tere naam kaa taaraa jaane kab dikhaai de
ik jhalak ki khaatir ham raat bhar Tahalte hain

Bashir Saifi
Bashir Saifi
Bashir Saifi
Popular Shayari
3 totalgunjungaa tere zehn ke gumbad mein raat-din
jis ko na tu bhulaa sake vo guftugu huun main
khud apni hi gahraai mein
aakhir ko gharqaab hue ham
Ghazalغزل
بھولا بسرا خواب ہوئے ہم کچھ ایسے نایاب ہوئے ہم دریا بن کر سوکھ گئے تھے قطرے سے سیراب ہوئے ہم جانے کس منظر سے گزرے پل بھر میں برفاب ہوئے ہم خود اپنی ہی گہرائی میں آخر کو غرقاب ہوئے ہم خوابوں کی تعبیر بھی دیکھیں اتنے کب خوش خواب ہوئے ہم بات زباں پر لا کر سیفیؔ بے وقعت بے آب ہوئے ہم
bhulaa-bisraa khvaab hue ham
کسے خبر ہے میں دل سے کہ جاں سے گزروں گا جو بار بار صف دشمناں سے گزروں گا یقین بھی تجھے آئے گا میری ہستی پر یہی نہیں کہ میں تیرے گماں سے گزروں گا ہر ایک شے مری جانب ہی ملتفت ہوگی میں تیرے ساتھ اگر شہر جاں سے گزروں گا اندھیری رات کا مجھ کو ذرا بھی خوف نہیں کئی چراغ جلیں گے جہاں سے گزروں گا زمین زاد ہوں سیفیؔ زمیں پہ رہنا ہے نہ کہکشاں نہ کسی آسماں سے گزروں گا
kise khabar hai main dil se ki jaan se guzrungaa
ظاہر مری شکست کے آثار بھی نہیں مجھ کو یقین فتح کا اس بار بھی نہیں قید مکاں سے دیکھیے کب تک رہائی ہو اب تک تو بد گماں در و دیوار بھی نہیں کس سحر کی گرفت میں آئے ہوئے ہیں ہم آنکھیں بھی ہیں کھلی ہوئی بیدار بھی نہیں جو کچھ کہ دل میں ہو بھری محفل میں کہہ سکے ہر شخص میں یہ جرأت اظہار بھی نہیں کیا اصل کائنات کو سیفیؔ سمجھ سکوں مجھ پر عیاں تو ذات کے اسرار بھی نہیں
zaahir miri shikast ke aasaar bhi nahin
خود اپنا اعتبار گنواتا رہا ہوں میں ذرے کو آفتاب بتاتا رہا ہوں میں اندھی ہوا کو دوں کوئی الزام کس لیے اپنے دیئے کو آپ بجھاتا رہا ہوں میں اک عمر کے ریاض کا حاصل نہ پوچھئے ریگ رواں پہ نقش بناتا رہا ہوں میں ہر چند مصلحت کا تقاضا کچھ اور تھا آئینہ ہر کسی کو دکھاتا رہا ہوں میں بچوں کے ہنستے کھیلتے چہروں کی اوٹ میں اپنے دکھوں کی ٹیس چھپاتا رہا ہوں میں یہ اور بات خود مرے پاؤں نہ اٹھ سکے اوروں کو راستہ تو دکھاتا رہا ہوں میں سیفیؔ فشار غم کی تمازت کے باوجود حیرت ہے اپنی بات نبھاتا رہوں میں
khud apnaa eatibaar ganvaataa rahaa huun main
اس بحر بے صدا میں کچھ اور نیچے جائیں آواز کا خزینہ شاید تہوں میں پائیں گلیوں میں سڑ رہی ہیں بیتے دنوں کی لاشیں کمرے میں گونجتی ہیں بے نام سی صدائیں ماضی کی یہ عمارت مہماں ہے کوئی دم کی دیوار و در شکستہ اور تیز تر ہوائیں لیتے ہی ہاتھ میں کیوں اخبار پھاڑ ڈالا کیسی خبر چھپی تھی ہم کس کو کیا بتائیں شب کی سیہ ندی سے سیفیؔ ابھر کے سوچو سورج کی روشنی میں سائے کہاں چھپائیں
is bahr-e-be-sadaa mein kuchh aur niche jaaein
حبس کے دنوں میں بھی گھر سے کب نکلتے ہیں دائرے کے اندر ہی راستے بدلتے ہیں خون جلتا رہتا ہے گاؤں کے جوانوں کا کارخانے شہروں کے کب دھواں اگلتے ہیں تیرے نام کا تارا جانے کب دکھائی دے اک جھلک کی خاطر ہم رات بھر ٹہلتے ہیں اب سفر کوئی بھی ہو میں کہاں اکیلا ہوں تیرے چاند سورج بھی ساتھ ساتھ چلتے ہیں عین دوپہر میں بھی سر پہ تیرا سایا ہے تجھ کو بھول جائیں تو چاندنی میں جلتے ہیں کھل گئے ہیں پھر شاید رحمتوں کے دروازے حادثے کہاں ورنہ ٹالنے سے ٹلتے ہیں نیند کے نگر سے تو رابطہ نہیں ٹوٹا فکر شعر میں سیفیؔ کروٹیں بدلتے ہیں
habs ke dinon mein bhi ghar se kab nikalte hain





