mujh par ba-taur-e-khaas thi us ki nigaah-e-lutf
kahtaa main kis tarah mire dushman mein kuchh na thaa
Fazil Ansari
Fazil Ansari
Fazil Ansari
Popular Shayari
1 totalGhazalغزل
کوہساروں میں نہیں ہے کہ بیاباں میں نہیں باغباں حسن فقط تیرے گلستاں میں نہیں موج دریا کی روانی کہ گھٹاؤں کا خرام کون سی بات تری زلف پریشاں میں نہیں تجھ سے ہو ترک جفا مجھ سے وفائیں چھوٹیں وہ ترے بس میں نہیں یہ مرے امکاں میں نہیں خیر دھندلائی سی تھی روشنیٔ شام خزاں باغباں وہ بھی تو اس صبح بہاراں میں نہیں چھین لے ساقیٔ بے فیض کے ہاتھوں سے سبو رند کیا ایسا کوئی محفل رنداں میں نہیں الجھنوں کا ہو اثر کیوں نہ سکون دل پر ربط کیا ہم نفسو ساحل و طوفاں میں نہیں خندۂ گل ہو کہ ہو گریۂ شبنم فاضلؔ داستاں غم کی نہاں کون سے عنواں میں نہیں
kohsaaron mein nahin hai ki bayaabaan mein nahin
بتا اے زندگی تیرے پرستاروں نے کیا پایا اٹھا کر ناز تیرے ناز برداروں نے کیا پایا وہ کانٹے ہی سہی کچھ تو دیا ہم کو بیاباں نے مگر گلشن سے پھولوں کے طلب گاروں نے کیا پایا ذرا معلوم تو کیجے خرد پر مرنے والوں سے کہ ٹھکرا کر جنوں کو ان زیاں کاروں نے کیا پایا کلیجہ تیرا پھٹ جائے گا واعظ فرط حیرت سے بتا دوں میں اگر تجھ کو گنہ گاروں نے کیا پایا بیاباں غم نہ کر بے فیضیٔ ابر بہاراں کا ترا دامن ہے گر خالی تو گلزاروں نے کیا پایا غم ہستی غم جاناں غم دنیا غم دوراں مٹا کر مجھ کو فاضلؔ ان ستم گاروں نے کیا پایا
bataa ai zindagi tere parastaaron ne kyaa paayaa
ادیب تھا نہ میں کوئی بڑا صحافی تھا زمانہ پھر بھی مرے فن کا اعترافی تھا مجھے بھی زہر دیا کیوں نہ حق بیانی پر کہ یہ گناہ تو نا قابل معافی تھا کسی سے ایک بھی فطرت کا راز کھل نہ سکا اگرچہ دور زمانے کا انکشافی تھا مصیبتوں نے تو ناحق اٹھائیں تکلیفیں مجھے مٹانے کو میرا شباب کافی تھا دل و نظر نہ الجھتے تو حل نکل آتا ہزار مسئلۂ دید اختلافی تھا وہ میری رائے سے تو متفق تھا اے فاضلؔ ظریف کار مگر اس کا انحرافی تھا
adiib thaa na main koi baDaa sahaafi thaa
ہوئی دل ٹوٹنے پر اس طرح دل سے فغاں پیدا کہ جیسے شمع کے بجھنے سے ہوتا ہے دھواں پیدا رہا ثابت قدم یوں ہی اگر عزم سفر اپنا کرے گی خود رہ دشوار ہی آسانیاں پیدا ہر اک تعمیر خود اپنی تباہی ساتھ لاتی ہے نہ گرتی برق گر ہوتی نہ شاخ آشیاں پیدا مری خواہش کہ اک سجدہ مٹا دے نام پیشانی تری خواہش ہو پیشانی پہ سجدوں کا نشاں پیدا وہ جن کی موت پر روتے ہیں برسوں جام و پیمانہ اب ایسے بادہ کش ہوتے ہیں اے ساقی کہاں پیدا ضرورت کیا کریں ہم جستجوے آستاں اے دل سلامت ذوق سجدہ آپ ہوگا آستاں پیدا نظر میں جن کی رنگینی طبیعت میں ہے رعنائی وہ کر لیتے ہیں فاضلؔ دشت میں بھی گلستاں پیدا
hui dil TuTne par is tarah dil se fughaan paidaa
یہ دور کیسا ہے یا الٰہی کہ دوست دشمن سے کم نہیں ہے خلوص ہر رہبر زمانہ فریب رہزن سے کم نہیں ہے ہوا تو ہے بے نقاب کوئی نظر ہے محروم دید پھر بھی نقاب سے ہے سوا تجلی جمال چلمن سے کم نہیں ہے لگا کے خون جگر کا ٹیکا ہے سامنے غم کے سر بہ سجدہ صنم پرستی میں تو بھی اے دل کسی برہمن سے کم نہیں ہے قفس کہ ہے اب مرا ٹھکانہ ضرور ہوگا تباہ اک دن کہ بجلیوں کی نظر میں یہ بھی مرے نشیمن سے کم نہیں ہے مثال خورشید جلوہ گر ہے جگر کا ہر ایک داغ تاباں نظارہ کر میری شام غم کا جو صبح روشن سے کم نہیں ہے یہ خشک بے رنگ خار فاضل مرے لئے ہیں گلوں سے بہتر مری نظر میں مرا بیاباں کسی کے گلشن سے کم نہیں ہے
ye daur kaisaa hai yaa-ilaahi ki dost dushman se kam nahin hai
زمزمۂ آہ و فغاں دور تک گونجتی ہے وادئ جاں دور تک ہائے رے ویرانیٔ راہ حیات کوئی صدا ہے نہ نشاں دور تک مل نہ سکا امن و سکوں کا پتہ ڈھونڈ چکی عمر رواں دور تک شمع طرب جلوہ فگن آس پاس مشعل غم نور فشاں دور تک سمٹے ہوئے امن کے پیغامبر پھیلے ہوئے قاتل جاں دور تک شہر میں دیہات میں ہر راہ میں خون کی اک جوئے رواں دور تک پوچھ نہ فاضلؔ مری دنیا کا رنگ آگ ہر اک سمت دھواں دور تک
zamzama-e-aah-o-fughaan duur tak





