SHAWORDS
Asrarul Haq Majaz

Asrarul Haq Majaz

Asrarul Haq Majaz

Asrarul Haq Majaz

poet
40Sher
40Shayari
39Ghazal

Sherشعر

See all 40

Popular Sher & Shayari

80 total

Ghazalغزل

See all 39
غزل · Ghazal

dard ki daulat-e-bedaar ataa ho saaqi

درد کی دولت بیدار عطا ہو ساقی ہم بہی خواہ سبھی کے ہیں بھلا ہو ساقی سخت جاں ہی نہیں ہم خود سر و خود دار بھی ہیں ناوک ناز خطا ہے تو خطا ہو ساقی سعئ تدبیر میں مضمر ہے اک آہ جاں سوز اس کا انعام سزا ہو کہ جزا ہو ساقی سینۂ شوق میں وہ زخم کہ لو دے اٹھے اور بھی تیز زمانے کی ہوا ہو ساقی

غزل · Ghazal

aao ab mil ke gulistaan ko gulistaan kar dein

آؤ اب مل کے گلستاں کو گلستاں کر دیں ہر گل و لالہ کو رقصاں و غزل خواں کر دیں عقل ہے فتنۂ بیدار سلا دیں اس کو عشق کی جنس گراں مایہ کو ارزاں کر دیں دست وحشت میں یہ اپنا ہی گریباں کب تک ختم اب سلسلۂ چاک گریباں کر دیں خون آدم پہ کوئی حرف نہ آنے پائے جنہیں انساں نہیں کہتے انہیں انساں کر دیں دامن خاک پہ یہ خون کے چھینٹے کب تک انہیں چھینٹوں کو بہشت گل و ریحاں کر دیں ماہ و انجم بھی ہوں شرمندۂ تنویر مجازؔ دشت ظلمات میں اک ایسا چراغاں کر دیں

غزل · Ghazal

dil-e-khun-gashta-e-jafaa pe kahin

دل خوں گشتۂ جفا پہ کہیں اب کرم بھی گراں نہ ہو جائے تیرے بیمار کا خدا حافظ نذر چارہ گراں نہ ہو جائے عشق کیا کیا نہ آفتیں ڈھائے حسن گر مہرباں نہ ہو جائے مے کے آگے غموں کا کوہ گراں ایک پل میں دھواں نہ ہو جائے پھر مجازؔ ان دنوں یہ خطرہ ہے دل ہلاک بتاں نہ ہو جائے

غزل · Ghazal

ye jahaan baargah-e-ritl-giraan hai saaqi

یہ جہاں بارگہ رطل گراں ہے ساقی اک جہنم مرے سینے میں تپاں ہے ساقی جس نے برباد کیا مائل فریاد کیا وہ محبت ابھی اس دل میں جواں ہے ساقی ایک دن آدم و حوا بھی کیے تھے پیدا وہ اخوت تری محفل میں کہاں ہے ساقی ہر چمن دامن گل رنگ ہے خون دل سے ہر طرف شیون و فریاد و فغاں ہے ساقی ماہ و انجم مرے اشکوں سے گہر تاب ہوئے کہکشاں نور کی ایک جوئے رواں ہے ساقی حسن ہی حسن ہے جس سمت بھی اٹھتی ہے نظر کتنا پر کیف یہ منظر یہ سماں ہے ساقی زمزمہ ساز کا پائل کی چھناکے کی طرح بہتر از شورش ناقوس و اذاں ہے ساقی میرے ہر لفظ میں بیتاب مرا شور دروں میری ہر سانس محبت کا دھواں ہے ساقی

غزل · Ghazal

ye tirgi-e-shab hi kuchh subh-taraaz aati

یہ تیرگیٔ شب ہی کچھ صبح طراز آتی خود وعدۂ فردا کی چھاتی بھی دھڑک جاتی ہونٹوں پہ ہنسی پیہم آتے ہوئے شرماتی اب رات نہیں کٹتی اب نیند نہیں آتی جو اول و آخر تھا وہ اول و آخر ہے میں نالہ بجاں اٹھتا وہ نغمہ بساز آتی سوز شب ہجراں پھر سوز شب ہجراں ہے شبنم بہ مژہ اٹھتی یا زلف دراز آتی یارب وہ جوانی بھی کیا محشر ارماں تھی انگڑائی بھی جب لیتی ایک آنکھ جھپک جاتی آغاز سیہ مستی انجام سیہ مستی آئینے میں صورت بھی آنے کی قسم کھاتی سینے میں مجازؔ اب تک وہ جذبۂ کافر تھا تثلیث کی جوئندہ وحدت کی قسم کھاتی

غزل · Ghazal

'aql ki sath se kuchh aur ubhar jaanaa thaa

عقل کی سطح سے کچھ اور ابھر جانا تھا عشق کو منزل پستی سے گزر جانا تھا جلوے تھے حلقۂ سر دام نظر سے باہر میں نے ہر جلوے کو پابند نظر جانا تھا حسن کا غم بھی حسیں فکر حسیں درد حسیں ان کو ہر رنگ میں ہر طور سنور جانا تھا حسن نے شوق کے ہنگامے تو دیکھے تھے بہت عشق کے دعوئے تقدیس سے ڈر جانا تھا یہ تو کیا کہئے چلا تھا میں کہاں سے ہم دم مجھ کو یہ بھی نہ تھا معلوم کدھر جانا تھا حسن اور عشق کو دے طعنۂ بیداد مجازؔ تم کو تو صرف اسی بات پہ مر جانا تھا

Similar Poets