"tamam umr jo hansta hi rah gaya yaaro bala ka dard tha us shakhs ki kahani men"

Firdaus Gayavi
Firdaus Gayavi
Firdaus Gayavi
Sherشعر
tamam umr jo hansta hi rah gaya yaaro
تمام عمر جو ہنستا ہی رہ گیا یارو بلا کا درد تھا اس شخص کی کہانی میں
ilm ki ibtida hai hangama
علم کی ابتدا ہے ہنگامہ علم کی انتہا ہے خاموشی
tum ko aana hai to aa jaao isi aalam men
تم کو آنا ہے تو آ جاؤ اسی عالم میں بگڑے حالات غریبوں کے سنورتے ہیں کہیں
main ek sang huun mujh men hain suraten pinhan
میں ایک سنگ ہوں مجھ میں ہیں صورتیں پنہاں مجھے تراشنے آذر تو سامنے آئے
vahi jo deta hai duniya ko uljhanon se najat
وہی جو دیتا ہے دنیا کو الجھنوں سے نجات کبھی کبھی وہی الجھن میں ڈال دیتا ہے
Popular Sher & Shayari
10 total"ilm ki ibtida hai hangama ilm ki intiha hai khamoshi"
"tum ko aana hai to aa jaao isi aalam men bigDe halat gharibon ke sanvarte hain kahin"
"main ek sang huun mujh men hain suraten pinhan mujhe tarashne aazar to samne aa.e"
"vahi jo deta hai duniya ko uljhanon se najat kabhi kabhi vahi uljhan men Daal deta hai"
ilm ki ibtidaa hai hangaama
ilm ki intihaa hai khaamoshi
vahi jo detaa hai duniyaa ko uljhanon se najaat
kabhi kabhi vahi uljhan mein Daal detaa hai
tamaam umr jo hanstaa hi rah gayaa yaaro
balaa kaa dard thaa us shakhs ki kahaani mein
main ek sang huun mujh mein hain suratein pinhaan
mujhe taraashne aazar to saamne aae
tum ko aanaa hai to aa jaao isi aalam mein
bigDe haalaat gharibon ke sanvarte hain kahin
Ghazalغزل
ye sach nahin ki tamaazat se Dar gai hai nadi
یہ سچ نہیں کہ تمازت سے ڈر گئی ہے ندی سکون دل کے لیے اپنے گھر گئی ہے ندی ابھی تو پہنے ہوئی تھی لباس خاموشی یہ کیا ہوا کہ اچانک بپھر گئی ہے ندی ہمیں یہ ڈر ہے کہ پھر سے بپھر نہ جائے کہیں قدم بڑھاؤ کہ اس وقت اتر گئی ہے ندی وہ شخص تڑپا نہ چلایا اور مر بھی گیا پتا چلا نہیں کب وار کر گئی ہے ندی نہیں ملی جو رفاقت کسی سمندر کی تو ریزہ ریزہ سی ہو کر بکھر گئی ہے ندی نہ جانے آج تو اتنی ملول سی کیوں ہے یہ کیا ہوا کہ تری آنکھ بھر گئی ہے ندی سنا سنا کے غموں کی کہانیاں فردوسؔ مجھے تو اور بھی غمگین کر گئی ہے ندی
hamein achchhi nahin lagti zamaane ki koi khushbu
ہمیں اچھی نہیں لگتی زمانے کی کوئی خوشبو ہمارے دل میں جب سے بس گئی ہے آپ کی خوشبو تیرے حصے کی چیزیں میں کسی کو دے نہیں سکتا تری خاطر ہی رکھ چھوڑی ہے میں نے چاندنی خوشبو تمہارے واسطے شاعر غزل کی بات کرتے ہیں تمہارے دم سے دیتی ہے جہاں میں شاعری خوشبو کوئی پوچھے تو بس یہ کہہ کے تم خاموش ہو جانا محبت پھول ہے اور آفتاب آگہی خوشبو تمہارے اور میرے درمیاں تفریق اب بھی ہے تمہاری زندگی زہر اور میری زندگی خوشبو ہمارے شہر میں سب نفرتوں کے بیج بوتے ہیں بس اک فردوسؔ ہے جو بانٹتا ہے پیار کی خوشبو
umiid ki koi chaadar to saamne aae
امید کی کوئی چادر تو سامنے آئے میں رک بھی جاؤں ترا گھر تو سامنے آئے میں راہ عشق میں خود کو فنا بھی کر دوں گا مرے حبیب وہ منظر تو سامنے آئے ہمارے بازو کا دنیا کمال دیکھے گی عدو کا کوئی بھی لشکر تو سامنے آئے میں احترام سے دستار اس کے سر باندھوں وہ فن شناس سخنور تو سامنے آئے کروں گا عمر بھر اس پر میں پیار کی بارش وہ خوش جمال سا پیکر تو سامنے آئے سر نیاز جھکے گا خود اس کے قدموں میں وہ لے کے ہاتھ میں خنجر تو سامنے آئے میں ایک سنگ ہوں مجھ میں ہیں صورتیں پنہاں مجھے تراشنے آذر تو سامنے آئے فدائے عشق ہوں مرنے کا ڈر نہیں فردوسؔ مجھے ڈبونے سمندر تو سامنے آئے
ahl-e-khirad ko ahl-e-nazar kaa pata chalaa
اہل خرد کو اہل نظر کا پتہ چلا نکلے تو کتنے شمس و قمر کا پتہ چلا سمجھے تھے ہم کہ سہل ہے یہ جادۂ حیات آگے بڑھے تو سخت ڈگر کا پتہ چلا اب تک مری نگاہ میں پایاب تھی ندی جب ڈوبنے لگے تو بھنور کا پتہ چلا نکلے تھے ہم تو شہر تھا گنجان دور تک لوٹے تو پھر کسی کے نہ گھر کا پتہ چلا شہرت ہماری پھیل گئی ہے جہان میں مدت کے بعد اپنے ہنر کا پتہ چلا فردوسؔ دھوپ دھوپ چلا زندگی کی راہ اس کو نہ سایہ دار شجر کا پتہ چلا
na mein yaqin mein rakhkhun na to gumaan mein rakh
نہ میں یقین میں رکھوں نہ تو گمان میں رکھ ہے سب کی بات تو پھر سب کے درمیان میں رکھ وہ دھوپ میں جو رہے گا تو روپ کھو دے گا چھپا لے سینے میں پلکوں کے سائبان میں رکھ مرے بدن کو تو اپنے بدن کی آنچ نہ دے جو ہو سکے تو مری جان اپنی جان میں رکھ نہ بیٹھنے دے کبھی عزم کے پرندے کو اڑان بھول نہ جائے سدا اڑان میں رکھ محبتیں نہیں ملتیں محبتوں کے بغیر اسے نہ بھول تو فردوسؔ اپنے دھیان میں رکھ
khushk honTon pe kuchh nami rakh do
خشک ہونٹوں پہ کچھ نمی رکھ دو طاق پر پھول بھی کوئی رکھ دو ناگ بن کر نہ روشنی ڈس لے میرے کمرے میں تیرگی رکھ دو رات تاریک راہ نا معلوم اپنی یادوں کی روشنی رکھ دو جب بھی ٹوٹے تعلقات کی ڈور اپنی باتوں کی سادگی رکھ دو شہر سے کل وہ آنے والا ہے اس کی خاطر بھی چاندنی رکھ دو جتنے غم ہیں سمیٹ لو فردوسؔ اور اس کے لیے خوشی رکھ دو





