"ashk mayus savali ki tarah lauT ga.e vo mila bhi to mulaqat ne rone na diya"

G R Kanwal
G R Kanwal
G R Kanwal
Sherشعر
Popular Sher & Shayari
4 total"din ko fursat na mili ashk bahane ki kabhi raat aa.i to mujhe raat ne rone na diya"
ashk maayus savaali ki tarah lauT gae
vo milaa bhi to mulaaqaat ne rone na diyaa
din ko fursat na mili ashk bahaane ki kabhi
raat aai to mujhe raat ne rone na diyaa
Ghazalغزل
ghar nahin rahguzar mein rahtaa hai
گھر نہیں رہ گزر میں رہتا ہے پاؤں میرا سفر میں رہتا ہے وہ چلا جائے تو بھی پہروں تک اس کا چہرہ نظر میں رہتا ہے جا چکا ہے جو بزم ہستی سے وہ بھی دیوار و در میں رہتا ہے چارہ گر کا کرم تو ہے پھر بھی درد ہی درد سر میں رہتا ہے جس نے تشکیل کی ہے میری کنولؔ میرے قلب و جگر میں رہتا ہے
pahle ahbaab ki kahaani likh
پہلے احباب کی کہانی لکھ پھر ہر اک لفظ کے معانی لکھ کیوں ترے اپنے غم گساروں سے زخم خوردہ ہے زندگانی لکھ خوبیاں لکھ شراب کی لیکن روح افزا ہے صرف پانی لکھ دیکھ کر بحر و بر کے ہنگامے کوئی دلچسپ سی کہانی لکھ دل کے صحرا میں گرم اشکوں سے کیسے ہوتی ہے باغبانی لکھ حرف اول سے لکھ کے نام خدا دل کی تختی پہ حرف ثانی لکھ وصل کی شام کے ورق پہ کنولؔ شادمانی ہی شادمانی لکھ
daricha ho ki dar uljhaa huaa hai
دریچہ ہو کہ در الجھا ہوا ہے مرا تو گھر کا گھر الجھا ہوا ہے بدن کے پیچ و خم تو جھیل لیتے قیامت ہے کہ سر الجھا ہوا بڑی سیدھی ہے چاہت منزلوں کی مگر ذوق سفر الجھا ہوا ہے نہ جانے کیا ہوا ہے آدمی کو جدھر دیکھو ادھر الجھا ہوا ہے کنولؔ کٹتا ہے میرا وقت جس میں وہ دفتر بیشتر الجھا ہوا ہے
jis ki buniyaad ho javaani par
جس کی بنیاد ہو جوانی پر دیر لگتی ہے اس کہانی پر آج پھر ڈوبنے کا خدشہ ہے آج دریا ہے پھر روانی پر جانے کیا سوچ کر ہواؤں نے لکھ دیا نام میرا پانی پر عکس اپنا اسے بھی اچھا لگا خوش ہوا میں بھی نقش ثانی پر جی بھی تھا اس کے ساتھ چلنے کا شک بھی تھا اس کی پاسبانی پر کوئی سلطان ہو سکا نہ کنولؔ حکمراں دل کی راجدھانی پر
vo sitamgar jidhar gayaa hogaa
وہ ستم گر جدھر گیا ہوگا اک زمانہ ادھر گیا ہوگا آنے والا زمیں پہ آتا تھا جانے والا کدھر گیا ہوگا گاہے گاہے تو خود سمندر بھی اپنی لہروں سے ڈر گیا ہوگا چارہ گر بے سبب نہیں روتا کوئی بیمار مر گیا ہوگا جس پہ غم کی نظر پڑی ہوگی اس کا چہرہ نکھر گیا ہوگا دل جو بگڑا ہوا تھا مدت سے چوٹ کھا کر سنور گیا ہوگا میرا دشمن کنولؔ پس پردہ جو بھی کرنا تھا کر گیا ہوگا
dikhaa ke apni hasin aan-baan pal bhar mein
دکھا کے اپنی حسیں آن بان پل بھر میں وہ دور کر گیا میری تھکان پل بھر میں بغیر آگ لگائے بھی کچھ حسینوں نے جلا دئے ہیں کئی جسم و جان پل بھر میں تمام لوگ اسی ڈر میں مر رہے ہیں یہاں بچھڑ نہ جائیں زمیں آسمان پل بھر میں نماز عشق بھی پڑھتا وہ کاش رک جاتا جو دے گیا مرے دل میں اذان پل بھر میں وہ بے زبان تھا لیکن یہ واقعہ ہے کنولؔ سنا گیا ہے کوئی داستان پل بھر میں





