SHAWORDS
Atul Ajnabi

Atul Ajnabi

Atul Ajnabi

Atul Ajnabi

poet
7Shayari
11Ghazal

Popular Shayari

7 total

Ghazalغزل

See all 11
غزل · Ghazal

درخت دھوپ سے لڑتا ہے اس قدر دن بھر پھلوں سے شاخوں سے رہتا ہے بے خبر دن بھر نہ آبشار نہ پنچھی نہ جانور نہ درخت عجیب دشت میں کرتا رہا سفر دن بھر ڈھلی جو شام تو بچے سا سو گیا سورج دکھا رہا تھا کئی طرح کے ہنر دن بھر مرے نصیب میں کیا اور کچھ لکھا ہی نہیں سفر میں رہتا ہوں گھر پر میں رات بھر دن بھر سویرا ہوتے ہی سب کام پر نکلتے ہیں اداس اداس سا رہتا ہے میرا گھر دن بھر قبول کیسے دعا ہو بھلا چراغوں کی کہ اپنی جان بھی رہ جائے معتبر دن بھر

darakht dhuup se laDtaa hai is qadar din-bhar

غزل · Ghazal

نگاہ کوئی تو طوفاں میں مہربان سی ہے ہر ایک موج سمندر کی پائیدان سی ہے ہر ایک شخص کو گاہک سمجھ کے خوش رکھنا یہ زندگی بھی ہماری کوئی دکان سی ہے میں آسماں کی طرح مدتوں سے ٹھہرا ہوں بدن میں پھر بھی زمیں جیسی کچھ تھکان سی ہے دکھوں کا کیا ہے یہ آتے ہیں تیر کی مانند خوشی ہمیشہ مرے واسطے کمان سی ہے قدم سنبھال کے رکھنا حسین راہوں پر پھسل گئے تو پھر آگے بڑی ڈھلان سی ہے زبان منہ میں ہمارے تھی جب غلام تھے ہم ہمارے منہ میں مگر اب تو بس زبان سی ہے اب آئے دن ہی نکلتا ہے آنسوؤں کا جلوس ہماری آنکھ مسلسل لہولہان سی ہے

nigaah koi to tufaan mein mehrbaan si hai

غزل · Ghazal

سفر میں یوں تو بلائیں بھی کام کرتی ہیں مگر کسی کی دعائیں بھی کام کرتی ہیں مشاعروں میں فقط شاعری نہیں چلتی مشاعروں میں ادائیں بھی کام کرتی ہیں چراغ ہوں نہ کوئی پھول ہوں یہاں پھر بھی مرے خلاف ہوائیں بھی کام کرتی ہیں کسی کے رونے سے میں بھی بکھرنے لگتا ہوں کہ آنسوؤں کی صدائیں بھی کام کرتی ہیں ہمارا روگ بڑھانے میں اجنبیؔ صاحب کبھی کبھی تو دوائیں بھی کام کرتی ہیں

safar mein yuun to balaaein bhi kaam karti hain

غزل · Ghazal

جب اس کے سامنے سورج ہوا ندی کیا ہے ہم آدمی ہیں ہماری بساط ہی کیا ہے بچھڑ کے گھر سے یہی سوچتا ہوں میں دن رات شجر سے ٹوٹ کے پتوں کی زندگی کیا ہے جلے مگر جو نہ روشن ہوئے زمانے میں وہی چراغ سمجھتے ہیں روشنی کیا ہے بس ایک رات کا مہمان ہے پرندہ یہاں اسے پتہ ہی نہیں شاخ چاہتی کیا ہے ہمارے آنسو جو چاہیں تو غرق ہو دنیا ہمارے بارے میں دنیا یہ جانتی کیا ہے کبھی خموش کبھی تیز رو بپھرتی ہے پہاڑ سے کوئی پوچھے ذرا ندی کیا ہے

jab us ke saamne suraj havaa nadi kyaa hai

غزل · Ghazal

بھلی ہو یا کہ بری ہر نظر سمجھتا ہے ہر ایک شخص کی آہٹ کو گھر سمجھتا ہے ہر ایک در کو وہ اپنا ہی در سمجھتا ہے مگر زمانہ اسے در بہ در سمجھتا ہے پھل اور شاخ سمجھنے میں چوک جائیں مگر ہے کس جگہ کا پرندہ شجر سمجھتا ہے کچھ اس طرح سے دکھاتا ہے وہ ہنر اپنا کہ جیسے سب کو یہاں بے ہنر سمجھتا ہے

bhali ho yaa ki buri har nazar samajhtaa hai

غزل · Ghazal

میرا نہیں ہے اور نہ کسی اور ہی کا ہے پرتو جہاں کہیں ہے تری روشنی کا ہے پنچھی درخت پھول تو منہ ڈھک کے سو گئے جنگل میں راج پاٹ بس اب چاندنی کا ہے لٹنے کا ڈر سہی پہ محبت کی راہ میں جانا تو اسی گلی سے ہر اک آدمی کا ہے برسوں پرانا زخم ہے ایسا ہرا مگر دیکھے طبیب تو وہ کہے آج ہی کا ہے گھر جل رہا ہے سامنے اس کو بچایئے پھر اس کے بعد اگلا مکاں آپ ہی کا ہے

meraa nahin hai aur na kisi aur hi kaa hai

Similar Poets