khaar ko to zabaan-e-gul bakhshi
gul ko lekin zabaan-e-khaar hi di

Habib Tanvir
Habib Tanvir
Habib Tanvir
Popular Shayari
2 totalmain nahin jaa paaungaa yaaro su-e-gulzaar abhi
dekhni hai aab-ju-e-zist ki raftaar abhi
Ghazalغزل
خلش و سوز دل فگار ہی دی دل میں شمشیر آب دار ہی دی بے وفا سے معاملے کے لیے اک طبیعت وفا شعار ہی دی کیفیت دل کی بیان کرنے کو ایک آواز دل فگار ہی دی خار کو تو زبان گل بخشی گل کو لیکن زبان خار ہی دی دل شب زندہ دار ہم کو دیا حسن کو چشم پر خمار ہی دی خود رقیبوں کے واسطے میں نے زلف معشوق کی سنوار ہی دی کیا نشیب و فراز تھی تنویرؔ زندگی آپ نے گزار ہی دی
khalish-o-soz dil-figaar hi di
بے محل ہے گفتگو ہیں بے اثر اشعار ابھی زندگی بے لطف ہے نا پختہ ہیں افکار ابھی پوچھتے رہتے ہیں غیروں سے ابھی تک میرا حال آپ تک پہنچے نہیں شاید مرے اشعار ابھی زندگی گزری ابھی اس آگ کے گرداب میں دل سے کیوں جانے لگی حرص لب و رخسار ابھی ہاں یہ سچ ہے سر بسر کھوئے گئے ہیں عقل و ہوش دل میں دھڑکن ہے ابھی دل تو ہے خود مختار ابھی کیوں نہ کر لوں اور ابھی سیر بہار لالہ زار میں نہیں محسوس کرتا ہوں نحیف و زار ابھی
be-mahal hai guftugu hain be-asar ashaar abhi
میں نہیں جا پاؤں گا یارو سوئے گلزار ابھی دیکھنی ہے آبجوئے زیست کی رفتار ابھی کر چکا ہوں پار یہ دریا نہ جانے کتنی بار پار یہ دریا کروں گا اور کتنی بار ابھی گھوم پھر کر دشت و صحرا پھر وہیں لے آئے پاؤں دل نہیں ہے شاید اس نظارے سے بے زار ابھی کاوش پیہم ابھی یہ سلسلہ رکنے نہ پائے جان ابھی آنکھوں میں ہے اور پاؤں میں رفتار ابھی اے مرے ارمان دل بس اک ذرا کچھ اور صبر رات ابھی کٹنے کو ہے ملنے کو بھی ہے یار ابھی جذبۂ دل دیکھنا بھٹکا نہ دینا راہ سے منتظر ہوگا مرا بھی خود مرا دل دار ابھی ہوں گی تو اس رہگزر میں بھی کمیں گاہیں ہزار پھر بھی یہ بار سفر کیوں ہو مجھے دشوار ابھی
main nahin jaa paaungaa yaaro su-e-gulzaar abhi





