SHAWORDS
Asim Bakhshi

Asim Bakhshi

Asim Bakhshi

Asim Bakhshi

poet
1Sher
1Shayari
10Ghazal

Sherشعر

Popular Sher & Shayari

2 total

Ghazalغزل

See all 10
غزل · Ghazal

jaane kyuun hai zehn ghaalib ki main soyaa huaa huun

جانے کیوں ہے ذہن غالب کہ میں سویا ہوا ہوں آئنہ خانۂ افلاک میں کھویا ہوا ہوں ہوں مثلث یا کوئی دائرہ تجریدی سا ذہن یزداں میں میں تمثیل سا گویا ہوا ہوں ندیاں بھر گئیں لبریز ہیں دریا سارے ہے یہ برسات کی جل تھل کہ میں رویا ہوا ہوں جانتا ہوں کہ یہ حسرت ہی مری منزل ہے شوق کی تشنہ زمینوں میں جو بویا ہوا ہوں درد کا کیا ہے مرے چھید مجھے پیارے ہیں میں تمناؤں کے کانٹوں میں پرویا ہوا ہوں چیرتی ہے جو صدا موت سے سناٹے کو کیا یہ تو ہے یا میں اپنے ہی سے گویا ہوا ہوں میرے چہرے کی درخشانی سے مایوس نہ ہو صرف اتنا ہے کہ اشکوں سے میں دھویا ہوا ہوں گشت افلاک کی حاجت مجھے کیوں کر ہوگی میں خود اپنے ہی خلاؤں میں سمویا ہوا ہوں عاصمؔ اب کے جو میں ڈوبوں تو کچھ ایسے نکلوں جیسے لفظوں کے سمندر میں بھگویا ہوا ہوں

غزل · Ghazal

raat bhar shoala-e-jaan khuub baDhaayaa jaae

رات بھر شعلۂ جاں خوب بڑھایا جائے پھر دم صبح ہی خوابوں کو جلایا جائے جب قضا لکھ ہی چکی سلسلۂ راہ فنا کیوں نہ پھر وقت اجل جلد بلایا جائے ساعت شام غم ہجر کا سناٹا ہے شہر اوہام کو سپنوں سے سجایا جائے جدت وحشت صحرا کے لیے لازم ہے دشت کے بیچ اب اک شہر بسایا جائے بار جاں لاد لیا سر پہ اور اب سوچتے ہیں اتنا کافی ہے کہ کچھ بوجھ بڑھایا جائے کرۂ دید کو دوران تقاضائے نظر کشش ثقل نظارہ سے چھڑایا جائے شورش خاک و لہو دیکھ کے اس نے سوچا کیوں نہ اب اشک سے انسان بنایا جائے تہ سے لے آئیں اسے ہم مگر اتنا تو کھلے کتنی گہرائی میں جا کر اسے پایا جائے

غزل · Ghazal

gumaan ke rakhsh-e-subuk ki ayaal thaame hue

گماں کے رخش سبک کی ایال تھامے ہوئے بھٹک رہا ہوں جنوں میں خیال تھامے ہوئے بقا کی جنگ میں خود سے فلک سے دنیا سے میں لڑ رہا ہوں تمنا کی ڈھال تھامے ہوئے وہ کشمکش بھی شناسائیوں کی کیا ہوگی ملیں گے خود سے جب اپنے سفال تھامے ہوئے ہر ایک پل کوئی بار گراں سا لگتا ہے کہ جیسے لمحہ گزارتا ہوں سال تھامے ہوئے سروش غیب کے معبد کے سامنے مسجود سبھی جواب ہیں گم سم سوال تھامے ہوئے میں زیر موج بلا صرف اتنا دیکھ سکا ضعیف ہاتھ پرانا سا جال تھامے ہوئے زمین چشم کی اندھی عمیق تہ میں کہیں غصیل خواب ہیں عاصمؔ کدال تھامے ہوئے

غزل · Ghazal

zindagaani se lipaT kar khud ko bahlaataa huun main

زندگانی سے لپٹ کر خود کو بہلاتا ہوں میں یہ کہانی روز اپنے آپ دہراتا ہوں میں صبح دم میں کھولتا ہوں قفل جس زندان کا دن ڈھلے اس قید خانے میں پلٹ آتا ہوں میں پاٹتا رہتا ہوں دن بھر اک خلیج ذات کو پھر کسی انجان اندیشے سے پچھتاتا ہوں میں دن چڑھے اوہام کی منڈی میں سودا بیچ کر رات کو افکار کے بستر پہ گر جاتا ہوں میں اوڑھ لیتا ہوں میں چادر عقل و استدلال کی داستانوں لوریوں سے خود کو بہلاتا ہوں میں خواب میں اکثر کنارے چشمۂ امکان کے مستیٔ حرف و سخن کی لے میں چکراتا ہوں میں چھوڑتا ہوں ہاتھ اپنا شاہراہ شوق پر منزل مقصود پر پھر خود کو مل جاتا ہوں میں جب بھی ملتا ہوں خود اپنے آپ سے تنہائی میں پوچھتا ہوں کیا گنوایا اور کیا پاتا ہوں میں خود ہی کرتا ہوں تری یادیں میں ماضی کے سپرد پھر کہیں سے ایک لمحہ ڈھونڈ کر لاتا ہوں میں تجھ میں اکثر ڈھونڈھتا ہوں میں تجھے عاصمؔ مگر تو کہاں ہے کون ہے کب کس کو سمجھاتا ہوں میں

غزل · Ghazal

ajiib shakhs huun fart-e-vabaal hote hue

عجیب شخص ہوں فرط وبال ہوتے ہوئے فراق مانگ رہا ہوں وصال ہوتے ہوئے نڈھال اپنے تماشائیوں کے جھرمٹ میں میں خود کو دیکھ رہا ہوں خیال ہوتے ہوئے بس ایک ورزش تحریر لوح ہستی پر بس اک سوال کی دھن خود سوال ہوتے ہوئے کچھ اس کمال سے روندا گیا ہوں مستی میں بہت سکون ہے اب پائمال ہوتے ہوئے شرار سنگ کو کیا اب بھی استعارہ کہوں ان آنسوؤں کی یہ زندہ مثال ہوتے ہوئے گزر گیا ہوں مثال زمانہ خود پر سے میں لمحہ لمحہ علی الاتصال ہوتے ہوئے میں اپنے عکس کو عاصمؔ خدا سمجھ بیٹھا خطا ہوئی تھی یہ محو جمال ہوتے ہوئے

غزل · Ghazal

miraa gumaan hai shaayad ye vaaqia ho jaae

مرا گمان ہے شاید یہ واقعہ ہو جائے کہ شام مجھ میں ڈھلے اور سب فنا ہو جائے ہو بات اس سے کچھ ایسے کہ وقت ساکت ہو کلام اپنا تکلم سے ماورا ہو جائے بچا کے آنکھ میں خود اپنی کھوج میں نکلوں مرے وجود میں ایک چور راستہ ہو جائے کچھ اس طرح وہ نگاہ خیال میں اترے کہ اس کے آگے جھکوں اور وہ خدا ہو جائے عطا ہو چشم تمنا کو وہ قرینۂ دید کہ شوق دست تقاضا سے ماسوا ہوا جائے رہے یہ تشنہ لبی دشت شوق میں قائم وہ انتہائیں ملیں میری ابتدا ہو جائے نصیب ہو کبھی ایسی بھی اک سحر عاصمؔ کہ شام ہجر کی فرقت کا سانحہ ہو جائے

Similar Poets