"main jitni der bayaban men tha to insan tha zara jo shahr men aaya darinda ho gaya main"

Farhad Ahmad Figar
Farhad Ahmad Figar
Farhad Ahmad Figar
Sherشعر
main jitni der bayaban men tha to insan tha
میں جتنی دیر بیاباں میں تھا تو انساں تھا ذرا جو شہر میں آیا درندہ ہو گیا میں
kis suhulat se jaan li meri
کس سہولت سے جان لی میری اس نے ہر بات مان لی میری
mazduron ke naam pe ab ke bhi
مزدوروں کے نام پہ اب کے بھی کچھ لوگوں نے صرف سیاست کی
Popular Sher & Shayari
6 total"kis suhulat se jaan li meri us ne har baat maan li meri"
"mazduron ke naam pe ab ke bhi kuchh logon ne sirf siyasat ki"
main jitni der bayaabaan mein thaa to insaan thaa
zaraa jo shahr mein aayaa darinda ho gayaa main
mazduron ke naam pe ab ke bhi
kuchh logon ne sirf siyaasat ki
kis suhulat se jaan li meri
us ne har baat maan li meri
Ghazalغزل
koi surat bataa sukun ki mujhe
کوئی صورت بتا سکوں کی مجھے ہے ضرورت ذرا سکوں کی مجھے میری آنکھوں سے چھین کر نیندیں اس نے دی ہے دعا سکوں کی مجھے ماں کے پیروں میں بیٹھ کر جانا مل گئی ہے جگہ سکوں کی مجھے کچھ نہیں مانگتا ہوں میں مالک کر دے نعمت عطا سکوں کی مجھے ایک مفلس کا جھونپڑا جس سے آ رہی ہے صدا سکوں کی مجھے دیکھ لے بے قراریاں میری دے مسیحا دوا سکوں کی مجھے
pyaar mein mubtalaa na ho jaaein
پیار میں مبتلا نہ ہو جائیں ہم بھی خود سے جدا نہ ہو جائیں مشکلیں آ رہی ہیں تیر بہ دست دوست شانہ بہ شانہ ہو جائیں ڈر لگا رہتا ہے محبت میں ایک دن بے وفا نہ ہو جائیں پھر سے موسم فگارؔ کہہ رہا ہے اس کی جانب روانہ ہو جائیں
koi divaar uThaai na koi dar rakkhaa
کوئی دیوار اٹھائی نہ کوئی در رکھا اینٹ کو تکیہ کیا ریت کو بستر رکھا پہلے آنکھوں میں ترا عکس اتارا میں نے اور ان آنکھوں کو شیشے میں سجا کر رکھا اس سے تسکین نہیں ہوگا اضافہ دکھ میں دشت کا نام اگر ہم نے سمندر رکھا پھول بھجوائے کبھی شعر کیے نام ترے ہم نے اے شخص تجھے یاد ہے اکثر رکھا درمیاں اپنے فقط روح کی دوری بچی تھی ہم نے پھر بھی ترے پہلو میں نہیں سر رکھا ورنہ ہر اگلا قدم پیچھے ہٹاتا مجھ کو شکر صد شکر کہ کچھ دھیان نہ گھر پر رکھا مشورہ چاہیے تھا کل ترے بارے میں مجھے نہ ملا کوئی تو آئینہ برابر رکھا
'ishq mein mubtalaa kiyaa khud ko
عشق میں مبتلا کیا خود کو خود ہی خود سے جدا کیا خود کو پہلے اس کو بنایا ہے منزل اور پھر راستہ کیا خود کو میں بھی پہچاننے سے قاصر ہوں تم نے آخر یہ کیا کیا خود کو اوڑھ لی پنچھیوں نے خاموشی میں نے جب بے نوا کیا خود کو کھل کے ان اجنبی زمینوں میں اس نے بے ذائقہ کیا خود کو پیش کش پیار کی بھی ٹھکرا دی اور بے آسرا کیا خود کو
ye jaisaa kahte hain vaisaa nahin hai
یہ جیسا کہتے ہیں ویسا نہیں ہے محبت سے تمہیں خطرہ نہیں ہے ہے ناکامی مری یا کامیابی اسے مجھ سے گلہ ہوتا نہیں ہے میں اس کا منتظر ہوں مدتوں سے جسے میری طرف آنا نہیں ہے ہیں زندہ باد امیدیں تمہاری ہمارا دل ابھی بیٹھا نہیں ہے محبت سے نکل آئے تھے اور اب کہیں پر بھی سکوں ملتا نہیں ہے بھلے جیسا روا رکھو رویہ مجھے بس چھوڑ کر جانا نہیں ہے اسی کے پاس بیٹھے رہتے ہیں ہم ہمارے پاس جو ہوتا نہیں ہے فگارؔ اس کو دعائیں دو کہ اس نے کہیں کا بھی تمہیں چھوڑا نہیں ہے
ham na karte the nigah ek badan ki jaanib
ہم نہ کرتے تھے نگہ ایک بدن کی جانب اس لیے دیر سے آئے ہیں سخن کی جانب تیرے قامت کو سلامت سدا اللہ رکھے اب نہیں دیکھتے ہم سرو سمن کی جانب پھول شاخوں سے زمیں پر نہ اتر آئیں کہیں اس کو جاتے ہوئے دیکھا ہے چمن کی جانب یہ تصور ہی تسلی مجھے دیتا ہے فگارؔ چھٹیاں ہوں گی تو جاؤں گا حسن کی جانب





