"a.ina-khane se daman ko bacha kar guzro a.ina TuuTa to rezon men bikhar jaoge"

Gulam Jilani Asghar
Gulam jilani Asghar
Gulam jilani Asghar
Sherشعر
Popular Sher & Shayari
2 totalaaina-khaane se daaman ko bachaa kar guzro
aaina TuuTaa to rezon mein bikhar jaaoge
Ghazalغزل
kitne dariyaa is nagar se bah gae
کتنے دریا اس نگر سے بہہ گئے دل کے صحرا خشک پھر بھی رہ گئے آج تک گم سم کھڑی ہیں شہر میں جانے دیواروں سے تم کیا کہہ گئے ایک تو ہے بات بھی سنتا نہیں ایک ہم ہیں تیرا غم بھی سہہ گئے تجھ سے جگ بیتی کی سب باتیں کہیں کچھ سخن نا گفتنی بھی رہ گئے تیری میری چاہتوں کے نام پر لوگ کہنے کو بہت کچھ کہہ گئے
vo meraa un kaa ta'alluq jo rasm-o-raah kaa thaa
وہ میرا ان کا تعلق جو رسم و راہ کا تھا بس اس میں سارا سلیقہ مرے نباہ کا تھا تجھے قریب سے دیکھا تو دل نے سوچا ہے کہ تیرا حسن بھی اک زاویہ نگاہ کا تھا تجھے تراش کے دل میں سجا لیا میں نے قصور اس میں مری رفعت نگاہ کا تھا ملے تھے حضرت واعظ بھی تیرے کوچے میں ذرا سا ان سے مرا اختلاف راہ کا تھا تری جفا کا خدا سلسلہ دراز کرے کہ اس سے اپنا تعلق بھی گاہ گاہ کا تھا
mausam-e-gul mein agar shaakh se TuuTe hote
موسم گل میں اگر شاخ سے ٹوٹے ہوتے کچھ شگوفے بھی اسی شاخ سے پھوٹے ہوتے دل بڑا سخت تھا ہر سنگ بلا جھیل گیا ورنہ ہم شدت احساس سے ٹوٹے ہوتے تم نے جانا تھا تو پہلے ہی جدا ہو جاتے اس طرح روز کے مرنے سے تو چھوٹے ہوتے ہونٹ چپ چاپ سہی آنکھ ہی کچھ کہہ جاتی روٹھنے والے سلیقے سے تو روٹھے ہوتے میں ترے کانوں کے آویزوں میں جدت بھرتا کچھ ستارے جو سر عرش سے ٹوٹے ہوتے ہم نے ہنس ہنس کے بھرم اہل وفا کا رکھا ہم بھی رو دیتے اگر عشق میں جھوٹے ہوتے
kuchh tumhaari anjuman mein aise divaane bhi the
کچھ تمہاری انجمن میں ایسے دیوانے بھی تھے جو بکار خویش دیوانے بھی فرزانے بھی تھے یوں تو ہر صورت پہ تھا بیگانگی کا شائبہ ان میں کچھ ایسے بھی تھے جو جانے پہچانے بھی تھے سب بہ توفیق مروت دوستی کرتے رہے لوگ کیا کرتے کہ خود ان کے صنم خانے بھی تھے تو نے اپنی آگہی کے ظرف سے جانچا مجھے آگہی نا آگہی کے اور پیمانے بھی تھے دل کے جانے کا بہ ہر صورت بہت صدمہ ہوا اس سے وابستہ کئی لوگوں کے افسانے بھی تھے
tu ang ang mein khushbu si ban gayaa hogaa
تو انگ انگ میں خوشبو سی بن گیا ہوگا میں سوچتا ہوں کہ تجھ سے گریز کیا ہوگا تمام رات مرے دل سے آنچ آتی رہی کہیں قریب کوئی شہر جل رہا ہوگا تو میرے ساتھ بھی رہ کر مرے قریب نہ تھا اب اس سے اور فزوں فاصلہ بھی کیا ہوگا مجھے خود اپنی وفا پر بھی اعتماد نہیں کبھی تو تو بھی مری طرح سوچتا ہوگا کبھی تو سنگ ملامت کہیں سے آئے گا کوئی تو شہر میں اپنا بھی آشنا ہوگا ذرا سی بات پہ کیا دوستوں کے منہ آئیں غریب دل تھا مروت میں جل بجھا ہوگا
tu sarhad-e-khayaal se aage guzar gayaa
تو سرحد خیال سے آگے گزر گیا میں تیری جستجو میں بحد نظر گیا دل کو کریدنے سے مری جان فائدہ اک زخم تھا کہ وقت کی آندھی سے بھر گیا ساحل تمام عمر یوں ہی تشنہ لب رہا سیلاب کتنی بار یہاں سے گزر گیا عمر گریز پا کو کہاں ڈھونڈنے چلیں وہ نقش لوح وقت سے کب کا اتر گیا





