SHAWORDS
Firdaus Gayavi

Firdaus Gayavi

Firdaus Gayavi

Firdaus Gayavi

poet
5Sher
5Shayari
19Ghazal

Sherشعر

Popular Sher & Shayari

10 total

Ghazalغزل

See all 19
غزل · Ghazal

ye sach nahin ki tamaazat se Dar gai hai nadi

یہ سچ نہیں کہ تمازت سے ڈر گئی ہے ندی سکون دل کے لیے اپنے گھر گئی ہے ندی ابھی تو پہنے ہوئی تھی لباس خاموشی یہ کیا ہوا کہ اچانک بپھر گئی ہے ندی ہمیں یہ ڈر ہے کہ پھر سے بپھر نہ جائے کہیں قدم بڑھاؤ کہ اس وقت اتر گئی ہے ندی وہ شخص تڑپا نہ چلایا اور مر بھی گیا پتا چلا نہیں کب وار کر گئی ہے ندی نہیں ملی جو رفاقت کسی سمندر کی تو ریزہ ریزہ سی ہو کر بکھر گئی ہے ندی نہ جانے آج تو اتنی ملول سی کیوں ہے یہ کیا ہوا کہ تری آنکھ بھر گئی ہے ندی سنا سنا کے غموں کی کہانیاں فردوسؔ مجھے تو اور بھی غمگین کر گئی ہے ندی

غزل · Ghazal

hamein achchhi nahin lagti zamaane ki koi khushbu

ہمیں اچھی نہیں لگتی زمانے کی کوئی خوشبو ہمارے دل میں جب سے بس گئی ہے آپ کی خوشبو تیرے حصے کی چیزیں میں کسی کو دے نہیں سکتا تری خاطر ہی رکھ چھوڑی ہے میں نے چاندنی خوشبو تمہارے واسطے شاعر غزل کی بات کرتے ہیں تمہارے دم سے دیتی ہے جہاں میں شاعری خوشبو کوئی پوچھے تو بس یہ کہہ کے تم خاموش ہو جانا محبت پھول ہے اور آفتاب آگہی خوشبو تمہارے اور میرے درمیاں تفریق اب بھی ہے تمہاری زندگی زہر اور میری زندگی خوشبو ہمارے شہر میں سب نفرتوں کے بیج بوتے ہیں بس اک فردوسؔ ہے جو بانٹتا ہے پیار کی خوشبو

غزل · Ghazal

umiid ki koi chaadar to saamne aae

امید کی کوئی چادر تو سامنے آئے میں رک بھی جاؤں ترا گھر تو سامنے آئے میں راہ عشق میں خود کو فنا بھی کر دوں گا مرے حبیب وہ منظر تو سامنے آئے ہمارے بازو کا دنیا کمال دیکھے گی عدو کا کوئی بھی لشکر تو سامنے آئے میں احترام سے دستار اس کے سر باندھوں وہ فن شناس سخنور تو سامنے آئے کروں گا عمر بھر اس پر میں پیار کی بارش وہ خوش جمال سا پیکر تو سامنے آئے سر نیاز جھکے گا خود اس کے قدموں میں وہ لے کے ہاتھ میں خنجر تو سامنے آئے میں ایک سنگ ہوں مجھ میں ہیں صورتیں پنہاں مجھے تراشنے آذر تو سامنے آئے فدائے عشق ہوں مرنے کا ڈر نہیں فردوسؔ مجھے ڈبونے سمندر تو سامنے آئے

غزل · Ghazal

ahl-e-khirad ko ahl-e-nazar kaa pata chalaa

اہل خرد کو اہل نظر کا پتہ چلا نکلے تو کتنے شمس و قمر کا پتہ چلا سمجھے تھے ہم کہ سہل ہے یہ جادۂ حیات آگے بڑھے تو سخت ڈگر کا پتہ چلا اب تک مری نگاہ میں پایاب تھی ندی جب ڈوبنے لگے تو بھنور کا پتہ چلا نکلے تھے ہم تو شہر تھا گنجان دور تک لوٹے تو پھر کسی کے نہ گھر کا پتہ چلا شہرت ہماری پھیل گئی ہے جہان میں مدت کے بعد اپنے ہنر کا پتہ چلا فردوسؔ دھوپ دھوپ چلا زندگی کی راہ اس کو نہ سایہ دار شجر کا پتہ چلا

غزل · Ghazal

na mein yaqin mein rakhkhun na to gumaan mein rakh

نہ میں یقین میں رکھوں نہ تو گمان میں رکھ ہے سب کی بات تو پھر سب کے درمیان میں رکھ وہ دھوپ میں جو رہے گا تو روپ کھو دے گا چھپا لے سینے میں پلکوں کے سائبان میں رکھ مرے بدن کو تو اپنے بدن کی آنچ نہ دے جو ہو سکے تو مری جان اپنی جان میں رکھ نہ بیٹھنے دے کبھی عزم کے پرندے کو اڑان بھول نہ جائے سدا اڑان میں رکھ محبتیں نہیں ملتیں محبتوں کے بغیر اسے نہ بھول تو فردوسؔ اپنے دھیان میں رکھ

غزل · Ghazal

khushk honTon pe kuchh nami rakh do

خشک ہونٹوں پہ کچھ نمی رکھ دو طاق پر پھول بھی کوئی رکھ دو ناگ بن کر نہ روشنی ڈس لے میرے کمرے میں تیرگی رکھ دو رات تاریک راہ نا معلوم اپنی یادوں کی روشنی رکھ دو جب بھی ٹوٹے تعلقات کی ڈور اپنی باتوں کی سادگی رکھ دو شہر سے کل وہ آنے والا ہے اس کی خاطر بھی چاندنی رکھ دو جتنے غم ہیں سمیٹ لو فردوسؔ اور اس کے لیے خوشی رکھ دو

Similar Poets