"miThe paani ki naddi kyuun bahe samundar or jis ke man men pyaar ka dhan ho kyuun le vo bairag"

Baqar Naqvi
Baqar Naqvi
Baqar Naqvi
Sherشعر
Popular Sher & Shayari
4 total"koi tum men yazid aur shabbir hai kis ki taqsir hai log kahne lage shahr ko karbala shahr vaalo suno"
miThe paani ki naddi kyuun bahe samundar or
jis ke man mein pyaar kaa dhan ho kyuun le vo bairaag
koi tum mein yazid aur shabbir hai kis ki taqsir hai
log kahne lage shahr ko karbalaa shahr vaalo suno
Ghazalغزل
juz andhere ke na kuchh shab ke khazaane se milaa
جز اندھیرے کے نہ کچھ شب کے خزانے سے ملا کتنا سکھ تجھ کو چراغوں کے بجھانے سے ملا زر نگاری نہ بزرگوں کی پسند آئی مگر کتنا زر ان کی قباؤں کے جلانے سے ملا دوستی کے نہیں قابل تو عداوت ہی سہی سلسلہ کوئی تو شاہی کے گھرانے سے ملا کس کو پہچانئے کس کس کے لئے غم کیجے ایک انبار درندوں کے ٹھکانے سے ملا سر اٹھانا تو کبھی راس نہ آیا باقرؔ جو بھی اعزاز ملا سر کو جھکانے سے ملا
karo kuchh aur qayaamat kaa intizaar abhi
کرو کچھ اور قیامت کا انتظار ابھی مری زمین کا اجڑا نہیں سنگھار ابھی عطا کئے ہیں بہت بے بسی کے دستانے امید کتنی لگائے ہیں شہریار ابھی زمیں اگرچہ نئے قحط کی لپیٹ میں ہے رکا نہیں ہے مگر دست کردگار ابھی چلو دعا کے چراغوں کی لو بڑھاتے چلیں ملیں گے اور بھی دشت سیاہ کار ابھی ابھی سے کیسے شب ہجر کی سزا دے دیں کہ اس کی گود میں ہے شام کی بہار ابھی قبا پہ رنگ پڑا ہے تو اتنی وحشت کیا لباس جلد بھی ہونا ہے تار تار ابھی غریب آنکھ کی پتلی کی ہمتوں کے نثار ہوا نہیں ہے اندھیروں پہ انحصار ابھی کوئی سنے نہ سنے تو سنائے جا باقرؔ ترے ستار میں باقی ہے ایک تار ابھی
khiDkiyon se bhi agar dhuup na aai hoti
کھڑکیوں سے بھی اگر دھوپ نہ آئی ہوتی ہم نے دن ہوتے ہوئے شمع جلائی ہوتی اپنی آنکھوں کو اگر ہم بھی بچا لے جاتے سانس لیتے ہوئے منظر سے برائی ہوتی لوگ مرعوب بہت ہیں تری محرابوں سے بیل ہی کوئی ستونوں پہ چڑھائی ہوتی میری آنکھوں کے دریچوں میں سبھی رنگ اس کے دل کی دیوار بھی کاش اس نے سجائی ہوتی ہم کو منظور نہ تھی قید وفاداریٔ شہ ورنہ پیروں میں بھی زنجیر طلائی ہوتی سارے تہوار گزر جاتے ہیں سونے سونے یہ عمارت بھی کبھی تم نے سجائی ہوتی
subuk-sari mein bhi andesha-e-havaa rakhnaa
سبک سری میں بھی اندیشۂ ہوا رکھنا سلگ اٹھے ہو تو جلنے کا حوصلہ رکھنا نئی فضا میں نئے پر نکالنے ہوں گے فلک کو زیر زمیں کو گریز پا رکھنا تمہارے جسم کے صندل کی آبرو ہے بہت ہجوم شوق میں رہ کر بھی فاصلہ رکھنا زمین پھول فضا نور آسمان دھنک انہیں میں رہنا مگر رنگ بھی جدا رکھنا تمہارے شہر کے لب بستہ شاعروں میں سے ہوں مرے لیے بھی کوئی حرف بے نوا رکھنا یہ زینتیں بھی عجب ہیں یہ سادگی بھی عجب ریا کے سارے ہنر جسم پر سجا رکھنا نہ جانے کون سا کس وقت کام آ جائے سو ایک جیب میں بت ایک میں خدا رکھنا
koi to thaa dhanak dhanak khvaab mein yaa khayaal mein
کوئی تو تھا دھنک دھنک خواب میں یا خیال میں رنگ عجیب گھل گئے کیفیت ملال میں مہر تھی مرے نطق پر تیرے لبوں کی نغمگی ورنہ جواب تھے چھپے تیرے ہر اک سوال میں بول تو سوچ سوچ کر چل تو سنبھل سنبھل کے چل کی ہے بہت گلو کی بات ہم نے تری مثال میں سرد دنوں کی طرح گم ہو گئی اپنی زندگی فرق کہاں رہا کوئی ماہ میں اور سال میں میرے رواق دل میں تو چلتا تھا کتنے ناز سے آ گئی کیسے اب لچک تیری صبا سی چال میں میرے فراق میں تری عمر ٹھہر گئی تھی کیا بال سفید ہو گئے میرے ترے خیال میں موسم تازہ ہو کبھی میری طرف بھی اک نظر اترے کوئی نیا پرند میرے غموں کے تال میں اپنے کنارہ کر نہ اب باقرؔ خوش مثال سے بے ہنری شریک تھی اس کی ترے کمال میں
kuchh saamne huaa hai to kuchh raaz mein huaa
کچھ سامنے ہوا ہے تو کچھ راز میں ہوا آغاز زندگی عجب انداز میں ہوا کاٹے گئے گلاب لگائے گئے گلاب جو کچھ ہوا بہار کے اعزاز میں ہوا جو فیصلے ہوئے پس پردہ اسی کے تھے اعلان جو ہوا مری آواز میں ہوا جو معجزے ہوئے تری تخئیل میں ہوئے جو سانحہ ہوا مری پرواز میں ہوا وہ میری خلوتوں میں تھا دوری کے باوجود یہ معجزہ فراق کے آغاز میں ہوا





