SHAWORDS
F

Fayyaz Tahseen

Fayyaz tahseen

Fayyaz tahseen

poet
3Sher
3Shayari
3Ghazal

Sherشعر

Popular Sher & Shayari

6 total

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

ab aa gae ho to raftagaan ko bhi yaad rakhnaa

اب آ گئے ہو تو رفتگاں کو بھی یاد رکھنا بچھڑتے لمحوں کی داستاں کو بھی یاد رکھنا زمیں پہ اپنے قدم جما کر نہ بھول جانا سروں پہ ٹھہرے اس آسماں کو بھی یاد رکھنا ہوائے تشنہ کا چھین لینا مکین جاں کو مگر لرزتے ہوئے مکاں کو بھی یاد رکھنا سراب آخر مری ہی آنکھوں کا معجزہ ہے یقیں کی منزل میں اس گماں کو بھی یاد رکھنا اگرچہ خواہش کا عکس لفظوں میں آ گیا ہے جو چشم تر میں ہے اس زباں کو بھی یاد رکھنا تجھے خبر ہے کہ ابتدا بھی ہے انتہا بھی جہان معنی میں درمیاں کو بھی یاد رکھنا کبھی جو عیبوں کے تیر گھائل کریں نظر کو تو خواہشوں کی جھکی کماں کو بھی یاد رکھنا

غزل · Ghazal

tamaashaa phir sar-e-baazaar karnaa

تماشا پھر سر بازار کرنا پھر اپنے عہد سے انکار کرنا یہی ہے مشغلہ کار جنوں میں بنانا پھر اسے مسمار کرنا فریب آرزو ہی زندگی ہے سرابوں میں سفر بے کار کرنا جسے پانے کی خواہش میں جئے تھے اسی کی ذات کا انکار کرنا جزیرے خواہشوں کی راہ میں ہیں مگر لازم سمندر پار کرنا جسے اک عمر کی کاوش سے بھولے اسی کی یاد پر اسرار کرنا دریچوں سے لگی آنکھوں کی صورت کبھی چھپنا کبھی اظہار کرنا ابھی اک آخری سچ بولنا ہے خوشی سے پھر سپرد دار کرنا

غزل · Ghazal

kabhi yaad-e-khudaa kabhi ishq-e-butaan yunhi saari umr ganvaa baiThaa

کبھی یاد خدا کبھی عشق بتاں یوں ہی ساری عمر گنوا بیٹھا اب آخر عمر میں آ کے کھلا نہ تھی یہ سچی نہ تھا وہ سچا کبھی خواہش دنیا لے ڈوبی کبھی خوف خدا نے تنگ کیا اب آ کر بھید کھلا ہم پر نہ تھی یہ اچھی نہ تھا وہ اچھا سر پر گٹھری انگاروں کی اور خواہش پار اترنے کی آگے باریک سا نازک پل اور نیچے آگ کا اک دریا کچھ عقدے ایسے ہوتے ہیں جو نہ ہی کھلیں تو بہتر ہے کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں دل میں چھپا لینا اچھا وہ مرزا اگلے وقتوں کا وہ صاحباں گزرے وقتوں کی جو کرنا تھا وہ کر گزرے جو کہنا تھا وہ کہہ دیکھا اجداد کہیں تم ہل ڈالو اور فصل اگاؤ کرموں کی پیچھے تاریخ کا ہانکا ہے اور آگے بیل ڈرا سہما

Similar Poets