SHAWORDS
Aulad Ali Rizvi

Aulad Ali Rizvi

Aulad Ali Rizvi

Aulad Ali Rizvi

poet
1Shayari
9Ghazal

Popular Shayari

1 total

Ghazalغزل

See all 9
غزل · Ghazal

ناؤ طوفان میں جب زیر و زبر ہوتی ہے ناخدا پر کبھی موجوں پہ نظر ہوتی ہے دور ہے منزل مقصود سفر ہے درپیش سونے والوں کو جگا دو کہ سحر ہوتی ہے اور بڑھ جاتی ہے کچھ قوت احساس عمل جتنی دشوار مری راہگزر ہوتی ہے گھر کے چھٹنے کا اثر عالم غربت کا خیال کیفیت دل کی عجب وقت سفر ہوتی ہے کیا گزرتی ہے گلوں پر کوئی ان سے پوچھے نام گلشن کا ہے کانٹوں پہ بسر ہوتی ہے عزم کہتا ہے مرا میں بھی تو دیکھوں آخر کون سی ہے وہ مہم جو نہیں سر ہوتی ہے کون کہتا ہے غریب الوطنی میں ساقیؔ ساتھ لے دے کے فقط گرد سفر ہوتی ہے

naav tufaan mein jab zer-o-zabar hoti hai

غزل · Ghazal

نہ جس کا کوئی سہارا ہو وہ کدھر جائے نہ آئے موت تو بے موت کیسے مر جائے میں اس خیال سے ان سے گلا نہیں کرتا کہیں نہ پھول سے چہرے کا رنگ اتر جائے تو ہی بتا دے مجھے بے کسیٔ منزل شوق جو راہ سے بھی نہ واقف ہو وہ کدھر جائے ہزاروں طور نہیں چشم معرفت کے لئے جہاں جہاں تری معجز نما نظر جائے تجلیات سے معمور ہے ہر اک ذرہ بلا سبب نہ کوئی کوہ طور پر جائے نہ پی تو اپنے یہ آنسو مذاق میں ساقیؔ کہیں نہ زہر محبت میں کام کر جائے

na jis kaa koi sahaaraa ho vo kidhar jaae

غزل · Ghazal

گھٹی گھٹی سی فضا میں شگفتگی تو ملی چمن میں شکر ہے ہنستی کوئی کلی تو ملی بلا سے برق گری میرے آشیانے پر اندھیری رات کے رہرو کو روشنی تو ملی رہا نہ شکوۂ بے چارگی کہ غربت میں قدم قدم پہ سہارے کو بے کسی تو ملی ہمارے دل سے کوئی پوچھے قدر اس مے کی جو ایک بوند سہی وقت تشنگی تو ملی سنبھل سنبھل کے مرے دل کو توڑنے والے تری جفا میں محبت کی چاشنی تو ملی کسی کا بھی نہ رکھا تھا خرد نے اپنے سوا جنوں کی راہ پہ چلنے سے آگہی تو ملی نہ تھا نصیب میں گر سیم و زر تو کیا ساقیؔ در حبیب کی ہم کو گداگری تو ملی

ghuTi ghuTi si fazaa mein shaguftagi to mili

غزل · Ghazal

گہہ مشق ستم گاہ کرم یاد کریں گے جب تک بھی جئیں گے تمہیں ہم یاد کریں گے جب ذکر چھڑے گا کہیں ارباب وفا کا اپنے دل مرحوم کو ہم یاد کریں گے دل اپنا ہے دل پر تو نہیں زور کسی کا کعبہ میں بھی ہم تجھ کو صنم یاد کریں گے جو سجدہ گہہ عشق کی رفعت سے ہیں واقف وہ لوگ مرا نقش قدم یاد کریں گے توقیر بڑھائی ہے مرے سجدوں نے ان کی اک عمر مجھے دیر و حرم یاد کریں گے جب بات چھڑے گی کہیں ارباب نظر کی ساقیؔ کو بہت اہل قلم یاد کریں گے

gah mashq-e-sitam gaah-e-karam yaad kareinge

غزل · Ghazal

ابھرتے چاند ستاروں کا تذکرہ بھی کرو خزاں کے ساتھ بہاروں کا تذکرہ بھی کرو گلوں کی چھاؤں میں آرام کرنے والو کبھی ہماری راہ کے خاروں کا تذکرہ بھی کرو ہمیشہ سیل و تلاطم کا ذکر کرتے ہو سکوں بہ دوش کناروں کا تذکرہ بھی کرو رباب و چنگ کے نغموں سے گر ملے فرصت شکستہ ساز کے تاروں کا تذکرہ بھی کرو خزاں کی گود میں آنکھوں کو کھولنے والو نظر نواز بہاروں کا تذکرہ بھی کرو حسین چاندنی راتوں سے کھیلنے والو سحر کے ڈوبتے تاروں کا تذکرہ بھی کرو ہمیشہ ذکر شب تار کس لئے ساقیؔ کبھی سحر کے نظاروں کا تذکرہ بھی کرو

ubharte chaand sitaaron kaa tazkira bhi karo

غزل · Ghazal

جہاں نفاق کے شعلے ملیں بجھا کے چلو چراغ امن و محبت کا تم جلا کے چلو تمہارے بعد بھی آئیں گے قافلے یارو ملیں جو راہ میں کانٹے انہیں ہٹا کے چلو ابھی تو کام انہیں بھی بہت سے کرنے ہیں نمود صبح ہے سوتوں کو بھی جگا کے چلو اشارہ وقت کا یہ ہے کہ اے جہاں والو نیاز و ناز کی تفریق کو مٹا کے چلو بھٹک رہے ہوں جو راہوں میں دیں گے تم کو دعا بجھے چراغ سر رہ گزر جلا کے چلو تمہیں بھی زندگیٔ جاوداں میسر ہو وفا کی راہ میں دل کو اگر مٹا کے چلو ملے ہیں ہوش و خرد اس لئے تمہیں ساقیؔ جنوں کی راہ میں ہوش و خرد لٹا کے چلو

jahaan nifaaq ke shoale milein bujhaa ke chalo

Similar Poets