونچی ہوتی گئیں آس پاس کی گھر میرا پیش و پس کے نظارے سے کٹ گیا نکلا تھا اک قدم ہی حد احتیاط سے شعلوں سے بچنے والا شرارے سے کٹ گیا آتا نہیں یقیں کہ نظر اس نے پھیر لی کیسے وہ اپنے درد کے مارے سے کٹ گیا
girte ubharte Dubte dhaare se kaT gayaa
گزرتے دن کے دکھوں کا پتہ تو دیتا تھا وہ شام ڈھلنے سے پہلے صدا تو دیتا تھا ہجوم کار میں پل بھر بھی اک بہانے سے وہ اپنے قرب کا جادو جگا تو دیتا تھا شریک راہ تھا وہ ہم سفر نہ تھا پھر بھی قدم قدم پہ مجھے حوصلہ تو دیتا تھا مجھی کو ملتی نہ تھی فرصت پذیرائی وہ اپنے سچ کا مجھے آئنہ تو دیتا تھا وہ چاند اور کسی آسماں کا تھا لیکن افق افق کو مرے جگمگا تو دیتا تھا میں اس کی آنچ میں تپ کر نہ ہو سکا کندن وہ اپنے شعلۂ جاں کی ہوا تو دیتا تھا
guzarte din ke dukhon kaa pata to detaa thaa





