SHAWORDS
Fani Jodhpuri

Fani Jodhpuri

Fani Jodhpuri

Fani Jodhpuri

poet
1Shayari
10Ghazal

Popular Shayari

1 total

Ghazalغزل

See all 10
غزل · Ghazal

کوئی مکیں بھی نہ تھا اس مکاں سے لوٹا ہوں خدا ہی جانتا ہے میں کہاں سے لوٹا ہوں حیات گزری تھی کردار جس کے گڑھنے میں ذلیل ہو کے اسی داستاں سے لوٹا ہوں نہ کوئی نقش نظر میں نہ دھول کپڑوں پہ سمجھ میں کچھ نہیں آتا کہاں سے لوٹا ہوں جہاں پہ آ کے مکمل ہوئے وجود تمام ادھورا ہو کے اکیلا وہاں سے لوٹا ہوں وہ خوشبوئیں تو مرے تاک میں ہی تھیں رقصاں تلاش کر کے جنہیں گلستاں سے لوٹا ہوں زمین والوں زمیں کی نہ داستاں پوچھو گزشتہ رات ہی میں آسماں سے لوٹا ہوں جہاں پہ فانیؔ کو فانی بنایا جاتا ہے میں اب کے بار اسی آستاں سے لوٹا ہوں

koi makin bhi na thaa us makaan se lauTaa huun

غزل · Ghazal

خوشی کہ چہرے پہ غم کا جلال ساتھ لئے حیات ملتی ہے پر انتقال ساتھ لئے بلندیوں پہ سبھی آ کے بھول جاتے ہیں عروج آتا ہے لیکن زوال ساتھ لئے وہ خون آنکھوں سے رونا عمل پرانا ہے اب اشک بہتے ہیں آنکھوں کی کھال ساتھ لئے کئی جمی ہوئی پرتیں ادھیڑ ڈالے گا یہ مجھ میں کون ہے اترا کدال ساتھ لئے خبر یہ گھول نہ دے مچھلیوں کو پانی میں مچھیرے آئیں گے کل صبح جال ساتھ لئے یہاں پہ چھوڑ دیا تو جواب ڈس لیں گے میں لوٹ جاوں گا اپنا سوال ساتھ لئے وہ پیٹ کے لئے کافی نہیں ہے اب فانیؔ تو جا رہا ہے جو رزق حلال ساتھ لئے

khushi ki chehre pe gham kaa jalaal saath liye

غزل · Ghazal

دیکھ بھال کر سنبھل سنبھل کر آتے ہیں ہم تک چہرے عمر بدل کر آتے ہیں جمے ہیں جو چہرے آنکھوں کی کوروں پہ آؤ ان کو گیت غزل کر آتے ہیں جب کرنیں پانی پہ دستک دیتی ہیں لہروں پہ گرداب اچھل کر آتے ہیں تم جیسے ہم لگنے لگیں گے ٹھہرو تو ہم بھی اپنا خون بدل کر آتے ہیں گلشن سے مجھ تک آنے میں ہوا کے ہاتھ جانے کتنے پھول مسل کر آتے ہیں فانیؔ جیسے کچھ چہرے بازاروں میں اپنی انا ہر روز نگل کر آتے ہیں

dekh bhaal kar sambhal sambhal kar aate hain

غزل · Ghazal

یہ صحرا میرا ہے جھیلم چناب اس کی طرف تراب میری طرف اور آب اس کی طرف نہ جانے کس نے بنائی ہے دوغلی تصویر ہیں خار میری طرف اور گلاب اس کی طرف زبان میری ہے الفاظ ہیں مرے لیکن ہے بات چیت کا لب و لباب اس کی طرف مری غزل کے مقدر میں پیاس آئی ہے کشید کی ہوئی عمدہ شراب اس کی طرف کوئی معمہ کبھی اس طرح بھی ہو مولا سوال میری طرف ہوں جواب اس کی طرف یوں اپنا نامۂ اعمال کر لیا تقسیم گناہ میری طرف ہیں ثواب اس کی طرف ضرور پوچھوں‌‌ گا تقسیم کرنے والے سے رکھا ہے کس لیے سارا شباب اس کی طرف کسی نے نام سے میرے اچھالا جب پتھر ابھرنے لگ گیا اک انقلاب اس کی طرف جو خود سے پوچھا کہ فانیؔ میں جاؤں کس رستے اشارا کرنے لگی ہے رکاب اس کی طرف

ye sahraa meraa hai jhelam chanaab us ki taraf

غزل · Ghazal

بہت سنا تھا کہ کھلتا ہے پر نہیں کھلتا خدا کے واسطے بندے کا گھر نہیں کھلتا وہ ایک شعر جو کھلتا ہے ساری محفل پہ وہ جس پہ کھلنا ہے اس پہ مگر نہیں کھلتا ہمارے قد کے مطابق جسے بنایا تھا وہی وہ در ہے جو بالشت بھر نہیں کھلتا بنے ہوئے ہیں عجایب گھروں کی زینت ہم پر اپنے واسطے اپنا ہی در نہیں کھلتا تمہیں پہنچنا ہے اقبالؔ میرؔ غالبؔ تک مگر وہ راستہ شاید ادھر نہیں کھلتا کرے کی منتیں کرتے ہیں ایک مدت سے مگر نصیب میں اپنے سفر نہیں کھلتا سوال دستکیں دے کہ ہوئے فنا فانیؔ جہاں جواب ہے بس وہ ہی در نہیں ملتا

bahut sunaa thaa ki khultaa hai par nahin khultaa

غزل · Ghazal

چلن اس دوغلی دنیا کا گر منظور ہو جاتا وہ مجھ سے دور ہو جاتا میں اس سے دور ہو جاتا ہنر ہاتھوں سے چکنے کا بچا کر لے گیا مجھ کو بھروسے پاؤں کے رہتا تو میں معذور ہو جاتا زمانے بھر کی باتوں کو اگر دل سے لگا لیتا جہاں پہ دل دھڑکتا ہے وہاں ناسور ہو جاتا سفر کرتے ہوئے اپنا ہٹا کر آنکھ سے پٹی میں سنگ میل جو پڑھتا تھکن سے چور ہو جاتا یہ فانیؔ دل کی سنتا ہے تبھی گمنام ہے اب تک اگر یہ ذہن کی سنتا بہت مشہور ہو جاتا

chalan is doghli duniyaa kaa gar manzur ho jaataa

Similar Poets