SHAWORDS
Hayat Warsi

Hayat Warsi

Hayat Warsi

Hayat Warsi

poet
2Shayari
16Ghazal

Popular Shayari

2 total

Ghazalغزل

See all 16
غزل · Ghazal

الجھن میں اجالا ہے حیرت میں اندھیرا ہے دنیا ترے آنگن میں یہ کیسا سویرا ہے صدیوں سے ہے روز و شب چہروں کا سفر جاری لمحات کا آئینہ تیرا ہے نہ میرا ہے فطرت نے عطا کی ہے یہ بے سر و سامانی دل خانہ بدوشوں کا اجڑا ہوا ڈیرا ہے سانسوں سے سبک ہو کر بڑھ جاتے ہیں ہم آگے یہ پیکر خاکی تو اک رین بسیرا ہے کرنیں غم دوراں کی تھک جاتی ہیں رستے میں سایہ تری یادوں کا اس درجہ گھنیرا ہے سرمایہ اصولوں کا رکھ گھر میں حیاتؔ اپنے ہر گام یہاں رہزن ہر موڑ لٹیرا ہے

uljhan mein ujaalaa hai hairat mein andheraa hai

غزل · Ghazal

آہ بیگانۂ اثر تو نہیں وہ بھی اب مجھ سے بے خبر تو نہیں سونی سونی پڑی ہے بزم جمال منتظر سب ہیں منتظر تو نہیں راستے کر رہے ہیں سرگوشی جذبہ پابند راہبر تو نہیں کاٹ دیں اک امید فردا پر زندگی اتنی مختصر تو نہیں صرف گرد سفر ہے اے یارو کہکشاں ان کی رہ گزر تو نہیں جانے کب ٹوٹ جائے تار نفس رشتۂ عمر معتبر تو نہیں اے حیاتؔ آئینہ ہوں کیا جلوے سب یہاں صاحب نظر تو نہیں

aah be-gaana-e-asar to nahin

غزل · Ghazal

زندگی ایک طلسمات کا آئینہ ہے دن جسے کہتے ہیں وہ رات کا آئینہ ہے جو بھی کہنا ہو تجھے میری طرف دیکھ کے کہہ میرا چہرہ ترے جذبات کا آئینہ ہے شخصیت میں تری اتنی ہی چمک بھی ہوگی جتنا روشن تری خدمات کا آئینہ ہے عہد نو لفظوں کے مفہوم سے واقف ہی نہیں کتنا بے عکس خیالات کا آئینہ ہے اب بزرگوں کی وراثت بھی نہیں ہے محفوظ دھندھلا دھندلا سا روایات کا آئینہ ہے تیرے رخسار کا غازہ ہیں بدلتے موسم زلف برہم تری برسات کا آئینہ ہے

zindagi ek tilismaat kaa aaina hai

غزل · Ghazal

محدود نگاہی کے صنم ٹوٹ رہے ہیں تاریک اجالوں کے بھرم ٹوٹ رہے ہیں اس دور کی بدلی ہوئی رفتار کا عالم شیشوں کی طرح نقش قدم ٹوٹ رہے ہیں تشنہ ہے مرا جام تو کچھ غم نہیں ساقی یہ غم ہے کہ رندوں کے بھرم ٹوٹ رہے ہیں اس راز کو ارباب سیاست سے نہ پوچھو کیوں رابطۂ دیر و حرم ٹوٹ رہے ہیں یہ زیست ہے یا ریت کا کمزور گھروندا بن بن کے یوں ہی صدیوں سے ہم ٹوٹ رہے ہیں حالات کا یہ رخ بھی حیاتؔ آپ سمجھ لیں کیوں ظلم بہ انداز کرم ٹوٹ رہے ہیں

mahdud-nigaahi ke sanam TuuT rahe hain

غزل · Ghazal

فصیل شکر میں ہیں صبر کے حصار میں ہیں جہاں گزر نہیں غم کا ہم اس دیار میں ہیں ہمیں اجال دے پھر دیکھ اپنے جلووں کو ہم آئنہ ہیں مگر پردۂ غبار میں ہیں جلا کے مشعلیں چلتے تو ہوتے منزل پر وہ قافلے جو سویرے کے انتظار میں ہیں ہے اختیار ہمیں کائنات پر حاصل سوال یہ ہے کہ ہم کس کے اختیار میں ہیں

fasil-e-shukr mein hain sabr ke hisaar mein hain

غزل · Ghazal

داستان فطرت ہے ظرف کی کہانی ہے جتنا اتھلا دریا ہے اتنا تیز پانی ہے جن لبوں نے سینچا ہے تشنگی کے خاروں کو اب انہیں کے حصے میں جام کامرانی ہے پھر سے کھلنے والا ہے کوئی تازہ گل شاید باغباں کی پھر ہم پر خاصی مہربانی ہے عقل کب سے بھٹکے ہے نفرتوں کی وادی میں پیار کی مگر اب بھی دل پہ حکمرانی ہے زخم کھاتے رہتے ہیں مسکراتے رہتے ہیں ہم وفا شناسوں کی یہ ادا پرانی ہے برف بن گئے ارماں منجمد ہوئے جذبے زیست کے سمندر میں کتنا سرد پانی ہے اپنے سائے سے ہم خود اے حیات ڈرتے ہیں مصلحت کی دنیا میں کتنی بد گمانی ہے

daastaan-e-fitrat hai zarf ki kahaani hai

Similar Poets