aag si lag rahi hai siine mein
ab mazaa kuchh nahin hai jiine mein

Aslam Farrukhi
Aslam Farrukhi
Aslam Farrukhi
Popular Shayari
6 totalsaare dil ek se nahin hote
farq hai kankar aur nagine mein
na dekh mujh ko mohabbat ki aankh se ai dost
miraa vajud miraa muddaaa na ho jaae
raushni ho rahi hai kuchh mahsus
kyaa shab aakhir tamaam ko pahunchi
koi manzil nahin baaqi hai musaafir ke liye
ab kahin aur nahin jaaegaa ghar jaaegaa
hangaama-e-hasti se guzar kyuun nahin jaate
raste mein khaDe ho gae ghar kyuun nahin jaate
Ghazalغزل
یہ حکایت تمام کو پہنچی زندگی اختتام کو پہنچی رقص کرتی ہوئی نسیم سحر صبح تیرے سلام کو پہنچی روشنی ہو رہی ہے کچھ محسوس کیا شب آخر تمام کو پہنچی شب کو اکثر کلید مے خانہ شیخ عالی مقام کو پہنچی شہر کب سے حصار درد میں ہے یہ خبر اب عوام کو پہنچی پہلے دو ایک قتل ہوتے تھے نوبت اب قتل عام کو پہنچی سب کا انجام ایک جیسا ہے صبح روشن بھی شام کو پہنچی موت بالکل قریب ہے شاید صبح کو پہنچی شام کو پہنچی
ye hikaayat tamaam ko pahunchi
میں سوچتا ہوں کہیں تو خفا نہ ہو جائے تری انا مری زنجیر پا نہ ہو جائے یہ جیتی جاگتی آنکھیں یہ خواب سی دنیا وفور شوق خود اپنی جزا نہ ہو جائے قدم قدم پہ بپا جشن امتحان وفا تری طرح کوئی درد آشنا نہ ہو جائے نہ دیکھ مجھ کو محبت کی آنکھ سے اے دوست مرا وجود مرا مدعا نہ ہو جائے میں جس کو ڈھونڈ رہا ہوں نشاط قربت میں مرے خیال سے بھی ماورا بھی ہو جائے زمیں کی گود سے سورج نکالنے والو ستارۂ سحری رہنما نہ ہو جائے اب اور تا بہ کجا یہ حصار موسم درد اب اس طرف بھی درود صبا نہ ہو جائے حریم جاں میں ہے ارزاں خمار تیرہ شبی یہ اس دیار کی آب و ہوا نہ ہو جائے غم فراق میں لذت سہی مگر اسلمؔ مری حیات مرا خوں بہا نہ ہو جائے
main sochtaa huun kahin tu khafaa na ho jaae
میں سوچتا ہوں کہیں تو خفا نہ ہو جائے تری انا مری زنجیر پا نہ ہو جائے یہ جیتی جاگتی آنکھیں یہ خواب سی دنیا وفور شوق خود اپنی جزا نہ ہو جائے قدم قدم پہ بپا جشن امتحان وفا تری طرح کوئی درد آشنا نہ ہو جائے نہ دیکھ مجھ کو محبت کی آنکھ سے اے دوست مرا وجود مرا مدعا نہ ہو جائے میں جس کو ڈھونڈ رہا ہوں نشاط قربت میں مرے خیال سے بھی ماورا نہ ہو جائے زمیں کی گود سے سورج نکالنے والو ستارۂ سحری رہنما نہ ہو جائے حریم جاں میں ہے ارزاں خمار تیرہ شبی یہ اس دیار کی آب و ہوا نہ ہو جائے غم فراق میں لذت سہی مگر اسلمؔ مری حیات مرا خوں بہا نہ ہو جائے
main sochtaa huun kahin tu khafaa na ho jaae
ہنگامۂ ہستی سے گزر کیوں نہیں جاتے رستے میں کھڑے ہو گئے گھر کیوں نہیں جاتے مے خانے میں شکوہ ہے بہت تیرہ شبی کا مے خانے میں با دیدۂ تر کیوں نہیں جاتے اب جبہ و دستار کی وقعت نہیں باقی رندوں میں بہ انداز دگر کیوں نہیں جاتے جس شہر میں گمراہی عزیز دل و جاں ہو اس شہر ملامت میں خضر کیوں نہیں جاتے توشہ نہیں کوئی نسیم سحری کا بے راحلہ و زاد سفر کیوں نہیں جاتے شاید کہ شناسا ہو کوئی بے ہنری کا کیوں ڈرتے ہو بازار ہنر کیوں نہیں جاتے ہر لحظہ ہے جو سر کے لیے اک نئی ٹھوکر اس ذلت ہر روز سے مر کیوں نہیں جاتے ہم جس کے لیے زندہ ہیں با حال پریشاں اب وہ بھی یہ کہتا ہے کہ مر کیوں نہیں جاتے کیوں گوشۂ خلوت سے نکلتے نہیں اسلمؔ بیٹھے ہیں جدھر لوگ ادھر کیوں نہیں جاتے
hangaama-e-hasti se guzar kyuun nahin jaate
آگ سی لگ رہی ہے سینے میں اب مزا کچھ نہیں ہے جینے میں آخری کشمکش ہے یہ شاید موج دریا میں اور سفینے میں زندگی یوں گزر گئی جیسے لڑکھڑاتا ہو کوئی زینے میں دل کا احوال پوچھتے کیا ہو خاک اڑتی ہے آبگینے میں کتنے ساون گزر گئے لیکن کوئی آیا نہ اس مہینے میں سارے دل ایک سے نہیں ہوتے فرق ہے کنکر اور نگینے میں زندگی کی سعادتیں اسلمؔ مل گئیں سب مجھے مدینے میں
aag si lag rahi hai siine mein
زد پہ آ جائے گا جو کوئی تو مر جائے گا وقت کا کام گزرنا ہے گزر جائے گا خود اسے بھی نہیں معلوم ہے منزل اپنی جانے والے سے نہ پوچھو وہ کدھر جائے گا آج اندھیرا ہے تو کل کوئی چراغ امید مطلع وقت پہ سورج سا نکھر جائے گا اس طرف آگ کا دریا ہے ادھر دار و رسن دل وہ دیوانہ کہ جائے گا مگر جائے گا کوئی منزل نہیں باقی ہے مسافر کے لیے اب کہیں اور نہیں جائے گا گھر جائے گا کوئے قاتل میں تہی دست کو جا ملتی نہیں جو بھی جائے گا لیے ہاتھ میں سر جائے گا کتنی تاریکی ہے شہر دل و جاں پر طاری کوئی اندازہ نہیں کون کدھر جائے گا ایک گلدستہ بنایا تھا پئے راحت جاں اب یہ اندیشہ ہے ہر پھول بکھر جائے گا ایک دن ایسا بھی قسمت سے ملے جب اسلمؔ رقص کرتا ہوا محبوب نگر جائے گا
zad pe aa jaaegaa jo koi to mar jaaegaa





