miri namaaz miri bandagi miraa imaan
tiraa khayaal tiri yaad aarzu teri

Bashir Farooq
Bashir Farooq
Bashir Farooq
Popular Shayari
1 totalGhazalغزل
عشق ہے بندۂ آزاد کا مقصود حیات عقل بت گر نے تراشے ہیں ہزاروں معبود وسعتیں اور عطا عرصۂ آفاق کو کر تنگ ہے میرے جنوں پہ یہ جہان محدود فوقیت دیتے ہیں مذہب پہ جو قومیت کو ان کا ادراک معطل ہے بصیرت محدود اب کہاں حسن خود آرا میں خم زلف ایاز اب کہاں عشق کے مسلک میں طریق محمود نہ وہ منزل گہہ مجنوں ہے نہ وہ وادیٔ نجد رہ رو شوق و تمنا کی ہیں راہیں مسدود ذہن میں ان کے کہاں شعلۂ تخلیق سخن جو یہ کہتے ہیں کہ افکار پہ طاری ہے جمود شمع ایوان طرب قسمت منعم فاروقؔ دل مجبور کی تقدیر فقط شعلۂ دود
ishq hai banda-e-aazaad kaa maqsud-e-hayaat
دل کا مقسوم تھا محو غم جاناں ہونا اسی آئینے سے سیکھے کوئی حیراں ہونا اپنی ہی انجمن شوق میں ہو نغمہ سرا تنگ ہے غیر کی محفل میں غزل خواں ہونا زندگی کیا ہے تری یاد ترا ذکر جمیل بندگی کیا ہے ترے نام پہ قرباں ہونا دل یہ کہتا ہے پشیمان محبت ہو جا درد کہتا ہے نہ منت کش درماں ہونا ان سے اتنا نہ ہوا پرسش غم ہی کرتے ہم سے دیکھا نہ گیا جن کا پریشاں ہونا مجھ کو خوش آ نہ سکا غیرت دینی سے فرار ان کو راس آ گیا غارت گر ایماں ہونا عاشقی ضبط ہے اور ضبط ہے رعنائی زیست عشق کی شان نہیں چاک گریباں ہونا مجھ کو ان شوخ نگاہوں نے بنایا کافر جن کو منظور نہ تھا میرا مسلماں ہونا ہائے اس اشک جگر سوز کی قسمت فاروقؔ جس کی قسمت نہ ہو پلکوں پہ فروزاں ہونا
dil kaa maqsum thaa mahv-e-gham-e-jaanaan honaa
فراق دوست کے قابل نہیں ہے وہ دل جو خوگر مشکل نہیں ہے کوئی یہ ناخداؤں کو بتا دے محبت موج ہے ساحل نہیں ہے گریباں چاک ہے اپنا نہ دامن ابھی شاید جنوں کامل نہیں ہے ہے منزل اور بھی منزل سے آگے یہ منزل آخری منزل نہیں ہے بھلا وہ زندگی کیا ہے کہ جس میں ترا لطف و کرم شامل نہیں ہے خرد الجھی ہوئی ہے پیچ و خم میں جنوں شائستۂ محفل نہیں ہے مجھے ڈر ہم نواؤں سے ہے فاروقؔ مجھے اندیشۂ باطل نہیں ہے
firaaq-e-dost ke qaabil nahin hai
زباں مجبور ہے لب پر فغاں ہے سراپا درد میری داستاں ہے نگاہ یار بھی ہے بد گماں سی غرور حسن بھی دامن کشاں ہے فراق دوست کا کیا ذکر آخر وصال یار بھی دل پر گراں ہے یہاں پر بات کرنا ہے قیامت وہاں فریاد کی جرأت کہاں ہے مرا غم ہے مرا سرمایۂ زیست مرا ہر اشک میرا ترجماں ہے خمار آلود نظروں میں ہے جو کیف وہ ساقی تیرے ساغر میں کہاں ہے اگر مے حسن ہے تو عشق فاروقؔ خمار بادۂ شعلۂ فشاں ہے
zabaan majbur hai lab par fughaan hai
تخلیق کائنات دگر کر سکے تو کر پیدا خود اپنے شام و سحر کر سکے تو کر پھولوں میں شب گزارنا مشکل نہیں کوئی کانٹوں پہ کوئی رات بسر کر سکے تو کر اچھا نہیں کسی کی تمنا سے کھیلنا اچھا یہی ہے اس سے حذر کر سکے تو کر ہر اشک خوں ہے مخزن سرمایۂ حیات ہر اشک خوں کو لعل و گہر کر سکے تو کر تارے مراحل سفر شوق ہی سہی تاروں کو بھی شریک سفر کر سکے تو کر عقل و خرد کے مرحلے طے کر لیے تو کیا وہم و گماں کے معرکے سر کر سکے تو کر فاروقؔ یہ بہار چمن پھر نہ آئے گی یاران مے کدہ کو خبر کر سکے تو کر
takhliq-e-kaaenaat digar kar sake to kar
نقش و نگار زیست کا ساماں نہ کر سکے اپنا لہو جو صرف گلستاں نہ کر سکے وہ کم نصیب جن کی خزاں میں کھلی تھی آنکھ اندازۂ جمال بہاراں نہ کر سکے ہر ایک ناخدا نے سفینوں پہ خیر سے احسان وہ کئے ہیں جو طوفاں نہ کر سکے اپنے بھی داغ دل مہ و انجم سے کم نہ تھے یہ اور بات ہے کہ فروزاں نہ کر سکے اس واسطے ہر اک کو نیا غم دیا گیا کوئی کسی کے درد کا درماں نہ کر سکے وہ غم گساریٔ غم دوراں کریں گے کیا جو پاس خاطر غم دوراں نہ کر سکے فاروقؔ تم نے خود کو مسلماں تو کر لیا اس کفر ماجرا کو مسلماں نہ کر سکے
naqsh-o-nigaar-e-zist kaa saamaan na kar sake





