chamak uThe miri aankhon mein ashk ki surat
jo aag dil mein hai raushan zabaan se zaahir ho

Ejaz Asif
Ejaz Asif
Ejaz Asif
Popular Shayari
1 totalGhazalغزل
کئے ہیں مجھ پہ جو احساں جتا نہیں سکتا وہ شخص تو مرا دل بھی دکھا نہیں سکتا چھپا ہوا ہوں تہ سنگ ایک مدت سے ہوا کا جھونکا مری سمت آ نہیں سکتا پرے ہے آج بھی وہ سرحد تصور سے میں اس کو پوج تو سکتا ہوں پا نہیں سکتا دکھا رہا ہے وہی موج موج عکس مجھے وہ تیرا عکس جسے میں بنا نہیں سکتا میں ایک نغمۂ سادہ مزاج ہوں آصفؔ قبائے ساز میں خود کو چھپا نہیں سکتا
kiye hain mujh pe jo ehsaan jataa nahin saktaa
آ گیا ایثار میرے حلقۂ احباب میں پھر کسی شعلے نے پائی ہے نمو برفاب میں کہہ رہی ہے ساحلوں سے ڈوبنے والے کی لاش میں نے پایا ہے سکوں اک مضطرب گرداب میں کانپ اٹھا ہوں ورود بارش موعودہ پر غرق ہونے کو ہے سارا شہر سیل آب میں میرے ہاتھوں میں اگر تقدیر صبح و شام ہو تتلیاں تعبیر کی رکھ دوں کتاب خواب میں خاک کے پتلے نے آخر کر دیا افشا اسے دفن تھا جو راز اب تک سینۂ مہتاب میں سامنے کی چیز میں آصفؔ نہیں کوئی کشش تک نہ یوں حیرت سے اپنے عکس کو تالاب میں
aa gayaa isaar mere halqa-e-ahbaab mein
نوید یوم بہاراں خزاں سے ظاہر ہو مثال صوت پریشاں فغاں سے ظاہر ہو تجھے گماں ہے اگر خود پہ لفظ روشن کا ردائے شبنم عجز بیاں سے ظاہر ہو چمک اٹھے مری آنکھوں میں اشک کی صورت جو آگ دل میں ہے روشن زباں سے ظاہر ہو کسی بھی سمت سے ابھرے ستارۂ آواز نہیں یہ قید کہ وہ آسماں سے ظاہر ہو وہ کائنات کا خالق سہی مگر آصفؔ یقیں ہے خود پہ اسے تو گماں سے ظاہر ہو
naved-e-yaum-e-bahaaraan khizaan se zaahir ho
بے نیاز صوت و محروم بیاں رکھا گیا یعنی حرف شوق کو زیر زباں رکھا گیا خواب میں رکھی گئی بنیاد شہر آرزو قید میں برفاب کی شعلہ جواں رکھا گیا رہنمائی دی گئی ہر موج تند و تیز کو پانیوں پر ہر سفینے کو رواں رکھا گیا قدسیوں کو رفعتیں بخشی گئیں فردوس کی خاک کے پتلے کو زیر آسماں رکھا گیا دوپہر کی دھوپ میں آصفؔ جلا جاتا ہے جسم سایۂ اشجار کو جانے کہاں رکھا گیا
be-niyaaz-e-saut-o-mahrum-e-bayaan rakkhaa gayaa
کس دل سے ہم ارادۂ ترک جنوں کریں ممکن نہیں کہ خواہش صحرا کا خوں کریں کچھ گفتگو ہو آج عروس بہار سے کچھ ہم خزاں رسیدہ بھی حاصل سکوں کریں ہاں بے کناریوں سے کریں آشنا اسے ہاں درد انتظار کو کچھ تو فزوں کریں منزل کا جس سے مل نہ سکے تا ابد سراغ وہ راہ اختیار بتاؤ تو کیوں کریں دیں آرزو کو رنگ رہ یار خوش خرام فرصت ملے تو آصفؔ و خالدؔ بھی یوں کریں
kis dil se ham iraada-e-tark-e-junun karein
ہوں میں بھی شعبدہ کوئی دنیا کے سامنے حیران ہو رہی ہے مجھے پا کے سامنے ذرے نے آج اپنی حقیقت کو پا لیا ذرہ نہ سرنگوں ہوا صحرا کے سامنے اکسا رہی ہے کوئی خلش دیر سے مجھے رکھ دل سا پھول خار تمنا کے سامنے خلوت میں کر رہا تھا گناہوں کا اعتراف ہونٹوں کو وا نہ کر سکا دنیا کے سامنے آصفؔ تمام مرحلے آسان ہو گئے ٹھہری نہ اک چٹان بھی دریا کے سامنے
huun main bhi shoabada koi duniyaa ke saamne





