SHAWORDS
Haleem Sabir

Haleem Sabir

Haleem Sabir

Haleem Sabir

poet
1Shayari
7Ghazal

Popular Shayari

1 total

Ghazalغزل

See all 7
غزل · Ghazal

مجھے بے خانما کر کے پشیماں وہ نہ یوں ہوتا اگر میری تباہی سے اسے حاصل سکوں ہوتا مجھے آسودگی بخشی تھی میری خستہ حالی نے مرے ہونٹوں پہ کیوں کر شکوۂ حال زبوں ہوتا در منعم پہ جھک کر سرفرازی ہوتی جو حاصل میں ایسی سرفرازی کے لئے کیوں سرنگوں ہوتا خرد کے سامنے ہوتی نہ رسوائی کبھی اس کی اگر جوش جنوں واقف بہ آداب جنوں ہوتا وہی ہو کے رہا آخر جو ہونا تھا مرے حق میں اب اس پر رنج کیا کرنا کہ یوں ہوتا نہ یوں ہوتا اگر میں ساحر فن ہوتا اپنے عہد کا صابر اثر انداز لوگوں پر مرے فن کا فسوں ہوتا

mujhe be-khaanmaa kar ke pashemaan vo na yuun hotaa

غزل · Ghazal

اہل حق بھی آ گئے اب ان کی محفل کے قریب مصلحت کوشی انہیں لے آئی باطل کے قریب سر سے اونچا ہو جہاں پانی وہیں ہے ڈوبنا اب کوئی منجدھار میں ڈوبے کہ ساحل کے قریب سخت مشکل سے بھی ہم پہنچے نہ آسانی کے پاس کتنی آسانی سے پہنچے لوگ مشکل کے قریب اس گھڑی ثابت قدم رہنا بڑا دشوار ہے ڈگمگاتے ہیں قدم جب آ کے منزل کے قریب سامنے مقتول کے جو کر رہے تھے احتجاج ہو گئے گونگے سبھی جب آئے قاتل کے قریب ان کی یادوں سے نہ ہم غافل رہے صابرؔ کبھی وہ نظر سے دور رہ کر بھی رہے دل کے قریب

ahl-e-haq bhi aa gae ab un ki mahfil ke qarib

غزل · Ghazal

دل تونگر کا ہو کہ مفلس کا عشق پر اختیار ہے کس کا رشتے ناطے تو نام کے ہیں بس اس زمانے میں کون ہے کس کا پاؤں اس کے بھی تو زمیں پر ہیں آسماں پر دماغ ہے جس کا قبل از وقت کرتی ہے محسوس تجربہ تیز ہے چھٹی حس کا عیب دیکھیں گے لوگ بولیں گے بند منہ کیجئے گا کس کس کا آنے والا سلام کرتا ہے ہے یہ صابرؔ اصول مجلس کا

dil tavangar kaa ho ki muflis kaa

غزل · Ghazal

شہرتیں اوروں نے پائیں نام اوروں کو ملا کام تو ہم نے کیا انعام اوروں کو ملا فصل جو میں نے اگائی کر کے محنت رات دن جب بکی وہ فصل میری دام اوروں کو ملا میرے پرکھوں نے لگائے پیڑ جو میرے لئے ان کی ٹھنڈی چھاؤں میں آرام اوروں کو ملا میرے حصے میں سلگتی دوپہر کی دھوپ تھی زندگی کا لطف صبح و شام اوروں کو ملا تھی ہماری حیثیت اس شہر میں معمار کی ہم نے چھت تعمیر کی آرام اوروں کو ملا ہم بھی پیاسے تھے مگر منہ دیکھتے ہی رہ گئے دست ساقی سے چھلکتا جام اوروں کو ملا مجھ کو صابرؔ ہر قدم پر راہ میں کانٹے ملے پھولوں سے آراستہ ہر گام اوروں کو ملا

shohratein auron ne paain naam auron ko milaa

غزل · Ghazal

یہ لوگ ہیں کیسے کہ جنہیں غم نہیں ہوتا مر جائے اگر کوئی تو ماتم نہیں ہوتا ہر درد کی قسمت میں دوا بھی نہیں ہوتی ہر زخم کی تقدیر میں مرہم نہیں ہوتا ہو جاتا ہے شادابیٔ رخسار سے محروم وہ پھول جو آسودۂ شبنم نہیں ہوتا اظہار تمنا کی کوئی رت نہیں ہوتی اقرار وفا کا کوئی موسم نہیں ہوتا ہر در پہ جو جھک جائے اسے سر نہیں کہتے سر وہ ہے کہ جو وار پہ بھی خم نہیں ہوتا یہ درد محبت بھی عجب درد ہے صابرؔ بڑھتا ہے تو بڑھتا ہے کبھی کم نہیں ہوتا

ye log hain kaise ki jinhein gham nahin hotaa

غزل · Ghazal

میں بدلتے ہوئے حالات پہ اکثر رویا دیکھ کر شہر کا بدلا ہوا منظر رویا چپ ہوا رو کے جو پھر رویا مکرر رویا رو کے جب جی نہ بھرا میرا تو جی بھر رویا جیسے تیسے مجھے رونا کبھی آیا ہی نہیں جب بھی رویا میں بہت سوچ سمجھ کر رویا منحصر تھا مرا رونا بھی مری مرضی پر چند لمحے کبھی رویا کبھی دن بھر رویا مجھ کو رونے کا ہنر آ گیا روتے روتے رونے والوں سے بہ ہر طور میں بہتر رویا میرے رونے کا بھی انداز عجب تھا صابرؔ روتے روتے جو ہنسی آئی تو ہنس کر رویا

main badalte hue haalaat pe aksar royaa

Similar Poets