yuun to ab bhi hai vahi ranj vahi mahrumi
vo jo ik teri taraf se thaa ishaaraa na rahaa

Habeeb Ashar Dehlavi
Habeeb Ashar Dehlavi
Habeeb Ashar Dehlavi
Popular Shayari
2 totalsabr ai dil ki ye haalat nahin dekhi jaati
Thahr ai dard ki ab zabt kaa yaaraa na rahaa
Ghazalغزل
جو مرے دل میں آہ ہو کے رہی وہ نظر بے پناہ ہو کے رہی میں ہوں اور تہمت زبونیٔ دل بے گناہی گناہ ہو کے رہی خلش دل پہ کچھ بھروسا تھا وہ بھی تیری نگاہ ہو کے رہی دل کی عشرت پسندیاں توبہ ہر تمنا گناہ ہو کے رہی
jo mire dil mein aah ho ke rahi
یہ کیف کیف محبت ہے کوئی کیا جانے چھلک رہے ہیں نگاہوں میں دل کے پیمانے کہانیوں ہی پہ بنیاد ہے حقیقت کی حقیقتوں ہی سے پیدا ہوئے ہیں افسانے نہ اب وہ آتش نمرود ہے نہ شعلۂ طور تری نگاہ کو کیا ہو گیا خدا جانے ہزار تیری محبت نے رہنمائی کی گزر سکے نہ مقام جنوں سے دیوانے انہی کو حاصل یک شہر آرزو کہیے مری نگاہ میں آباد ہیں جو ویرانے تجھے خبر بھی ہے اس دور خستہ حالی میں خود اہل دل ہیں مذاق وفا سے بیگانے جنوں فریب خرد ہے خرد فریب نظر مجھے کہیں کا نہ رکھا مری تمنا نے
ye kaif kaif-e-mohabbat hai koi kyaa jaane
طور بے طور ہوئے جاتے ہیں اب وہ کچھ اور ہوئے جاتے ہیں چھلکی پڑتی ہے نگاہ ساقی دور پر دور ہوئے جاتے ہیں تو نہ گھبرا کہ ترے دیوانے خوگر جور ہوئے جاتے ہیں عشق کے مسئلہ ہائے سادہ قابل غور ہوئے جاتے ہیں
taur be-taur hue jaate hain
موج انفاس بھی اک تیغ رواں ہو جیسے زندگی کار گہ شیشہ گراں ہو جیسے دل پہ یوں عکس فگن ہے کوئی بھولی ہوئی یاد سر کہسار دھندلکے کا سماں ہو جیسے حاصل عمر وفا ہے بس اک احساس یقیں وہ بھی پروردۂ آغوش گماں ہو جیسے مجھ سے وہ آنکھ چراتا ہے تو یوں لگتا ہے ساری دنیا مری جانب نگراں ہو جیسے آج اشعرؔ سے سر راہ ملاقات ہوئی کوئی درماندۂ دل شعلہ بجاں ہو جیسے
mauj-e-anfaas bhi ik tegh-e-ravaan ho jaise
پہلو میں اک نئی سی خلش پا رہا ہوں میں اس وقت غالباً انہیں یاد آ رہا ہوں میں کیا چشم التفات کا مطلب سمجھ گیا کیوں ترک آرزو کی قسم کھا رہا ہوں میں کیا کچھ نہ تھی شکایت کوتاہیٔ نظر اب وسعت نگاہ سے گھبرا رہا ہوں میں تو یہ سمجھ رہا ہے کہ مجبور عشق ہوں کچھ سوچ کر فریب وفا کھا رہا ہوں میں
pahlu mein ik nai si khalish paa rahaa huun main
بے نیازی سے مدارات سے ڈر لگتا ہے جانے کیا بات ہے ہر بات سے ڈر لگتا ہے ساغر بادۂ گل رنگ تو کچھ دور نہیں نگہ پیر خرابات سے ڈر لگتا ہے دل پہ کھائی ہوئی اک چوٹ ابھر آتی ہے تیرے دیوانے کو برسات سے ڈر لگتا ہے اے دل افسانۂ آغاز وفا رہنے دے مجھ کو بیتے ہوئے لمحات سے ڈر لگتا ہے ہاتھ سے ضبط کا دامن نہ کہیں چھٹ جائے آپ کی پرسش حالات سے ڈر لگتا ہے میں جو اس بزم میں جاتا نہیں اشعرؔ مجھ کو اپنے سہمے ہوئے جذبات سے ڈر لگتا ہے
be-niyaazi se mudaaraat se Dar lagtaa hai





