"kiya tha zulm to gulchin ne tum pe ahl-e-chaman ye tum ne aag gulistan ko kyuun laga di hai"
Athar Ziai
Athar Ziai
Athar Ziai
Sherشعر
Popular Sher & Shayari
4 total"mukhalifon ne khabar jab koi uDa di hai to doston ne use aur bhi hava di hai"
kiyaa thaa zulm to gulchin ne tum pe ahl-e-chaman
ye tum ne aag gulistaan ko kyuun lagaa di hai
mukhaalifon ne khabar jab koi uDaa di hai
to doston ne use aur bhi havaa di hai
Ghazalغزل
jab se tu kaaba-e-dil mein hai sanam ki surat
جب سے تو کعبۂ دل میں ہے صنم کی صورت دیر مجھ کو نظر آتا ہے حرم کی صورت اس قدر چور ہے آئینۂ احساس مرا اب نہ وہ رنگ مسرت ہے نہ غم کی صورت یہ حقیقت ہے محبت بھی اثر کرتی ہے کبھی تریاک کی صورت کبھی سم کی صورت رامش و رنگ سے ہے شہر نگاراں معمور دل ہے ویران مگر شہر عدم کی صورت اس قدر وقت کے سورج نے تپایا اطہرؔ رو دئے دیکھ کے ہم ابر کرم کی صورت
kam kisi kushta-e-aalaam ki pursish ki hai
کم کسی کشتۂ آلام کی پرسش کی ہے ورنہ دنیا نے تو خود اپنی پرستش کی ہے ہم ہی کم فہم تھے سمجھے ستم ایجاد تمہیں تم نے تو ہم پہ عنایات کی بارش کی ہے سچ تو یہ ہے کہ برابر کے ہیں مجرم دونوں آپ کی نظروں نے دل سے مرے سازش کی ہے زندگی قرض سمجھ کر میں جئے جاتا ہوں اب تمنا نہ صلے کی نہ ستائش کی ہے ہیں بہت اہل کرم یوں تو زمیں پر اطہرؔ بات کچھ اور مگر اس کی نوازش کی ہے
farogh-e-kasrat-e-jalva se khud tamaashaa huun
فروغ کثرت جلوہ سے خود تماشا ہوں میں اس کے سامنے بیٹھا ہوں اور تنہا ہوں نگاہ شوق و دل مضطرب ہیں زاد سفر شکستہ پا ہوں سر رہ گزار بیٹھا ہوں بڑھاؤں دست طلب کیا کہ ظرف مانع ہے لب فرات کھڑا ہوں میں اور پیاسا ہوں میں اپنی ذات میں اک کائنات ہوں خود بھی اگرچہ ذرہ ہوں لیکن محیط صحرا ہوں بکھیرتا ہوں فضاؤں میں قہقہے اطہرؔ متاع درد کو دل میں چھپائے پھرتا ہوں
yahi nahin ki faqat baam-o-dar se bach ke chalun
یہی نہیں کہ فقط بام و در سے بچ کے چلوں تلاش یار میں شمس و قمر سے بچ کے چلوں یہ رنگ و نور ہیں دامن کش حیات مگر ہے مصلحت کا تقاضا ادھر سے بچ کے چلوں یہ پیچ و خم یہ نشیب و فراز راہ حیات کہاں سے ہو کے چلوں اور کدھر سے بچ کے چلوں جو ساتھ دے نہ سکے تا حریم جلوۂ ناز میں چاہتا ہوں ہر اس رہ گزر سے بچ کے چلوں جہاں جبیں کو نہ حاصل ہو رفعت افلاک اس آستانہ سے اس سنگ در سے بچ کے چلوں میں مطمئن نہیں رفتار کارواں سے ہنوز خطا معاف اگر راہ بر سے بچ کے چلوں میں رنگ گردش دوراں کو دیکھ کر اطہرؔ یہ سوچتا ہوں کہ شام و سحر سے بچ کے چلوں
charaagh-e-anjuman ko ye khabar kyaa
چراغ انجمن کو یہ خبر کیا کہ منزل کیا ہے اور رسم سفر کیا سفر میں فکر راحت اس قدر کیا سجائے ہیں یہ تم نے بام و در کیا نہیں گردش میں اب شمس و قمر کیا نہ بدلیں گے مرے شام و سحر کیا خلوص عجز ہے اک شرط سجدہ کسی کا نقش پا کیا سنگ در کیا مشیت کارفرمائے دو عالم تو پھر یہ نیک بد کیا خیر و شر کیا بڑھی ہے وقت کی رفتار کیسی ہوئی ہے زندگانی مختصر کیا ادائے شکر بھی لازم ہے اطہرؔ رہے گا شکوہ بر لب عمر بھر کیا
chaman hai kaisaa ye kaisi bahaar hai saaqi
چمن ہے کیسا یہ کیسی بہار ہے ساقی لہو سے صحن چمن لالہ زار ہے ساقی یہ چیرہ دستیٔ اہل جنوں معاذ اللہ قبائے لالہ و گل تار تار ہے ساقی ہے زد میں آتش و آہن کی شہر رامش و رنگ اداس شام سحر سوگوار ہے ساقی یہ زخم زخم بدن اور یہ سوختہ لاشیں عجیب مرحلۂ گیر و دار ہے ساقی یہ کیا ستم ہے کہ قاتل ہے سرخ رو لیکن ہوا جو قتل وہی شرمسار ہے ساقی نہ جانے موسم گل کا شباب کیا ہوگا اگر یہ آمد فصل بہار ہے ساقی بجا کہ وقت تغیر پذیر ہے ہر دم مگر حیات کا کب اعتبار ہے ساقی





