SHAWORDS
A

Asar Nizami

Asar Nizami

Asar Nizami

poet
1Shayari
8Ghazal

Popular Shayari

1 total

Ghazalغزل

See all 8
غزل · Ghazal

مدعا کچھ بھی ہو لیکن مدعا رکھا کرو جذبۂ تعمیر سے بھی واسطہ رکھا کرو زندگی کے راستے میں ہیں ہزاروں ٹھوکریں آبلہ پائی سلامت جو صلہ رکھا کرو مل ہی جاتے ہیں یہ اکثر زندگی کی موڑ پر اجنبی چہروں سے خود کو آشنا رکھا کرو دیکھنا شعلہ بیانی بھی ادا بن جائے گی تلخیٔ اظہار میں حسن ادا رکھا کرو موم سے بھی دوستی ہو اور شعلوں سے بھی پیار پھر بھی ان کے درمیاں کچھ فاصلہ رکھا کرو گھپ اندھیرا ہو تو پھر ملتی نہیں راہ نجات ذہن و دل کا روشنی سے رابطہ رکھا کرو تم کو جینا ہے اثرؔ اس انقلابی دور میں اپنی فطرت میں ذرا فکر رسا رکھا کرو

muddaaa kuchh bhi ho lekin muddaaa rakkhaa karo

غزل · Ghazal

سوجھی تدبیر نہ کچھ رنج و بلا سے پہلے زندگی چھوڑ گئی ساتھ قضا سے پہلے یہ سلگتا ہوا افلاس کا چڑھتا سورج مار ڈالے نہ کہیں گرم ہوا سے پہلے آسماں پر بھی پہنچنا کوئی دشوار نہیں چاہیے دل میں تڑپ حرف دعا سے پہلے راکھ کے ڈھیر تمہیں اس کی گواہی دیں گے مجھ کو اپنوں نے جلایا چتا سے پہلے پیار کا نام بھی بدنام ہو جائے اثرؔ تم بجھا دو یہ دیا تیز ہوا سے پہلے

sujhi tadbir na kuchh ranj-o-balaa se pahle

غزل · Ghazal

لگی ہے گشت کرنے یہ خبر آہستہ آہستہ کمر کسنے لگا ہے فتنہ گر آہستہ آہستہ کتر ڈالو اسے جتنا بھی تم سونے کی قینچی سے پرندے کا نکل آتا ہے پر آہستہ آہستہ ڈبو کر منچلی کشتی کو موجوں نے کہا ہنس کر کیا جاتا ہے پانی میں سفر آہستہ آہستہ طلسمی بانسری نادان بچوں کو نہ دینا تم اجڑ جائے گا معصوموں کا گھر آہستہ آہستہ سفر کی لذتیں کیا ہیں سفر کے پیچ و خم کیا ہیں سمجھ جائے گا اپنا ہم سفر آہستہ آہستہ کلام نرم و نازک کو بنانا اپنا شیوہ تم اتر جائے گا سینے میں اثرؔ آہستہ آہستہ

lagi hai gasht karne ye khabar aahista aahista

غزل · Ghazal

اپنی نظریں در و دیوار پر اکثر رکھنا اجنبی گھر میں قدم سوچ سمجھ کر رکھنا کہیں پھٹ جائے کلیجہ نہ وفور غم سے اپنی پلکوں میں چھپا کر نہ سمندر رکھنا اتنا آسان نہیں ان کو بھلانا دل سے سوچ کر اپنے کلیجے پہ یہ پتھر رکھنا یاد آتا ہے وہ منظر ترے افسانے کا اپنے محبوب کو دشمن کے برابر رکھنا خواب میں آئیں گے پر نور پرندے لیکن شرط ہے صاف مگر ذہن کا بستر رکھنا سونپ دی میں نے تمہیں مہر و وفا کی کنجی لوٹ آؤں گا سلیقے سے مرا گھر رکھنا اے اثرؔ ابرو پھولوں کی جھلس جائے گی تم نہ شعلوں کی ہتھیلی پہ گل تر رکھنا

apni nazrein dar-o-divaar par aksar rakhnaa

غزل · Ghazal

یہ مانا حوادث کے دھارے بہت ہیں اگر حوصلہ ہے کنارے بہت ہیں رہ زندگی میں چلو تم سنبھل کر سمے کے طمانچے کرارے بہت ہیں تلاطم میں خود کھو گئے تم ہی ورنہ کنارے تو تم کو پکارے بہت ہیں نکل کر اندھیروں کے ملبوس سے دیکھو یہاں روشنی کے منارے بہت ہیں کہیں یہ جلا دیں نہ چلمن کو تیری مری شاعری میں شرارے بہت ہیں ذرا فن کے آکاش گنگا میں دیکھیں اثرؔ آپ جیسے ستارے بہت ہیں

ye maanaa havaadis ke dhaare bahut hain

غزل · Ghazal

اب کوئی بات بڑھانے کی ضرورت نہ رہی حال دل ان کو سنانے کی ضرورت نہ رہی مسئلے ہو گئے بے رخ ہی سیاست کے شکار کوئی آواز اٹھانے کی ضرورت نہ رہی قافلے درد کے خود دل سے گزر جاتے ہیں راستے ان کو دکھانے کی ضرورت نہ رہی وقت وہ ہے کہ ہوئے دونوں انا سے سرشار زندگی ساتھ نبھانے کی ضرورت نہ رہی اپنے آنگن میں ملے ہم کو مقفل رشتے کوئی دیوار اٹھانے کی ضرورت نہ رہی اپنی فطرت سے اثرؔ وہ بھی شناور نکلا تیرنا اس کو سکھانے کی ضرورت نہ رہی

ab koi baat baDhaane ki zarurat na rahi

Similar Poets