SHAWORDS
Fasihullah Naqeeb

Fasihullah Naqeeb

Fasihullah Naqeeb

Fasihullah Naqeeb

poet
1Shayari
11Ghazal

Popular Shayari

1 total

Ghazalغزل

See all 11
غزل · Ghazal

اونچے مکان کھا گئے سب میرے گھر کی دھوپ حصہ میں میرے رہ گئی بالشت بھر کی دھوپ کرتا رہوں نگاہ ملا کر میں گفتگو ہر چند چبھ رہی ہو ترے کر و فر کی دھوپ سایہ دریدہ پیرہنی پر خودی کا تھا ریشم سا لمس لائی تھی گو سیم و زر کی دھوپ زرخیزیٔ زمین سخن کے لئے مفید دل کی ہوا شعور کا پانی نظر کی دھوپ دل کے گمان سا کہ دعا کے یقین سا احساس کے لحاف سا لائی کہر کی دھوپ یا تو دماغ و دل کے اندھیروں کو دور کر یا اپنی راہ لے بڑی آئی کدھر کی دھوپ رہیے نقیبؔ ایسی فضا میں کہ ہے جہاں شعر و ادب کی چاندنی علم و ہنر کی دھوپ

unche makaan khaa gae sab mere ghar ki dhuup

غزل · Ghazal

ہیں مزاج آسماں پہ جس تس کے ناز اٹھائیں بھی ہم تو کس کس کے بجلیوں کے سنہری حرفوں میں بادلوں پر ہیں دستخط کس کے آنکھ سے گر چھلک نہیں پاتے دل پہ گرتے ہیں اشک رس رس کے جانے کب ہووے دیدہ ور پیدا دیدے پتھرا گئے ہیں نرگس کے پاؤں چادر میں رہ نہ پائیں گے ہاتھ پھیلے رہیں گے جس جس کے آرزوؤں کے سوکھتے گلبن منتظر یاسیت کی ماچس کے کم سے کم گھر کو گھر تو رہنے دیں رکھیں آفس کو اندر آفس کے عکس دوراں نقیبؔ کی غزلیں سلسلے چند رطب و یابس کے

hain mizaaj aasmaan pe jis-tis ke

غزل · Ghazal

نہ اپنی بات نہ میرا قصور لکھا تھا شکایتوں سے بھرا خط ضرور لکھا تھا رسول آئے تو دہشت گروں کے بیچ آئے اندھیری رات کی قسمت میں نور لکھا تھا میں چاہتا بھی جو ملنا تو ان سے کیا ملتا جبیں پہ دور سے دیکھا غرور لکھا تھا وہ گھر کہ جس میں کسی کو کسی سے انس نہیں بڑے سے بورڈ پہ دارالسرور لکھا تھا نقیبؔ کو تھی فقط سرخیوں سے دلچسپی جو مدعا تھا وہ بین السطور لکھا تھا

na apni baat na meraa qusur likkhaa thaa

غزل · Ghazal

جیسا تم چاہو گے ویسا نہیں ہونے والا ورنہ ہونے کو یہاں کیا نہیں ہونے والا مقتدر ہو تو غریبوں سے جو چاہو لے لو عزت نفس کا سودا نہیں ہونے والا دل یہ کہتا ہے کسی کو بھی نہ لا خاطر میں عقل کہتی ہے کہ اچھا نہیں ہونے والا امن پرچار تلک ٹھیک سہی لیکن امن تم کو لگتا ہے کہ ہوگا نہیں ہونے والا زر کے میزان میں ہر شخص کو کیا تولتے ہو ہر بشر تو سگ دنیا نہیں ہونے والا میرا چہرہ ہے مرے قلب کا عکاس نقیبؔ میرا چہرہ ترا چہرہ نہیں ہونے والا

jaisaa tum chaahoge vaisaa nahin hone vaalaa

غزل · Ghazal

کبھی تو حرف دعا یوں زباں تلک آئے اتر کے جس کی پذیرائی کو فلک آئے کم از کم اتنے تو آئینہ دار ہوں چہرے کہ دل کے حال کی چہرے پہ بھی جھلک آئے تو پھر یہ کون سا رشتہ ہے گر نہ انس کہوں جو اشک میرے تری آنکھ سے چھلک آئے سجا سجا کے جو رکھے تھے صدیوں صدیوں نے وہ خواب خواب مناظر پلک پلک آئے نقیبؔ یوں ترے لہجے میں بے حجاب ہو فن غزل کے دوش سے آنچل ذرا ڈھلک آئے

kabhi to harf-e-duaa yuun zabaan talak aae

غزل · Ghazal

جوں ہی لب کھولتا ہے وہ تو جادو باندھتا ہے حسین الفاظ کے پیروں میں گھنگھرو باندھتا ہے اندھیری شب کے دامن میں دمکتے ہیں ستارے خیال یار جب پلکوں پہ جگنو باندھتا ہے مری پرواز کو مشروط کر کے نیک صیاد قفس گر کھول دیتا ہے تو بازو باندھتا ہے سلگتا کھولتا ماحول اور خشکی غزل کی کہ دل اک آس کا چھپر لب جو باندھتا ہے نقیبؔ اشعار اپنے زندگانی کے سفر میں کوئی زاد سفر میں جیسے ستو باندھتا ہے

junhi lab kholtaa hai vo to jaadu baandhtaa hai

Similar Poets