kah rahaa iblis ab shaitaan se
fikr-e-fardaa chhin is insaan se

Ashk Almas
Ashk Almas
Ashk Almas
Popular Shayari
1 totalGhazalغزل
جانے کیوں برباد ہونا چاہتا ہے صورت فرہاد ہونا چاہتا ہے ذہن سے آخر میں اب تھک ہار کر میرا دل آباد ہونا چاہتا ہے آسماں والے یہ سن کر ہنس پڑے آدمی آزاد ہونا چاہتا ہے ہر جگہ تعمیر کر کے اک ارم ہر کوئی شداد ہونا چاہتا ہے سانحہ یہ ہے کہ اک بلبل کا دل دامن صیاد ہونا چاہتا ہے ہو کے منصف تخت پہ اب جلوہ گر واقف روداد ہونا چاہتا ہے
jaane kyuun barbaad honaa chaahtaa hai
فلک سے چاندنی پھر جھانکتی ہے زمیں پر تیرگی جب ناچتی ہے ستارا جب بھی ٹوٹا آسماں سے وہی خواہش دوبارا جاگتی ہے بنا لیتی ہے زنجیروں سے پائل محبت رقص کرنا جانتی ہے پتہ ہے کہ وہاں پانی نہیں ہے مگر امید صحرا چھانتی ہے قضا پوری ہو کرنی پھر کسی کی زمیں محور پہ ایسے بھاگتی ہے میں راز زندگی کیونکر بتاؤں کہاں یہ نسل کہنا مانتی ہے
falak se chaandni phir jhaankti hai
کہہ رہا ابلیس اب شیطان سے فکر فردا چھین اس انسان سے کیا ہمارا نام اس میں درج ہے آپ نے پوچھا کبھی رضوان سے میل کا پتھر کوئی لا دے کہ میں تھک گیا یاقوت اور مرجان سے جان پاتے کیسے ہم راز حیات راز کن نکلا نہیں جزدان سے جانے کب اس رات کی ہوگی سحر کب کوئی اٹھے گا اس ایوان سے
kah rahaa iblis ab shaitaan se
موئے سفید سر پہ دوبارہ نکل گیا ڈھلنے لگا جو عقل کے سانچے میں ڈھل گیا جلتے ہوئے حسین پتنگوں کو دیکھ کر ایسا ہوا کہ آپ ہی پروانہ جل گیا رکھتا تھا خار زیست کو جوتے کی نوک پر اندر کا آبلہ سو بہت پھول پھل گیا مٹھی میں میری ریت تھی اور وہ پھسل گئی دوجے میں ایک برف کا ٹکڑا تھا گل گیا جی میں کبھی کبھار تو آتا ہے بول دوں اٹھ اس کے آسرے سے نکل چل بہل گیا آنکھیں نکال کر کے سجا دی ہیں طاق میں کیا آنکھ لے کے گھومتا منظر بدل گیا سب کو لگا معاف کیا ہے اسے مگر غصے سے میرے ہاتھ کا پتھر پگھل گیا
mu-e-safed sar pe dubaara nikal gayaa
ہر کوئی ہے مداری اور اپنے مدار کا حتٰی کہ رقص دیکھیے لیل و نہار کا اس وجہ سے زمین پہ گڑھتی ہے میری آنکھ گڑ جائے کوئی کانٹا نہ مژگان یار کا پہلے سے ہے ہی ہاتھ میں تسبیح کی لڑی کرتا ہوں کیا میں دیکھیے بانہوں کے ہار کا رکتا ہوں اس لئے کہ مرے رفتگاں رکے رستہ ہے ورنہ سامنے میرے فرار کا اس بار ایک دو نہیں سارے گناہ گار اس بار کیا اپائے ہے کشتی کے بھار کا ایسا نہ ہو کہ رند یہ کہہ کر چھڑائیں جان دہقاں کی تھی شراب پیالہ کمہار کا اس کو اڑا لیا ہے کوئی اور جوہری مہنگا پڑا ہے آج کا سونا سنار کا سامان خوب ہو تو جگہ سے ہے کیا غرض بکتا ہے کانپور میں چمڑا بہار کا
har koi hai madaari aur apne madaar kaa
ہمارے دل میں وہ رہتا ہے جو مکیں کی طرح گمان ہوتا ہے بالکل کسی یقیں کی طرح کھڑے ہوئے تھے یہیں رات جب یہاں اتری ہزار چاند ستارے تماش بیں کی طرح اگر قبول نہیں ہے تو چیر دو مرا خط نہ رکھو دل میں کوئی خط خط جبیں کی طرح تمہارے وعدہ و پیماں پہ کان کیا دھرتے نعم نعم کی صدا تھی نہیں نہیں کی طرح ہمارا گھر بھی فلسطین میں اگر ہوتا تو ہم زمین پہ ہوتے فلک نشیں کی طرح وہ پوچھتے ہیں بتاؤ کہ اس میں ہے کہ نہیں بلا کا جاہ و حشم چشم سرمگیں کی طرح کنارے اور نہ جاؤ کہ ساتویں دن ہی اٹھی ہے لہر سمندر میں چودھویں کی طرح یہی طریق رہا تو ہمارے بعد کے لوگ پڑھیں گے ہم کو اساطیر الاولیں کی طرح لگے ہوئے ہیں سرنگوں کو توڑنے میں وہی پلے ہیں جو یہاں افعیٔ آستیں کی طرح
hamaare dil mein vo rahtaa hai jo makin ki tarah





