SHAWORDS
Azbar Safeer

Azbar Safeer

Azbar Safeer

Azbar Safeer

poet
1Shayari
11Ghazal

Popular Shayari

1 total

Ghazalغزل

See all 11
غزل · Ghazal

اب کے یہ بات ذہن میں ٹھانی ہے اور بس ہم نے تو اپنی جان بچانی ہے اور بس نقصان تو ہمارا ہے کچے گریں گے ہم تم نے تو ایک شاخ ہلانی ہے اور بس اس نے خریدنے ہیں کئی سات رنگ خواب ہم نے سیاہ نیند کمانی ہے اور بس ہم نے بڑے جتن سے جلانا ہے اک چراغ اس نے ہوا کو انگلی دکھانی ہے اور بس اتنی سی داستان ہے کاغذ کی ناؤ کی دریا ہے اور اس میں روانی ہے اور بس ہم نے کہا کہ اشک لہو ہے جگر کا دوست اس نے کہا کہ چھوڑیئے پانی ہے اور بس

ab ke ye baat zehn mein Thaani hai aur bas

غزل · Ghazal

چھوڑو یہ بات چیت بھی کس کا ہے کیا ہوا اچھا ہوا ہے یار جو اچھا برا ہوا دھیرے سے چلنا چاہیے تھا بھاگنے لگے ہم نے خراب کر لیا رستہ بنا ہوا آنکھوں کا لمس جسم کے ہاتھوں میں سونپ کر اس نے چراغ گل کیا آدھا جلا ہوا آدھا ادھورا ہجر جوانی چبا گیا آدھے ادھورے عشق میں بچپن ہوا ہوا دل کا معاملہ بھی ہے کچھ اس طرح کا دوست تازہ سا ایک زخم ہو جیسے دکھا ہوا چکرا رہے ہیں واقعی ہم یا مرے سفیرؔ پنکھا سا گھومتا ہے فلک سے لگا ہوا

chhoDo ye baat-chit bhi kis kaa hai kyaa huaa

غزل · Ghazal

جواب مانگا تو الٹا سوال کرنے لگے ہمارے عہد کے بچے کمال کرنے لگے بڑے بزرگ پرندوں سے پیار کرتے تھے سو ہم بھی سبز رتوں کا خیال کرنے لگے جو زرد رو ہیں وہ پھولوں کو دیکھ کر اپنے طمانچے مار کے رخسار لال کرنے لگے دماغ ٹھیک ہے لیکن یہ دل وبالی ہے نہ جانے کون گھڑی کیا وبال کرنے لگے میں خوش ہوا تھا اسے دیکھ کر مگر ازبرؔ درون دل کوئی پرزے ملال کرنے لگے

javaab maangaa to ulTaa savaal karne lage

غزل · Ghazal

لوگ آئے ہی نہیں مجھ کو میسر ایسے جو مجھے کہتے کہ ایسے نہیں ازبرؔ ایسے جیسا میں ہوں مرے چہرے کی ہنسی جیسی ہے غور سے دیکھ کہ ہوتے نہیں جوکر ایسے تیز دوڑا کے اچانک مری رسی کھینچی اس نے سمجھایا مجھے لگتی ہے ٹھوکر ایسے آنکھ کھلنے پہ جو اٹھتا ہوں تو چکراتا ہوں کون دیتا ہے مجھے خواب میں چکر ایسے زلف ایسی کے سیاہ ریشمی جنگل کوئی نین اس شخص کے ہیں سرمئی مرمر ایسے کوئی تو ہوتا جو سینے سے لگا کر کہتا بات تھی بات کو لیتے نہیں دل پر ایسے کس نے سوچا تھا کہ کمروں میں فقط چپ ہوگی کس نے سوچا تھا کہ گزرے گا ستمبر ایسے ہائے آخر میں وہی حادثہ پیش آیا سفیرؔ ہمیں کہنا پڑا لکھے تھے مقدر ایسے

log aae hi nahin mujh ko mayassar aise

غزل · Ghazal

زمیں بنائی نئے زاویے بنانے پڑے کہیں پہ قوس کہیں دائرے بنانے پڑے کہیں تھی روشنی مطلوب اور کہیں رونق کہیں چراغ کہیں قمقمے بنانے پڑے وہ اک سفر جو ہمیں زندگی کی شکل ملا اس اک سفر کے کئی مرحلے بنانے پڑے فراغتوں میں یہاں اور کچھ نہ بن پایا ستم بنانے پڑے مسئلے بنانے پڑے نئی ہواؤں سے لڑنے کے واسطے ازبرؔ ہمیں چراغ نئے طور کے بنانے پڑے

zamin banaai nae zaaviye banaane paDe

غزل · Ghazal

چنبیلی رات کہہ رہی تھی میری بو لیا کریں اور اس سے جی نہیں بھرے تو مجھ کو چھو لیا کریں گر آپ کو بھی شوق ہے قد آوری کا یوں کریں زمیں میں پاؤں گاڑ کر ذرا نمو لیا کریں کبھی بھی اچھے دیوتا نہیں بنیں گے ایسے آپ چڑھاوے میں روپے نہیں فقط لہو لیا کریں ہمارے میکدے کا یہ اصول ہے سبھی سنیں ہمیشہ دائیں ہاتھ سے سبھی سبو لیا کریں قفس میں شور بھی کریں تو خیر ہے مگر سفیرؔ رہائشی پرند لیں تو خوش گلو لیا کریں

chameli raat kah rahi thi meri bu liyaa karein

Similar Poets